Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • سعودی عرب کی ریاض ایئر 14 اگست سے اسلام آباد اور ریاض کے درمیان روزانہ پروازیں شروع کرے گی
    • "اگر مجھے پسند نہیں کرتے تو زیادتی بھی نہ کریں” — خوشدل شاہ کا سلیکشن میں غیر یقینی صورتحال کے درمیان ملک چھوڑنے کا اشارہ
    • بابر اعظم کی شاندار حکمرانی! پاکستان کی آخری 9 بیرونِ ملک ٹیسٹ فتوحات
    • پاکستان ایران سے 100 میگاواٹ سے زائد بجلی درآمد کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے
    • پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی معاہدے پر دستخط
    • اداکارہ نمرہ خان کی دوسری شادی بھی طلاق پر ختم، ڈاکٹر اعجاز وریس نے تصدیق کر دی
    • ڈی آئی جی لاہور کا نیا حکم، مغرب کے بعد خواتین کا تھانوں میں داخلہ ممنوع
    • سی این این انٹرویو میں عمران خان کے بیٹوں نے اُن کی صحت پر نئے خدشات کا اظہار کر دیا
    • موٹروے پر KFC اور ہارڈیز کے آؤٹ لیٹس سیل، معائنے میں سڑا ہوا کھانا برآمد
    • پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیاندفاعی معاہدے پر آج دستخط کئے جائیں گے
    • آپریشن ردالفتنہ 3 ‘ بلوچستان میں12خوارجی جہنم واصل
    • پی ٹی آئی رہنما عامر ڈوگر کی سپیکر ایاز صادق سے ملاقات’حکومت نے تحریک انصاف کو دوبارہ مذاکرات کی دعوت دے دی
    • بابر اعظم نے 10 پلیئر آف دی سیریز ایوارڈز جیت کر عمران خان کا تاریخی ریکارڈ برابر کر دیا۔
    • پاکستان کے خلاف پہلے دو ٹیسٹ میچز کے لیے انگلینڈ کا اسکواڈ سامنے آ گیا
    • یوگنڈا کی قومی فٹبال ٹیم کے کپتان اسٹریٹ گینگ کے حملے میں جاں بحق
    • مصری فٹبال اسٹار محمد صلاح نے ترک کلب طرابزون اسپور کے ساتھ معاہدہ کر لیا۔
    • فلسطین کی آزادی کے لیے مسلم ممالک کو متحد ہو کر کردار ادا کرنا ہوگا: اسحاق ڈار
    • وزیراعظم محمد شہباز شریف آج سرکاری دورے پر سعودی عرب روانہ ہو گئے
    • عوامی مفاد کے پیشِ نظر کویت میں ایرانی نجی اسکول کی بندش کا فیصلہ۔
    • ویسٹ انڈیز کے خلاف پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ میں 26 سالہ ناقابلِ شکست سیریز برقرار۔
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    عالمی مالیاتی نظام میں ڈالر قدر کھونے لگا، متعدد ممالک کا امریکا پر عدم اعتماد

    By Khabrain Newsدسمبر 30, 2024
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    عالمی مالیاتی نظام میں ڈالر بتدریج اپنی قدر و اہمیت کھورہا ہے جس کی وجہ متعدد ممالک کی جانب سے امریکا پر بڑھتا ہوا عدم اعتماد اور دنیا میں ڈالر پر امریکی تسلط سے نکلنے کی کوششیں ہیں اور اس کے علاوہ دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث اب عالمی تجارت کو دیگر کرنسیوں میں کرنے سے بھی فوائد اور منافع کمایا جاسکتا ہے۔

    آئی ایم ایف کی طرف سے شائع کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق عالمی زرمبادلہ کے ذخائر میں امریکی ڈالر کا حصہ 29 سال کی کم ترین سطح پر آ گیا,اگرچہ ڈالر دھیرے دھیرے اپنی گرفت کھو رہا ہے لیکن یہ اپنی لیکویڈیٹی، استحکام اور قائم شدہ میکانزم کی وجہ سے اب بھی مضبوط ہے۔

    RT  کے مطابق، امریکی قرضوں میں اضافے اور واشنگٹن کی اپنے حریفوں بشمول روس پر عائد پابندیوں کے خدشات کے درمیان حالیہ برسوں میں دنیا کی غالب کرنسی کے طور پر ڈالر کی دیرینہ حیثیت خطرے میں پڑ گئی ہے۔

    RT  کے مطابق امریکی قرضوں میں اضافے اور واشنگٹن کی اپنے حریفوں بشمول روس پر عائد پابندیوں کے باعث حالیہ برسوں میں دنیا کی غالب کرنسی کے طور پر ڈالر کی دیرینہ حیثیت خطرے میں پڑ گئی ہے۔

    اکتوبر میں کازان میں برکس سربراہی اجلاس سے خطاب میں روسی صدر ولادیمیر پوتن نے خبردار کیا کہ واشنگٹن کی جانب سے پابندیوں کے ذریعے ڈالر کو ہتھیار بنانا اور مغربی مالیاتی نظام تک ممالک کی رسائی سے انکار ایک ’بڑی غلطی تھی جو انھیں ’دوسرے متبادل تلاش کرنے پر مجبور کرے گی، جو ہو بھی رہا ہے۔

    اقتصادی اور عوامی پالیسی کے ماہر، کارپوریٹ اور مینجمنٹ کنسلٹنگ فرم کے ڈائریکٹر قنیت خلیل اللہ نے کہا کہ عالمی معیشت میں ڈالر کی کمی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے کیونکہ ممالک اپنی تجارت اور زرمبادلہ کے ذخائر کو متنوع بنا رہے ہیں۔

