Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • رپورٹر کی ڈائری مہران اجمل خان
    • بابر اعظم ون ڈے کرکٹ میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں: شاہین آفریدی
    • مشین چلتی ہے تو خدا بھی ہوتی ہے، باڈی کو آرام ملتا ہے اب تو جان بھی لگتی ہے: شاہین کا پاکستانی فاسٹ بولرز کی کم رفتار کے حوالے سے سوال پر جواب
    • اب تک امریکا سے کسی قسم کا کوئی معاہدہ نہیں ہوا، جو ہری پروگرام پر کوئی مذاکرات نہیں کر رہے : اسماعیل بقائی
    • فلسطین پر پاکستان کا موقف غیر متزلزل ، ابراہیمی معاہدے کی افواہیں مسترد: اسحاق ڈار
    • ٹرمپ ایران کیساتھ صرف اُسی معاہدے کو قبول کریں گے جو امریکی شرائط پر پورا اترے: وائٹ ہاؤس حکام
    • اہلیہ نے آج تک میرے لیے چائے کا ایک کپ نہیں بنایا، انوپم کھیر
    • مومنہ اقبال کے ثاقب چدھڑ کی اہلیہ سے تعلق کی حقیقت سامنے آ گئی
    • ایران نے افزودہ یورینیم سے متعلق دوٹوک جواب دیدیا
    • ٹرمپ کا ناکہ بندی کھولنے اور معاہدے کے نکات طے پانے کا اعلان؛ ایران کا ردعمل بھی آگیا
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان
    • کراچی کے قریب کھلے سمندر حادثہ، 2 جہاز ٹکرا گئے
    • حمل کی مسلسل نگرانی کرنے والا الٹراساؤنڈ پیچ متعارف، جسے پہنا بھی جاسکتا ہے
    • گوشت کھانے والوں اور لمبی عمر کے درمیان تعلق پر نئی تحقیق، ماہرین بھی حیران
    • علی خامنہ ای کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی ، برطانوی اخبار کا دعویٰ
    • وفاقی حکومت آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرنے کےلیے تیار، اہم خدوخال سامنے آگئے
    • بھارت کے 15 سالہ کرکٹر ویبھوو سوریا ونشی نے کرس گیل کا ریکارڈ توڑ دیا
    • کیا پاکستان کو ٹھیک کیا جاسکتا ہے؟
    • پٹرول کی قیمتوں میں 20 روپے فی لٹر سے زائد کمی کا امکان
    • پٹرول اور ڈیزل کتنا سستا ہو رہا ہے؟ عوام کیلیے بڑی خوشخبری آ گئی
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    رپورٹر کی ڈائری مہران اجمل خان

    By Khabrain Newsمئی 30, 2026
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    رپورٹر کی ڈائری
    مہران اجمل خان

     

     

    دنیا ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں موسمیاتی تبدیلی اب محض ماحولیاتی مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ معیشت، سلامتی، سفارت کاری، توانائی اور انسانی بقا کا مشترکہ بحران بن چکی ہے۔ چند برس پہلے تک عالمی کانفرنسوں میں “کلائمیٹ چینج” کا ذکر زیادہ تر مستقبل کے خطرات کے تناظر میں کیا جاتا تھا مگر آج صورتحال مختلف ہے۔ اب دنیا “اگر ایسا ہوا” کی بحث سے نکل کر “یہ سب ہو رہا ہے” کے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ آرکٹک کی برف کا تیزی سے پگھلنا، یورپ اور ایشیا میں ریکارڈ درجہ حرارت، جنگلاتی آگ، پانی کی قلت، غذائی عدم تحفظ اور توانائی کے بحران نے عالمی قیادت کو مجبور کردیا ہے کہ وہ موسمیاتی پالیسی کو قومی سلامتی کی پالیسی کے برابر اہمیت دے۔
    اسی تناظر میں مئی 2026 میں ہونے والا کوپن ہیگن وزارتی کانفرنس غیرمعمولی اہمیت اختیار کرگیاتھا۔ یہ اجلاس بظاہر ایک سفارتی میٹنگ تھا مگر حقیقت میں یہ COP31 کی سمت متعین کرنے والی سیاسی لیبارٹری ثابت ہوسکتا ہے۔ ڈنمارک میں ہونے والی اس اہم کانفرنس میں وزراء، پالیسی ساز، اقوام متحدہ کے موسمیاتی فریم ورک سے وابستہ نمائندے، ماہرین اور نجی شعبے کے اسٹیک ہولڈرز اس سوال پر غور کررہے تھے کہ دنیا بڑھتے ہوئے موسمیاتی بحران کا عملی جواب کیسے دے گی۔
    اس کانفرنس کے پیغامات واضح ہیں۔ دنیا اب صرف وعدے نہیں بلکہ عمل چاہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بار گفتگو کا محور “Negotiation” کے بجائے “Implementation” رکھا گیا ہے۔ یعنی اب یہ نہیں پوچھا جارہا کہ ممالک موسمیاتی اہداف مانتے ہیں یا نہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ وہ ان اہداف کو حاصل کیسے کریں گے۔ یہی وہ تبدیلی ہے جو آنے والے برسوں میں عالمی سیاست کا رخ بدل سکتی ہے۔
    کوپن ہیگن کانفرنس میں بار بار ایک نکتہ دہرایا گیا کہ فوسل فیول پر انحصار دنیا کو نہ صرف ماحولیاتی بلکہ معاشی اور جغرافیائی سیاسی عدم استحکام کی طرف لے جارہا ہے۔ Strait of Hormuz میں حالیہ ایندھن بحران کا حوالہ دے کر واضح کیا گیا کہ تیل اور گیس پر انحصار اب قومی سلامتی کا مسئلہ بھی بنتا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صاف توانائی، الیکٹریفکیشن اور قابلِ تجدید توانائی کو صرف ماحولیاتی ایجنڈا نہیں بلکہ معاشی استحکام اور اسٹریٹجک خودمختاری کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔
    یہاں ایک اہم سوال پاکستان سے متعلق پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان بھی اسی سمت میں سوچ رہا ہے؟
    مختصر جواب یہ ہے کہ ہاں لیکن رفتار اور سنجیدگی ابھی عالمی تقاضوں کے مطابق نہیں۔ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران آنے والے تباہ کن سیلاب دنیا کو یہ باور کرانے کیلئے کافی تھے کہ پاکستان ماحولیاتی بحران کی “فرنٹ لائن اسٹیٹ” بن چکا ہے۔ گلیشیئرز کا پگھلنا، بے ترتیب بارشیں، ہیٹ ویوز، سموگ، زرعی نقصان اور پانی کی غیر یقینی صورتحال پاکستان کے مستقبل کیلئے سنگین خطرات ہیں۔
