اسلام آباد: آسمان پر نایاب فلکیاتی مناظر دیکھنے کے شوقین افراد کے لیے خوشخبری ہے کہ 31 مئی کو ایک منفرد اور کم یاب فلکیاتی واقعہ رونما ہو گا۔ جب ایک ہی وقت میں بلیو مون اور مائیکرو مون کا نظارہ کیا جا سکے گا۔
ماہرین فلکیات کے مطابق مئی 2026 کے آغاز پر یکم مئی کو مکمل چاند طلوع ہوا تھا۔ جبکہ 31 مئی کو اسی مہینے کا دوسرا مکمل چاند نمودار ہو گا۔ فلکیاتی اصطلاح میں ایک ہی کیلنڈر مہینے میں ظاہر ہونے والے دوسرے مکمل چاند کو “بلیو مون” کہا جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سال کا بلیو مون ایک اور وجہ سے بھی منفرد ہو گا کیونکہ یہ 2026 کا “مائیکرو مون” بھی ہو گا۔ اس دوران چاند اپنے مدار میں زمین سے نسبتاً زیادہ فاصلے پر ہو گا۔ جس کے باعث وہ عام مکمل چاند کے مقابلے میں قدرے چھوٹا دکھائی دے سکتا ہے۔
ماہرین نے واضح کیا ہے کہ نام کے برعکس بلیو مون کا رنگ نیلا نہیں ہو گا۔ بلکہ یہ اپنی معمول کی سفید اور چمکدار شکل میں ہی نظر آئے گا۔ بلیو مون دراصل ایک فلکیاتی اصطلاح ہے جس کا تعلق چاند کے رنگ سے نہیں بلکہ اس کے ظہور کے وقت سے ہے۔
فلکیاتی ماہرین کے مطابق چاند 31 مئی کو اپنی مکمل ترین حالت میں ہو گا اور مشرقی افق پر طلوع ہوتے وقت سرخ رنگ کے روشن ستارے Antares کے قریب دکھائی دے گا، جس سے یہ منظر مزید دلکش بن جائے گا۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ بلیو مون کا انسانی صحت، قسمت یا کسی غیر معمولی روحانی اثر سے کوئی تعلق نہیں اور یہ محض ایک قدرتی فلکیاتی عمل ہے۔ ان کے مطابق ایسا منظر عموماً ہر دو سے تین سال بعد دیکھنے کو ملتا ہے، جبکہ اگلا بلیو مون دسمبر 2028 سے پہلے متوقع نہیں۔
ماہرین نے فلکیات سے دلچسپی رکھنے والوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ صاف موسم کی صورت میں اس نایاب آسمانی منظر سے لطف اندوز ہونے کا موقع ضائع نہ کریں۔