ایران سے جنگ کی وجہ سے امریکا میں ایندھن کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے عام شہریوں پر بھاری مالی دباؤ ڈالا ہے اور اب تک امریکی شہریوں پر 59 ارب ڈالر کا اضافی بوجھ پڑا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق موڈیز کے چیف اکنامسٹ مارک زینڈی نے کہا ہےکہ ایران جنگ کے بعد سے ہر امریکی گھرانے پر اوسطاً تقریباً 450 ڈالر کا اضافی بوجھ پڑا ہے، یہ اخراجات زیادہ تر پیٹرول، ڈیزل اور فضائی سفر کے بڑھتے ہوئے کرایوں کی وجہ سے ہیں۔
مارک زینڈی نے خبردار کیا کہ اگر یہ جنگ جلد ختم نہ ہوئی تو مالی دباؤ کا شکار صارفین اپنی خریداری میں مزید احتیاط اختیار کریں گے، جس سے پہلے ہی سے دباؤ کی شکار امریکی معیشت مزید متاثر ہوسکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ایندھن کی قیمتیں موجودہ سطح پر برقرار رہیں تو جنگ کا ایک سال مکمل ہونے تک اوسط امریکی گھرانے پر تقریباً 2 ہزار ڈالر کا اضافی بوجھ پڑسکتا ہے۔
موڈیز کے مطابق ایندھ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث ہر گھرانے پر پڑنے والا تقریباً 450 ڈالر کا اضافی بوجھ صدر ٹرمپ کے ٹیکس پیکیج سے حاصل ہونے والے اوسطاً 384 ڈالر کے فائدے کو بھی ختم کر چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ صرف ایندھن تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ روزمرہ زندگی کے تمام شعبوں، جیسے نقل و حمل، فضائی سفر اور گھریلو اخراجات پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔
