Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • حنا جاوید قتل کیس، ایس ایچ او مدعی فریق کو درخواست ضمانت سے متعلق آگاہ کریں،ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج
    • پیپلز پارٹی صوبوں پر سٹینڈ لے کر زیادہ مضبوط ہوگئی ہے: رانا ثناء اللہ
    • 16 سالہ لڑکے سے بدفعلی اور نازیبا ویڈیو بنانیوالا ملزم گرفتار، تفتیش جاری
    • صادق آباد پولیس کی کارروائی، چیک ڈس آنر کے مقدمہ میں مطلوب اشتہاری گرفتار
    • سی ڈی اے اور جائیکا کے درمیان اسلام آباد کے مربوط واٹر سپلائی، سیوریج اور ڈرینج ماسٹر پلان کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط’
    • کا منشیات اسمگلنگ کیخلاف کریک ڈون 11 کاروائیوں میں 21 ملزمان گرفتارANF
    • 26 نومبر احتجاج کیس،پی ٹی آئی رہنماں اور کارکنان کے وارنٹ گرفتاری جاری
    • پاکستان میں مریضوں کو ضرورت سے دگنی ادویات تجویز کی جا رہی ہیں، تحقیق
    • جی بی 16 دیامر 2 میں پوسٹل بیلٹ کی گنتی کے بعد نتیجہ تبدیل، پیپلزپارٹی کے امیدوار کامیاب قرار
    • بنی پولیس کی کارروائی، ضرر کے مقدمہ میں مطلوب اشتہاری گرفتار
    • ایس ایچ او تلہ گنگ کا تبادلہ انچارج الخدمت سنٹر چکوال کر دیا گیا
    • PTI کے مزید 2کارکن گرفتار’ تعداد 21 ہوگئی
    • پوٹھوہار پریس کلب گوجرخان کے انتخابات،میدان سج ،3رکنی الیکشن بورڈ تشکیل
    • کراچی، پٹرولیم لیوی کیخلاف جماعت اسلامی کا اونٹوں پر سوار ہوکر انوکھا احتجاج
    • کراچی: خوف کی علامت گینگ وار کا اہم کارندہ گرفتار، بھاری مقدار میں منشیات اور اسلحہ برآمد
    • گوجرخان کے علاقے جبر اور گردونواح میں گراں فروشی عروج پر پہنچ گئی
    • چھچھ انٹر چینج کے قریب ٹائر پھٹنے سے کار کو حادثہ، ایک شخص جاں بحق،4افراد زخمی
    • 5G جازکی انکلوژن راکس میں معاونت، خصوصی افراد کے ٹیلنٹ کو خراج تحسین
    • سائیں محمد حسین بالکے کا عرس عقیدت و احترام سے اختتام پذیر
    • سعودی عرب، نیوم بحران کا شکار’ منصوبہ محدود کرنے کیلئے 16ارب ڈالرز خرچ ہونگے
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    کرپشن‘ مرض بڑھتا گیاجوں جوں دوا کی