    یہ رجحان ڈالر کو ہتھیار بنانے کے لیے امریکی اقدامات، جیسا کہ پابندیاں عائد کرنا اور ذخائر کو منجمد کرنا، جیسا کہ روس کے ساتھ دیکھا جاتا ہے۔

    ان اقدامات سے اعتماد ختم ہو گیا۔ جغرافیائی ،سیاسی خطرات اور پابندیوں کے خدشات کو کم کرنے کے لیے ممالک امریکی ڈالر سے دور ہو رہے ہیں، ڈالر کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے امریکی رجحان نے اقوام کو خوف زدہ کر دیا ہے، جس کی وجہ سے وہ مالیاتی آزادی حاصل کرنے کی راہ پر گامزن ہیں۔

    مزید برآں ڈالر پر انحصار ممالک کو امریکی فیڈرل ریزرو کی پالیسی کے اتار چڑھاؤ سے دوچار کرتا ہے جس سے شرح مبادلہ اور تجارتی توازن متاثر ہوتا ہے۔ ابھرتی ہوئی معیشتیں علاقائی شراکتیں تشکیل دے رہی ہیں اور یوآن یا یورو جیسی متبادل کرنسیوں کو اپنا رہی ہیں۔

    ڈیجیٹل کرنسیاں اور مرکزی بینک کی ڈیجیٹل کرنسیز (CBDCs) مزید قوموں کو ڈالر پر مبنی مالیاتی نظام کو نظرانداز کرنے، خودمختاری کو محفوظ بنانے اور مقامی تجارتی تصفیوں میں سہولت فراہم کرنے کے قابل بنارہی ہیں۔

    خلیل اللہ نے کہا ’عالمی ذخائر میں ڈالر کا حصہ تین دہائیوں کی کم ترین سطح پر گرنا عالمی مالیاتی منظر نامے میں وسیع تر تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ اگرچہ یہ اشارہ غلبہ کو کم کرتا ہے، ڈالر کی حیثیت بتدریج گر سکتی ہے لیکن مستقبل قریب میں عالمی معیشت میں مرکزی حیثیت رکھے گی۔

    ستمبر کے اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ BRICS گروپ میں ماسکو اور اس کے اتحادی 65 فیصد باہمی تجارتی تصفیوں میں قومی کرنسیوں کا بہتر استعمال کر رہے ہیں۔

    بین الاقوامی تجارتی ماہر اور اقتصادی تجزیہ کار عادل ناخدا نے کہا کہ پوری تاریخ میں ڈالر کی کمی کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں، جس کا آغاز ین، پھر یورو، یوآن اور اب BRICs کی کرنسی سے ہوا ہے۔

    ین اور یورو نے بہت کم اثر ڈالا ہے، عالمی منڈی میں کرنسی کی دستیابی ڈالر کی کمی کا ایک اہم عنصر ہے۔

    امریکا کی طرف سے پیدا ہونے والا تجارتی خسارہ غیر ملکی منڈیوں میں امریکی ڈالر کی زیادہ سپلائی کا نتیجہ ہے جیسا کہ اسے کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، اس کے نتیجے میں سپلائی کم ہو سکتی ہے اور اس کے نتیجے میں اس کا غلبہ کم ہو سکتا ہے۔

    ایک بین الاقوامی کرنسی نہ صرف آسانی سے دستیاب ہونی چاہیے بلکہ اس میں پالیسیوں کے ذریعے حکومتی مداخلت بھی کم ہونی چاہیے۔

    یوآن بہت زیادہ ریاستی کنٹرول میں ہے، جب کہ دیگر کرنسیوں کو اہمیت حاصل ہونے کا امکان نہیں ہے۔

    عادل ناخدا کا کہنا تھا کہ ’ہم دیکھ سکتے ہیں کہ باہمی معاہدے زیادہ عام ہوتے جا رہے ہیں کیونکہ یہ تیسری کرنسی میں شامل خطرے کو کم کرتا ہے۔

    تاہم ان ممالک کے درمیان تجارت جن میں BRIC شامل نہیں ،اب بھی ڈالر کے ساتھ جاری رہنے کا امکان ہے جب یہ ممالک دوسری تیسری کرنسیوں کو اپناتے ہیں تو کیا ہم غیر ڈالر پر مبنی تجارت کو مزید نمایاں ہوتے دیکھیں گے غور کریں کہ ڈالر غیر رسمی تجارت میں کس طرح رائج ہے۔

    Khabrain News

    Keep Reading

    سام سنگ دنیا کی سب سے زیادہ منافع بخش کمپنی بننے کے قریب

    پاؤنڈ کی قدر میں کمی، 365 روپے تک گر گیا، یورو 380 روپے پر مستحکم

    پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں تقریباً 15 ہزار روپے کی بڑی کمی

    تازہ ترین

    ہاکی ورلڈ کپ 2026: نیدرلینڈز، بیلجیم اور پاکستان نے اپنے اپنے قومی اسکواڈز کا اعلان کر دیا

    جماعتِ اسلامی کے امیر العظیم انتقال کر گئے

    عمران خان سے مذاکرات جاری، نبیل گبول کا بڑا دعویٰ

    فیفا ورلڈکپ: انگلینڈ کو شکست، ارجنٹائن فائنل کا ہیرو بن گیا

    حکومت کی طرف سے عوام کو ایک اور تحفہ پیٹرول پھر مہنگا

    Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    • کالم
    • صحت
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • بزنس
    • شوبز
    • کھیل
    • انٹر نیشنل
    • پاکستان
    © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.