Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • سعودی عرب نے نئے عمرہ سیزن کے لیے ویزا درخواستوں کا آغاز کر دیا
    • ایران نے یقین دہانی کرائی وہ ایٹمی ہتھیار نہیں خریدے گا، امریکی صدر
    • عرفات منہاس کا پہلے ہی میچ میں 5 وکٹیں لیکر 42 سال پر انار یکارڈ توڑ دیا
    • حج مشکل نہیں تھا، حج کے دوران سیلفیوں نے تھکا دیا: وسیم اکرم
    • بجٹ کے بعد کون سے موبائل فون سستے ہو رہے ہیں؟ اہم خبر
    • ایسی کینسر ویکسین تیار جو مریضوں کی رسولی کو مکمل طور پر ختم کر دیتی ہے
    • معروف بھارتی اداکار اجیت کمار کی والدہ انتقال کر گئیں
    • ترکیہ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی
    • کراچی: آج درجۂ حرارت 46 سے 47 ڈگری تک محسوس ہونے کا امکان
    • قیمتوں میں کمی کے باوجود پیٹرول اور ڈیزل اب بھی مہنگے
    • بریسٹ کینسر کے علاج میں بڑی پیشرفت، نیاجینیاتی ٹیسٹ کیموتھراپی سے نجات دلانے میں معاون
    • ٹرمپ کی صحت سے متعلق میڈیکل رپورٹ سامنے آگئی، سوجی ٹانگوں اور زخمی ہاتھوں کی حقیقت بھی واضح
    • کراچی سے متعلق مرتضیٰ وہاب کے بیان پر طلحہ انجم کا کرارا جواب
    • پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں کمی کا اعلان
    • نایاب مائیکرو بلیو مون کب نظر آئے گا؟ ماہرین فلکیات نے تفصیلات جاری کر دیں
    • امریکا آئندہ ماہ نیٹو کے سامنے فوجی انخلا کی تجاویز رکھے گا، رپورٹ
    • ایران جنگ کی وجہ سے ایندھن کی بڑھتی قیمتیں، امریکی شہریوں کو 59 ارب ڈالر اضافی اداکرنے پڑگئے
    • معروف گلوکار راحت فتح علی خان کو عدالت سے بڑا ریلیف مل گیا
    • سرکاری حج اسکیم کے حاجیوں کی واپسی کے انتظامات مکمل، 31 مئی کو پروازوں کا آغاز
    • کینیڈی سینٹر پر ٹرمپ کی مداخلت کو دھچکا، عدالت نے نام ہٹانے کا حکم دے دیا
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    ضیاشاہد مرحوم (تمغہ امتیاز)کی چوتھی برسی – طاقتوروں کے سامنے ایک دیوار

