مسلم لیگ ن کو انتخابی نتائج سے دھچکا لگا ہے اور کافی زیادہ لگا ہے۔یہ مینڈیٹ انہوں نے سوچا تھا نہ ہی ان کو امید تھی۔نوازشریف شاید اس بات کا ادراک ہی نہیں کرسکے کہ یہ والا الیکشن نہ کسی کارکردگی پر لڑاجارہا تھا اور نہ ہی کسی اور بیانیے یا منشور کی اہمیت تھی ۔ یہ الیکشن مبینہ طوپر اسٹیبلشمنٹ کے خلاف تھا اور اسٹیبلشمنٹ کے جس طرف بھی ہونے کا تاثر تھا اس کے خلاف ووٹ ڈلنا یقینی تھا۔ ایک سوال یہاں آجاتا ہے کہ پھر پیپلزپارٹی اورسندھ میں ایسا کیوں نہیں ہوا۔اس کا جواب سادہ الفاظ میں تو یہ ہوسکتا ہے کہ اصل جنگ کا میدان اب الیکشن میں پنجاب ہی ہوتاہے یہی پنجاب مرکز میں حکومت سازی کا فیصلہ کرتاہے اور ن لیگ پنجاب کی پارٹی ہے۔دوسری بات یہ بھی کہ پیپلزپارٹی اور بلاول نے اپنی الیکشن مہم ہی یہاں سے شروع کی کہ ان کو ن لیگ سے لیول پلینگ فیلڈ نہیں مل رہی یعنی انہوں نے یہ تاثر دیا کہ اس الیکشن میں اسٹیبلشمنٹ کی لاڈلی جماعت مسلم لیگ ن ہی ہے اور پیپلزپارٹی تو خود لیول پلینگ کے لیے محنت کررہی ہے جبکہ مسلم لیگ ن ایسے تمام ترالزامات یا طعنوں کے جواب میں خاموش رہی جس سے ووٹرزکو یہ تاثر ملااور وقت کے ساتھ مضبوط بھی ہوتا گیا کہ ن لیگ کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ ہے اوراوپر سے رہی سہی کسر’’ساڈی گل ہوگئی اے‘‘ والے نعرے نے پوری کردی ۔
ایک بات اور بھی کہ ن لیگ کو قومی اسمبلی میں تو دھچکا لگا لیکن پنجاب میں ن لیگ صوبائی اسمبلی بچانے میں کامیاب رہی ۔اس وقت پنجاب میں ن لیگ اکیلے حکومت بنانے کی پوزیشن میں آچکی ہے ۔اس نے پنجاب میں ایک سو تیس کے قریب نشستیں جیتی تھیں اور یونہی مریم نوازوزیراعلیٰ نامزد ہوئیں اور ن لیگ نے پنجاب میں حکومت بنانے کا اعلان کیا تو آزادجیتنے والوں کی پہلی ترجیح پنجاب میں ن لیگ بنی اور اب تک کافی زیادہ تعداد میں آزادن لیگ میں شامل ہوچکے ہیں۔قومی اسمبلی میں آزادجیتنے والے جو پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ تھے وہ اپنی پارٹی کے ساتھ ابھی تک کھڑے ہیں۔قومی اسمبلی میں کسی بھی جماعت کے پاس ایسامینڈیٹ نہیں ہے کہ وہ حکومت بناسکے۔پیپلزپارٹی کی خواہش اور کوشش تھی کہ شاید پی ٹی آئی ان سے بات کرے گی تو اس بار ان کو ن لیگ کے بجائے نئی پارٹی کے ساتھ نئے سرے سے حکومت کا تجربہ ہوگا ۔اگر ایسا ہوجاتا تو یہ دونوں جماعتوں کے لیے ہی اچھا رہتالیکن بلاول کی اس خواہش پر عمران خان نے یہ کہہ کر پانی پھیر دیا کہ وہ ن ،پیپلزپارٹی اور ایم کیوایم سے کسی صورت بات نہیں کریں گے۔اس اعلان کو بلاول نے اپنی توہین گردانا اور فوری پریس کانفرنس کرکے ن لیگ کی حمایت کا اعلان کرکے پس منظر میں چلے گئے ۔اس اعلان کے بعد ن لیگ بھی حکومت سازی کے شادیانے بجاتے ہوئے سامنے آگئی اور شہبازشریف کی نامزدگی ہوگئی ۔ نوازشریف جو چوتھی بار وزیراعظم بننے کے خواہشمند تھے اور اپنی آخری سیاسی اننگز کو یادگار بناناچاہتے تھے ناکام ہوگئے۔
شہبازشریف کا وزیراعظم بننا اور ن لیگ کا اقتدار میں آنا بظاہر تو آسان لگ رہا تھا لیکن ایسے مواقع پر سپورٹ فراہم کرنے والی پارٹی کی فرمائشی فہرست ایسی طویل اور ناقابل عمل ہوجاتی ہے کہ آپ کا لالچ آپ کو اندھے گڑھے میں کودنے پر مجبورکردیتا ہے ۔پیپلزپارٹی کی ’’وش لسٹ‘‘ ایسی ہے ۔پیپلزپارٹی ایسی شرائط پر شہبازشریف کو وزیراعظم بنانا چاہتی ہے کہ فوائد سارے اس کو ملیں اور ناکامیوں کا بوجھ سارا ن لیگ اپنی کمرپر لادتی پھرے۔پہلے بھی ایسا ہی ہوا کہ سولہ ماہ اقتدار میں شریک رہی لیکن اس کے بعد ناکامیوں اور مہنگائی کی ذمہ داری ن لیگ پر ڈال کر الیکشن مہم چلائی اور سولہ ماہ کی ناکام حکومت کا نقصان ن لیگ نے اٹھایا۔
ن لیگ کو ایک توہرکام کی جلدی بہت ہوتی ہے ۔پہلے بھی عدم اعتماد کے بعد بھی کچھ ایسی ہی جلدی تھی ۔ریاست بچانے کا نعرہ مارکرالیکشن کی بجائے حکومت کرنے کا فیصلہ لیا اورریاست بچ گئی ان کی سیاست کا جنازہ نکل گیا۔اس وقت اگر الیکشن کروالیتے توپی ٹی آئی کا جو حال تھا مہنگائی کی وجہ سے وہ سارے ضمنی الیکشن بری طرح ہاررہی تھی جنرل الیکشن بھی اسی نے ہارنا تھا ایسی صورت میں ن لیگ شاید دوبارہ آسانی سے اقتدار حاصل کرلیتی اور اکیلی حکومت بنانے کی پوزیشن میں آجاتی لیکن وہ فیصلہ اس کے گلے پڑگیا۔اب پھر نوازشریف نے وکٹری اسپیچ دے ماری حالانکہ اگر سمجھداری کرتے تو اس دن اپنی تقریرمیں اپنی ہار تسلیم کرتے اور ووٹرزکا شکریہ اداکرتے کہ انہوں نے پی ٹی آئی کے بعد ان کوسب سے زیادہ ووٹ دیا اور ساتھ ہی اپنی جماعت کو پیچھے رکھ کر پی ٹی آئی کو کہتے کہ وہ ملک میں حکومت سازی کی کوشش کریں کیونکہ یہ ان کا حق ہے۔لیکن نوازشریف سے جو لوگ بڑے ہونے کی توقع لگائے بیٹھے ہیں ، نوازشریف ان کو مسلسل مایوس کررہے ہیں۔نوازشریف ہرحال میں عمران خان کو سیاسی طوپرپر ختم کرنے اس کی پارٹی سے انتقام لینے پر مصر ہیں۔وہ چاہتے تو واپس آکر ملک میں مفاہمت کا جھنڈااٹھا سکتے تھے اس سے ان کی پارٹی کا سوفیصد فائدہ ہوناتھا۔لیکن انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ پی ٹی آئی اسٹیبلشمنٹ کا مسئلہ ہے اس لیے وہ جانے اور پی ٹی آئی جانے۔وہ یہ بھی گردان بیٹھے تھے کہ نوازشریف کو وزیراعظم بنوانا اور ن لیگ کو اقتدار دینا ریاست کی مجبوری ہے اس لیے وہ ’’ساڈی گل ہوگئی ‘‘والا بیانیہ بھی باہر نکالا گیا لیکن اس ملک میں کسی کی کسی سے کوئی گل بات نہیں ہوتی ۔یہاں دس دس سال کے منصوبے ’’وڑ‘‘جاتے ہیں ۔پاکستان کی سیاست میں اگر کچھ حقیقت ہے تو وہ صرف ’’لمحہ موجود‘‘ ہے اس کے علاوہ باقی کسی بھی وقت کچھ بھی ممکن۔
اب ن لیگ کو حکومت کی تپش محسوس ہونے لگی ہے تو اس نے بھی پیچھے ہوکر جائزہ لیا ہے ۔اس جائزے کے بعد یہ پیغام دیا کہ ن لیگ بھی اس طرح حکومت سازی نہیں کرنا چاہتی جس طرح پیپلزپارٹی کی خواہش ہے۔جاتی امراکے اجلاس میں یہ کہاگیا کہ اگر پیپلزپارٹی صرف وزیراعظم بنواکر پیچھے بیٹھ کر تماشادیکھنے کی خواہشمند ہے یا صرف آئینی عہدوں کے بدلے ایوان میں حکومت بنوانے کی ذمہ داری کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں لینا چاہتی تو ایسی صورت میں ن لیگ بھی حکومت بنانے میں پہل نہیں کرے گی۔یہ سوچ اور فیصلہ پاپولر فیصلہ ہے کہ ایسا تو بالکل نہیں ہونا چاہئے کہ ایک پارٹی ایسی حکومت بنائے جس کے گرائے جانے کی چابی کسی اور کے پاس ہو۔وہ حکومت نہ قانون سازی کرسکے نہ کوئی مشکل فیصلہ لے سکے ۔ملک بحرانوں کا شکار ہے اس کویہاں سے نکالنے کے لیے معاشی اصلاحات کی ضرورت ہے جو واضح مینڈیٹ کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے ۔وقت گزاری کے لیے حکومت لینا اور اقتدار انجوائے کرنا ہوتو حکومت بنانا درست ہوسکتا ہے لیکن اگرملک کو یہاں سے آگے لے کرجانا ہے تو ایسی کمزورحکومت بناناایک مشکل فیصلہ ہوگا اور ن لیگ کا ایسی صورتحال پر تحفظات کا اظہارکرنا اور حکومت سازی کے لیے پیپلزپارٹی کی مکمل شمولیت کی شرط رکھنا بالکل جائز ہے۔اور معاملہ صرف مرکز کا نہیں بلکہ پنجاب کا بھی ہے یہاں بھی پیپلزپارٹی اپنا حصہ چاہتی ہے۔
ویسے تو ن لیگ کی طرف سے یہ بیانات پیغام ہے کہ انہیں اقتدار دینا ہے تو اس کی کوئی واضح شکل بھی نکالی جائے ۔لیکن اگر ن لیگ حقیقت میں حکومت سازی سے پیچھے ہٹ جاتی ہے تو پھر کیا ہوگا؟ایک صورت تو یہ ہوسکتی ہے کہ جس طرح دوہزار دو میں پیٹریاٹ بنائی گئی تھی اسی طرح کا کوئی ارینجمنٹ کرکے آزادلوگوں کا کوئی اسمبلی میں آزاد پارلیمانی گروپ بناکر اس کو حکومت میں شریک کردیا جائے۔اس صورت میں بھی حکومت کمزورہی رہے گی ۔دوسری صورت یہ ہے کہ آزادلوگوں میں سے تیس یاچالیس لوگوں کو مسلم لیگ ن میں شامل کروادیا جائے ۔اس طرح ن لیگ کو سادہ اکثریت ملے اور وہ ایم کیوایم کے ساتھ مل کر حکومت بنالے۔اگر ایسا بھی نہیں ہوتا تو پھر بہتر ہے وفاق کے لیے دوبارہ انتخاب کروالیا جائے تاکہ واضح مینڈیٹ کسی ایک جماعت کومل جائے اور ملک میں ایک مستحکم حکومت بن سکے۔راولپنڈی کے کمشنرلیاقت علی چٹھہ نے کل اعتراف جرم کرتے ہوئے دھاندلی کرنے اوراپنے ماتحت عملے سے دھاندلی کروانے کااعتراف کرلیا ہے۔اس اعتراف کے بعد کمشنر صاحب کا مکمل ٹرائل ہونا لازمی ہے تاکہ ان کو احکامات دینے والے بھی سامنے آئیں۔اور اب جس طرح الیکشن کی ساکھ پر سوال آگئے ہیں اس کے بعد بہتر بھی یہی ہے کہ الیکشن دوبارہ کروالیے جائیں۔