    پاکستان نے بین الاقوامی سطح پر کئی اہم وعدے ضرور کیے ہیں۔ قابلِ تجدید توانائی کے فروغ، الیکٹرک وہیکل پالیسی، نیشنل ایڈاپٹیشن پلان، گرین پاکستان اقدامات اور کاربن اخراج میں کمی کے اہداف پر بات ہورہی ہے۔ حکومتیں موسمیاتی سفارت کاری میں بھی متحرک دکھائی دیتی ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان نے ماحولیاتی نقصانات اور تباہ کاریوں کے فنڈ کے معاملے پر عالمی سطح پر مؤثر آواز اٹھائی اور ترقی پذیر ممالک کے موقف کو تقویت دی۔ یہ ایک بڑی سفارتی کامیابی تھی۔
    مگر اصل سوال وعدوں سے آگے عملدرآمد کا ہے۔ پاکستان میں آج بھی توانائی کا بڑا حصہ فوسل فیول سے حاصل کیا جاتا ہے۔ شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ کا بحران موجود ہے، صنعتی آلودگی کنٹرول سے باہر ہے، زرعی شعبہ موسمیاتی خطرات کیلئے تیار نہیں اور شہری منصوبہ بندی ماحولیاتی اصولوں سے ہم آہنگ دکھائی نہیں دیتی۔ موسمیاتی تبدیلی کی وزارت اور صوبائی ادارے پالیسی تو بنارہے ہیں، لیکن ان پالیسیوں کے نفاذ کیلئے مطلوب مالی وسائل، تکنیکی مہارت اور سیاسی تسلسل ابھی ناکافی ہیں۔
    دنیا اس وقت کلائمیٹ فنانس کی نئی بحث میں داخل ہوچکی ہے۔ کوپن ہیگن وزارتی کانفرنس میں 2035 تک ترقی پذیر ممالک کیلئے 1.3 ٹریلین ڈالر موسمیاتی فنڈنگ کا ہدف زیر بحث آیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ غریب اور موسمیاتی خطرات کا شکار ممالک کو صرف مشورے نہیں بلکہ مالی مدد بھی درکار ہوگی۔ پاکستان کیلئے یہ معاملہ انتہائی اہم ہے کیونکہ ملک خود موسمیاتی آفات کا شکار ہے مگر اس کا عالمی کاربن اخراج میں حصہ نہایت کم ہے۔ یہی وہ دلیل ہے جسے پاکستانی سفارت کاری کو مزید مؤثر انداز میں دنیا کے سامنے رکھنا ہوگا۔
    پاکستان کیلئے ایک اور اہم پہلو “موسمیاتی سفارت کاری” ہے۔ دنیا اب موسمیاتی تبدیلی کو خارجہ پالیسی کا بنیادی جزو بنارہی ہے۔ امریکہ، یورپی یونین، چین، آسٹریلیا اور خلیجی ممالک توانائی منتقلی اور گرین معیشت کو اپنی اسٹریٹجک پالیسی کا حصہ بناچکے ہیں۔ ایسے میں پاکستان اگر خود کو صرف امداد لینے والے ملک کے طور پر پیش کرتا رہا تو شاید وہ آنے والے عالمی نظام میں مؤثر مقام حاصل نہ کرسکے۔ پاکستان کو اب موسمیاتی بحران کو ” اقتصادی مواقع” کے طور پر بھی دیکھنا ہوگا۔
    مثلاً پاکستان کے پاس سولر انرجی کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے مواقع ہیں۔ نوجوان آبادی گرین ٹیکنالوجی میں کردار ادا کرسکتی ہے۔ زرعی شعبے کو Climate Smart Agriculture کی طرف منتقل کیا جاسکتا ہے۔ شہری انفراسٹرکچر کو گرین اکنامی کے اصولوں کے مطابق ڈھالا جاسکتا ہے۔ اگر ریاست، نجی شعبہ اور تعلیمی ادارے مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں تو موسمیاتی چیلنج معاشی مواقع میں تبدیل ہوسکتا ہے۔