    By Khabrain Newsاپریل 12, 2025
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    آج خبریں میڈیاگروپ کے بانی وقائد (تمغہ امتیاز)ضیاشاہد کو ہم سے بچھڑے چار سال ہو چکے ہیں۔ آج کا دن صحافتی اعتبار سے تاریخی دن ہے۔ ضیا شاہد مرحوم نے کئی ادوار میں نشیب و فراز بھی دیکھے لیکن ان کی رہنمائی آج تک ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ بااثر طبقات جاگیردار وڈیرے بیوروکریسی، کرپٹ عناصر اپنے مفادات کی ترجیح کو اولیت دیئے ہوئے ہیں۔ مظلوم اور بے بس عوام کی کوئی شنوائی نہیں۔ سیاستدانوں کی مصلحتیں اپنی جگہ زمینی و حقیقی دانش سے بے خبر تمام با اثر طبقات بے بس افراد کی آواز بننے کے بجائے ظلم و زیادتی کرنے والوں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ ضیا شاہد صاحب سے میرا تعلق 1982 سے ہے۔ انہوں نے روزنامہ نوائے وقت کراچی میں ریذیڈنٹ ایڈیٹر کے طور پر جوائن کیا۔ چیف ایڈیٹر نوائے وقت گروپ مجید نظامی صاحب نے انہیں خصوصی طور پر اس ذمہ داری پرتعینات کر کے لاہور سے بھیجا تھا۔ نوائے وقت کو کراچی سے اجراہوئے تین سال ہوئے تھے۔ ان تین سالوں میں کوششوں کے باوجود ممکنہ کامیابی حاصل نہ ہو سکی جس کے بعد ضیا شاہد کو لاہور سے کراچی بھیجا گیا۔ اپنی فیملی کے ہمراہ کراچی شفٹ ہوگئے، میں خود بھی نوائے وقت کراچی سے منسلک تھا۔ ذمہ داری سنبھالنے کے بعد ان سے دفتری کام کے باعث رابطہ رہا جو مسلسل ان کے بنائے گئے ادارے خبریں اور خبریں کے چیف ایڈیٹر امتنان شاہد صاحب سے یہ جاری ہے۔ خبریں سے مسلسل 32 سال اور ذاتی روابطہ جو ایک فیملی کی طرح ہے 42 سال مکمل ہورہے ہیں جو میرے لئے باعث اعزاز و فخر ہے۔ 1979سے اجرا ہو نے والے نوائے وقت کراچی کو ان تینوں سالوں میں مسلسل کوششوں کے باوجود وہ مقام حاصل نہ ہو سکا تھا جس کی مجید نظامی صاحب نے توقع کی تھی۔ ان کی مایوسی میں اضافہ ہوا تو انہوں نے ضیا شاہد کو نوائے وقت میں ریذیڈنٹ ایڈیٹر کی حیثیت سے کراچی بھیجا۔ یہ اپنی فیملی کے ہمراہ کراچی شفٹ ہوگئے ان کی رہائش PECHS بلاک 6 میں تھی ان سے میرا رابطہ دفتر کے سلسلہ میں شروع ہوا جس کا تسلسل آج بھی ہے۔ چیف ایڈیٹر خبریں گروپ امتنان شاہد صاحب نے اس سلسلے کو جاری رکھا ہوا ہے۔ ضیا شاہد صاحب نے کراچی نوائے وقت میں جس بھر پور محنت لگن سے فرائض منصبی ادا کئے، اخبار میں نئے نئے موضوع خصوصی طور پر سندھ اور اندرون سندھ کے مسائل کو اجاگر کر کے حکمرانوں کی توجہ مبذول کرائی، اخبار نے کراچی سمیت سندھ بھر میں مقبولیت کی مثال قائم کی لیکن کچھ عرصے بعد یہ لاہور منتقل ہوگئے۔ انہوں نے لاہور سے شائع جنگ کے اجرا میں اہم ذمہ داری پر کام شروع کر دیا چند روز میں ہی روزنامہ جنگ نے اپنی سرکولیشن میں بے تحاشہ اضافہ کر دیا۔ ضیا شاہد کا یہ صحافتی پیشہ ورانہ انداز تھا یہ کسی غلط خبر یا غیر معیاری مواد پر سمجھوتہ نہیں کرتے تھے نہ ہی اس بارے مصلحتوں کا شکار ہوتے۔ انہوں نے یہاں سے علیحدگی اختیار کرلی۔ اس وقت کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے بھی بہت قریب تھے ان کا بااعتماد حضرات میں شمار ہوتا تھا۔ وزیراعظم نے اپنی سیاسی جماعت کے MNA اکبر بھٹی کا میڈیسن کے بزنس سے تعلق تھا کہا آپ ضیا شاہد کو Engage کریں اور ایک نیا اخبار نکالیں جس کے بعد انہوں نے روزنامہ پاکستان کے نام سے اخبار کا اجراکیا جس نے فوری طور پر ہی میڈیا صنعت میں اپنا مقام پیدا کر لیا۔ یہاں ایم این اے جن کا صحافت سے کوئی تعلق نہیں تھا اور میڈیسن کا بزنس تھا غیر ضروری غیر پیشہ وارانہ صحافتی ضوابط کے برعکس مداخلت شروع کر دی تو ضیا شاہد نے اس اخبار سے بھی علیحدگی اختیار کرلی اس کی وجہ ایم این اے کی مداخلت غیر پیشہ ورانہ طور پر اتنی زیادہ ہو گئی جو کسی بھی لحاظ سے صحافتی اقدار کے قریب تر نہ تھی جس کی وجہ سے ضیا شاہد کو علیحدگی کا انتہائی اہم فیصلہ کرنا پڑا۔ میرا ضیا شاہد سے رابطہ تھا مجھے اکثر ضیاشاہد لاہور بلا لیتے میری ان سے ذہنی ہم آہنگی اور پھر اعتماد کا تعلق تھا مجھے حکم دیا کہ آپ فوری لاہور آئیں یہ سلسلہ اکثر جاری ہی رہا تھا مگر اس مرتبہ خاص ہو گیا اگر ان کی فیملی بیرون ممالک جاتی تو مجھے اس وقت بھی بلا لیتے تھے میں اکثر ہروقت ان کے ساتھ ہی رہتا تھا اس مرتبہ جب ہم ناشتے کی میز پر بیٹھے تو انہوں نے اظہار کیا کہ اب میں نے کسی اخبارمیں ملازمت نہیں کرنی اپنا ہی اخبار شروع کریں گے انہوں نے ڈرائنگ روم بیٹھے ہی قلم اور پیڈ منگوایا، اخبارات کے نام لکھنا شروع کر دیئے ان کے مزاج میں تیزی بہت تھی فوری فیصلہ کرتے تھے انہوں نے اس وقت تقریباً100 کے قریب اخبارکے لئے نام لکھے فوری فیصلہ کیا کہ خبریں میں نے اس نام کے بارے میں کہا۔ ضیا شاہد صاحب یہ کیا نام ہے انہوں نے فوری کہا کہ اس کے علاوہ کوئی نام نہیں فوری طور پر اس وقت کے اعلیٰ خطاط ہاشم کو ٹیلی فون کیا اور انہیں ہدایت کی کہ فوری خبریں کے نام کی پیشانی تیار کر دیں اس طرح خبریں گروپ کے اجرا کی ابتدا ہوئی۔انہوں نے شب وروز اس کی کامیابی کے لئے کام کیا میں نے چونکہ عملًا انہیں کام کرتے دیکھا ہے انہیں کوئی شخص فالو نہیں کر سکتا کیونکہ اتنی محنت کرنے کی کسی بھی شخص میں سکت نہیں ان کا شیڈول میں اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں جو حیران کن اور حوصلہ افزابھی ہے جو کسی انسان کی کا میابی کے لئے رہنمائی بھی ہے۔ یہ صبح 6 بجے سے کام کرنا شروع کرتے اپنے بنیادی ضروری کام بھی کرتے سب سے پہلے صبح 7بجے مکمل اخبارات کا مطالعہ کرتے خبریں سے موازنہ کرتے اور باقاعدہ نشانات لگاتے مسنگ خبریں اور اشتہارات پر نشان لگاتے 9 بجے ناشتے پر بیٹھتے 9.30 پر آفس کے لئے روانہ ہوجاتے 10 بجے آفس میں رپورٹنگ کی میٹنگ میں ان کی مسنگ اور غیر معیاری خبروں کی اشاعت پر توجہ دلاتے ان کی نہ صرف نشاندہی کرتے بلکہ انہیں اصلاحی ہدایات بھی دیتے اس کے بعد مارکیٹنگ سٹاف سے میٹنگ میں اشتہارات مسنگ اور ان کے حصول کے لئے پابند کرتے کرتے۔ فالو اپ کے لئے شام 5 بجے دوبارہ نتائج کے لئے شور کیا جاتا جبکہ بعد میں نیوز سیکشن سے میٹنگ ہوتی تاکہ خبریں کی اشاعت میں خصوصی توجہ دی جاسکے۔
    اخبار کی لوح ”جہاں ظلم وہاں خبریں“ کا سلوگن دیا گیا جس نے عوامی سطح پر مقبولیت حاصل کی یہ عوام کی آواز کرپشن اور ظلم و زیادتی کرنے والوں کے لئے خوف کی علامت بن گیا۔ انہوں نے عوامی مسائل کے لئے باقاعدہ طور پر ایک خصوصی ٹیم بنائی جو ظلم و زیادتی اور لوٹ مار کرنے کی نشان دہی کرتی تھی انہیں اولیت کے ترجیح طور پر اجاگر کیا جاتا۔ عوامی مسائل کے لئے خصوصی ڈیسک بنایا تھا جہاں زیادہ سے زیادہ مظلوم، مجبور عوام ان سے رابطہ کرتے یہ ان مظلوم عوام کے لیے خصوصی طور پر نہ صرف کوشش کرتے بلکہ انہیں حل کر کے متاثرہ لوگوں کو ان کا حق دلواتے یہ عمل اس وقت کسی بھی اخبار سے منفرد تھا جو عوامی سطح پر نہ صرف کامیاب ہوا بلکہ سرکاری افسران کی بھی کافی حدتک اصلاح کا باعث ثابت ہوا۔ خبریں اخبار کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ جس کا بانی پیشہ ور تجربہ کا رصحافی تھا جس کا مقصد محنت سے کا میابی حاصل کرنا تھا جتنے کم عرصے میں خبریں گروپ نے کامیابی حاصل کی وہ بھی منفرد مثال ہے پہلے خبریں لاہور اسلام آباد چند عرصے بعد ملتان، خبریں کراچی، خبریں حیدرآباد، خبریں سکھر، خبریں پشاور، خبریں آزاد کشمیر، اس کے علاوہ نیا اخبار لاہور، اسلام آباد کراچی سے بیک وقت شائع کیا۔ جبکہ سندھی زبان میں خبرون کراچی حیدر آباد سکھر، اسلام آباد، خبراں پنجابی بیک وقت شروع کیا۔ سندھی زبان میں خبروں کی اشاعت کے وقت ضیا شاہد کی صحافتی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے گڑھی یٰسین شکار پور کے علاقے میں آغاز میں سابق جسٹس سندھ ہائی کورٹ اور سینئر سیاستدان آغا سراج درانی نے ضیا شاہد کے نام سے ایک سٹریٹ کا نام ضیا شاہد سٹریٹ رکھا ہے جس کا تذکرہ آغارفیق نے اپنی حالیہ شائع ہونیوالی کتاب میں بھی کیا ہے جس کی تقریب 17 اپریل 2025کو مقامی ہوٹل کراچی میں منعقد ہو رہی ہے۔ضیا شاہد کے بڑے فرزند عدنان شاہد جنہیں خصوصی طور پر انگلش میڈیا کے لئے بیرون ممالک بھیجا جہاں انہوں نے جدید تقاضوں کے مطابق تربیت حاصل کی اور پاکستان واپسی پر دی پوسٹ انگریزی زبان میں لاہور اسلام آباد اور کراچی سے بیک وقت شائع کیا اور تھوڑے عرصے میں ہی کا میابی حاصل کر لی لیکن افسوس ناک بات یہ تھی کہ عدنان شاہد اپنے والد ضیا شاہد کو بوجہ علالت بیرون ملک لے گئے ان کے ہمراہ باجی یاسمین اور ڈاکٹر نوشین بھی تھیں واپسی پر لندن میں ایک ٹریول ایجنسی سیٹ کنفرم کرانے گئے تھے کہ اچانک انہیں ہارٹ اٹیک ہوا جس کی وجہ سے ان کا انتقال ہو گیا یہ افسوس ناک سانحہ ضیا شاہد کی فیملی کیلئے المناک واقعہ تھا جس کے بعد ضیا شاہد کو کس قدر تکلیف کا سامنا ہوگا یہ ایک باپ‘ایک ماں‘ایک بھائی اور ایک بہن ہی محسوس کر سکتے ہیں اس سانحے کے باوجود ضیاشاہد نے ہمت نہیں ہاری وہ ایک باہمت شخصیت تھے انہوں نے زندگی کے آخری سانس تک خبریں گروپ کو ترجیح دی اگر یہ کہا جائے کہ ضیا شاہد کے دو بیٹے عدنان شاہد، امتنان شاہد، ڈاکٹر نوشین بیٹی تین اولاد ہیں ان کی ایک اولاد خبریں گروپ بھی ہے جسے شب و روز محنت کرکے اس کی پرورش کی جو اس وقت سینکڑوں افراد کی وابستگی سے ان کے خاندان کے لئے باعث روز گار ہے جو اس وقت امتنان شاہد چیف ایڈیٹر خبریں گروپ کی سربراہی میں کامیابی کے سفر میں رواں دواں ہے۔ ضیا صاحب اے پی این ایس کے سینئر نائب صدر اور سی پی این ای کے صدر کے منصب پر بھی فائز رہے ہیں۔ ان کے صاحبزادے موجودہ خبریں گروپ کے چیف ایڈیٹر امتنان شاہد بھی اے پی این ایس کے سینئر نائب صدر کے منصب پر رہے ہیں۔ ان میں ضیا شاہد کا عکس واضع ہے یہ ایک شاگرد کی حیثیت سے ضیا شاہد کو اپنا استاد بھی مانتے ہیں جس کا باقاعدہ اظہار کرتے ہیں ضیا شاہد کی کراچی آمد میں سیاسی ملاقاتوں، اے پی این ایس، سی پی این ای کے اجلاسوں میں شرکت یا خصوصی انٹرویو میں ان کے ہمراہ ہوتا تھا ان کا کام کرنے کا انداز مکمل طور پر صحافتی پیشہ ورانہ تھا مسلم لیگ فنکشنل کے سربراہ پیر صبغت اللہ راشدی (پیر پگارا)کی رہائش گاہ کنگری ہاؤس انٹرویو کے لئے گئے ان کا انٹرویو ٹیپ کیا گیا اس کے بعد ہم نے سردار عطا اللہ مینگل سے ملاقات کے لئے جانا تھا ضیا صاحب نے کہا یہ ٹیپ کسی رپورٹر کو دیدیں وہ اسے لکھ لے ہم جب تک سردار عطااللہ مینگل سے ملاقات کرلیتے ہیں واپسی پر یہ مکمل کرلے گا واپسی دفتر آئے ضیا شاہد صاحب نے وہ انٹریو چیک کیا اور فوری کہا کہ ایک سطر نہیں لکھی گئی میں نے بڑے اعتماد سے کہا رپورٹر نے مکمل کی مکمل لکھا ہے انہوں نے دوبارہ انٹرویو کو چیک کیا اور کہا چیف صاحب لکھی ہے پھر بھی دیکھ لیتے ہیں ضیاشاہد نے برہمی کا اظہا کرتے ہوئے جنرل منیجر کو بلوایا کہا کہ وحید جمال کی ٹکٹ بھی منگوادیں۔ یہ میرے ساتھ اسلام آباد جائیں گے۔

    Khabrain News

    Keep Reading

    عرفات منہاس کا پہلے ہی میچ میں 5 وکٹیں لیکر 42 سال پر انار یکارڈ توڑ دیا

    مشین چلتی ہے تو خدا بھی ہوتی ہے، باڈی کو آرام ملتا ہے اب تو جان بھی لگتی ہے: شاہین کا پاکستانی فاسٹ بولرز کی کم رفتار کے حوالے سے سوال پر جواب

    فلسطین پر پاکستان کا موقف غیر متزلزل ، ابراہیمی معاہدے کی افواہیں مسترد: اسحاق ڈار

    تازہ ترین

    حج مشکل نہیں تھا، حج کے دوران سیلفیوں نے تھکا دیا: وسیم اکرم

    بجٹ کے بعد کون سے موبائل فون سستے ہو رہے ہیں؟ اہم خبر

    کراچی: آج درجۂ حرارت 46 سے 47 ڈگری تک محسوس ہونے کا امکان

    قیمتوں میں کمی کے باوجود پیٹرول اور ڈیزل اب بھی مہنگے

    پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں کمی کا اعلان

    Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    • کالم
    • صحت
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • بزنس
    • شوبز
    • کھیل
    • انٹر نیشنل
    • پاکستان
    © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.