    By Daily Khabrainجنوری 29, 2022
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    ملک منظور احمد
    تحریک انصاف اور وزیراعظم عمران خان کے عوام سے کیے گئے وعدوں میں سے ایک وعدہ ملک سے کرپشن کے خاتمے کا تھا۔ وزیر اعظم عمران خان نے عوام کو یقین دلایا تھا کہ انھوں نے 22 سال تک جد و جہد کی ہی ملک کو کرپشن سے پاک کرنے اور کرپٹ لوگوں کے خلاف کی ہے اور جیسے ہی وہ بر سر اقتدار آئیں گے ملک سے بڑی کرپشن کا خاتمہ 3ماہ کے اندر اندر کر دیا جائے گا اور یہی بات انہوں نے حالیہ دنوں میں بھی کی ہے کہ ملک سے کرپشن کا خاتمہ 3ماہ میں کر دیا گیا تھا لیکن وزیراعظم کے دعوے تو اپنی جگہ پر ہیں لیکن اگر زمینی حقائق پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہو تا ہے کہ کرپشن میں کمی نہیں آئی ہے بلکہ سرکاری اداروں کا حال تو پہلے سے بھی برا ہو گیا ہے۔ چاہیے بجلی کا میٹر لگوانا ہو یا پھر گیس کے محکمے سے کوئی کام پڑ جائے یا پھر پولیس سے واسطہ پڑے عوام کے جائز کام بھی کرپشن کے بغیر نہیں ہو تے ہیں اور عوام پہلے سے بھی زیادہ رل رہے ہیں۔
    عالمی ادارے ایمنسٹی انٹر نیشنل کی جانب سے حالیہ دنوں میں دنیا میں کرپشن کے تاثر کے حوالے سے ایک فہرست کا اجراء کیا گیا جو کہ ہر سال کیا جاتا ہے اور اس سال بھی کیا گیا لیکن فرق یہ ہو ا کہ اس سال پاکستان کی رینکنگ میں ریکارڈ 16درجے کی تنزلی دیکھی گئی اور اس رپورٹ نے ملک کی سیاست میں ایک بھونچال سا بر پا کر دیا ہے۔اپوزیشن اس رپورٹ کو لے کر حکومت کو ہدف تنقید بنائے ہو ئے ہے تو دوسری طرف حکومت کے وزراء حزب معمول اس حوالے سے عجیب و غریب بیان بازی کرتے ہوئے پائے جارہے ہیں۔ وفاقی وزیر فواد چودھری نے پہلے تو اس رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس رپورٹ کا کوئی سر پیر نہیں ہے اور پھر اس کے بعد یہ مؤقف اپنایا کہ رپورٹ میں مالی کرپشن کی بات نہیں کی گئی ہے بلکہ رول آف لاء کی بات ہوئی ہے۔ بہرحال حکومتی وزراء نے اس رپورٹ کو ہر طرح سے بے معنی قرار دینے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن کیا کیا جائے جیسا کہ کہا جاتا ہے یاد ماضی عذاب ہے یا رب میڈیا نے ٹرانسپیرنسی انٹر نیشنل کی ماضی کی رپورٹس کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان کے بیانا ت چلا چلا کر ان کو اس حوالے سے ان ہی کا ماضی کا مؤقف یاد دلوایا۔سمجھ نہیں آتا کہ کیا حکومتی اکابرین واقعی اپنی باتوں کو حقیقت مانتے ہیں یا پھر واقعی ان کا زمینی حقائق کے ساتھ کو ئی تعلق نہیں ہے۔کیا وہ اتنے ہی بے خبر ہیں یا پھر ان کو درحقیقت معلوم ہی نہیں کہ ملک میں کیا ہو رہا ہے؟ بہر حال اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس رپورٹ سے وزیر اعظم اور حکومت کے کرپشن کے بیانیہ کو بہت نقصان پہنچا ہے اور پہنچنا بھی تھا کیونکہ اب ان کو حکومت میں آئے ہوئے پونے چار سال کے قریب کا عرصہ گزر چکا ہے اور اتنے عرصے کے بعد بھی کسی سیاست دان سے کوئی ریکوری نہیں کی جاسکی ہے۔
    سابق مشیر احتساب شہزاد اکبر کی سربراہی میں قائم کیے جانے والا ایسٹ ریکوری یونٹ قومی خزانے سے 9کروڑ سے زائد رقم استعمال کرنے کے باوجودکچھ بھی ریکورنہیں کر سکا اور اب اس وقت شہزاد اکبر کا جانا ازخود حکومت کی ناکامی ہے لیکن بہرحال ذرائع بتاتے ہیں کہ وزیر اعظم پرعزم ہیں، وہ الیکشن سے پہلے پہلے عوام کو بتانا چاہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے اس وعدے پر ڈلیور کیا ہے اور اسی وجہ سے شاید اب نئے مشیر احتساب مصدق عباسی کا تقرر کیا گیا ہے لیکن میں یہ ضرور کہنا چاہوں گا کہ اب شاید اس حوالے سے کافی دیر ہو چکی ہے اور اب وقت حکومت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے جیسا کہ مسلم لیگ (ق) کے سربراہ اور حکومت کے اتحادی چودھری شجاعت حسین نے اس حوالے سے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ حکومت نواز شریف کو واپس لانے کی کوششوں کے بجائے اپنی گورننس پر توجہ دے اسی طرح اس کو عوامی پذیرائی مل سکتی ہے لیکن اس حکومت کے ماضی کے ٹریک ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے ایسا ہونا مشکل ہی نظر آتا ہے۔
    اگر ملک میں گزشتہ ساڑھے تین سال سے ہونے والے احتساب کے عمل کا جائزہ لیا جائے تو ہمیں نظر آتا ہے کہ اپوزیشن کو ہی اس احتسابی عمل کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ کچھ حکومتی ارکان بھی اس عمل کے نرغے میں آئیں ہیں لیکن زیادہ تر اپوزیشن کے رہنماؤں کو ہی نشانہ بنایا گیا اب تو حکومت کے چاہنے والے بھی کئی لو گ کہہ رہے ہیں کہ احسن اقبال،شاہد خا قان عباسی اورمفتاح اسماعیل جیسے رہنماؤں کے خلاف کمزور کیسز بنائے گئے اور اس طرح کے کاموں سے احتسابی عمل کو ہی نقصان پہنچا ہے۔ وزیراعظم ماننے کو تیار نہیں ہیں کہ ان کے نیچے کام کرنے والے سرکاری اداروں کا عوام کے ساتھ ایک استحصالی تعلق ہے جو کہ ان کے دور میں مزید بگڑ گیا ہے اور عوام اور زیادہ رل رہے ہیں،اپنی کمزوریوں کو سدھارنے کے لیے سب پہلا قدم ان کا اعتراف ہوتا ہے اگر تسلیم ہی نہ کیا جائے کہ کوئی مسئلہ موجود ہے تو اس کا حل تو پھر بڑی دور کی بات ہو گی۔موجوہ حکومت جتنی جلد ہی اس بات کو سمجھ لے ان کے لیے بہتر ہو گا اور غلطی کو تسلیم کرکے ہی بہتر انداز میں آگے بڑھنے کے راستے تلاش کیے جاسکتے ہیں۔
    (کالم نگارسینئرصحافی اورتجزیہ کارہیں)
    ٭……٭……٭

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      کیا یہ واقعی عوام دوست بجٹ ہے یا صرف اعداد و شمار کا کھیل؟

      فیفا ورلڈ کپ، 48 ٹیمیں ایک خواب

      عہدہ ختم تو اہمیت ختم

      تازہ ترین

      لاہور میں کہیں ہلکی، کہیں زیادہ بارش اگلے 3 دن مزید بارش

      سابق پاکستانی ہاکی کپتان خالد محمود 84 برس کی عمر میں انتقال کرگئے

      27 ستمبر احتجاج؛ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی ملاقات کیلیے رابطے، سیاسی سرگرمیاں تیز

      خوبصورت بننے کا شوق جان لیوا ثابت ہوا، کاسمیٹک سرجری کے دوران معروف انفلوئنسر ہلاک

      سونے کی قیمت میں ایک بار پھر کمی، عالمی مارکیٹ میں قیمت 4,400ڈالر سے نیچے

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.