    بطور صحافی یہ بھی کہوں گا کہ پاکستان میں کلائمیٹ جرنلزم ابھی مکمل طور پر مرکزی دھارے کا حصہ نہیں بن سکی۔ زیادہ تر کوریج تب ہوتی ہے جب کوئی بڑا سیلاب، ہیٹ ویو یا قدرتی آفت رونما ہوجائے۔ جبکہ عالمی سطح پر اب کلائمیٹ رپورٹنگ محض ماحولیات نہیں بلکہ معیشت، صحت، توانائی، سیاست، زراعت اور سلامتی کی رپورٹنگ بن چکی ہے۔ "کاپ 31” اسی عالمی تبدیلی کا اگلا بڑا مرحلہ ہوگا۔ ترکیہ کے شہر انطالیہ میں ہونے والی یہ کانفرنس محض ایک رسمی سفارتی اجتماع نہیں ہوگی بلکہ اس میں یہ طے ہوگا کہ دنیا پیرس معاہدے کے اہداف کو حقیقت میں بدلنے کیلئے کتنی سنجیدہ ہے۔ اس کانفرنس میں ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان موسمیاتی انصاف، فنڈنگ، انرجی ٹرانزیشن اور Adaptation جیسے موضوعات پر سخت بحث متوقع ہے۔ پاکستان جیسے ممالک کیلئے یہ فورم اپنی بقا، ترقی اور عالمی نمائندگی کے حوالے سے غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے۔
    بطور ایک پاکستانی صحافی یہ کہناضروری سمجھتا ہوں کہ COP31 صرف ماحولیات کی کانفرنس نہیں بلکہ مستقبل کی عالمی معیشت، سفارت کاری اور ترقیاتی ماڈل کی کانفرنس ہوگی۔ وہاں وہی آواز زیادہ مؤثر ہوگی جو اعدادوشمار کے ساتھ انسانی کہانی، سفارتی فہم کے ساتھ زمینی حقائق، اور تنقید کے ساتھ قابلِ عمل تجاویز بھی پیش کرسکے۔
    آج دنیا ایک نئے عالمی بیانیے کی تشکیل میں مصروف ہے۔ سوال صرف یہ نہیں کہ درجہ حرارت کتنے ڈگری بڑھے گا بلکہ یہ بھی ہے کہ آنے والی دہائیوں میں کون سی معیشتیں زندہ رہیں گی کون سے شہر رہنے کے قابل ہوں گے کون سی ریاستیں پانی اور خوراک کے بحران سے بچ سکیں گی اور کون سے ممالک عالمی فیصلوں میں اثرورسوخ برقرار رکھ سکیں گے۔
    پاکستان کیلئے وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔ اگر ہم نے موسمیاتی تبدیلی کو اب بھی صرف “ماحولیاتی مسئلہ” سمجھا تو شاید ہم آنے والے عالمی نظام میں بہت پیچھے رہ جائیں۔ لیکن اگر ہم نے اسے قومی سلامتی، معاشی اصلاحات، توانائی خودمختاری اور سفارتی حکمت عملی کے طور پر اپنایا تو یہی بحران پاکستان کیلئے نئے امکانات بھی پیدا کرسکتا ہے۔کوپن ہیگن وزارتی کانفرنس کا اصل پیغام بھی شاید یہی ہے کہ دنیا اب انتظار کے مرحلے سے آگے نکل چکی ہے اور جو ممالک جلد فیصلے کریں گے مستقبل انہی کا ہوگا۔

    Khabrain News

    Keep Reading

    گوشت کھانے والوں اور لمبی عمر کے درمیان تعلق پر نئی تحقیق، ماہرین بھی حیران

    سوشل میڈیا نوجوانوں کیلئے سگریٹ نوشی جتنا خطرناک قرار!

    مٹاپے کیخلاف جی ایل پی-1 ادویات دماغ میں کیسے کام کرتی ہیں؟

    تازہ ترین

    کراچی کے قریب کھلے سمندر حادثہ، 2 جہاز ٹکرا گئے

    وفاقی حکومت آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرنے کےلیے تیار، اہم خدوخال سامنے آگئے

    پٹرول اور ڈیزل کتنا سستا ہو رہا ہے؟ عوام کیلیے بڑی خوشخبری آ گئی

    حب؛ تیز رفتار موٹر سائیکلیں آپس میں ٹکرا گئیں، 3دوست جاں بحق

    بھارت :انتہاپسند ہندؤوں کا مسلمانوں کوعیدکی نماز کیلئے عوامی مقامات دینے سے انکار، اجتماعات کیخلاف دھمکیاں

    Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    • کالم
    • صحت
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • بزنس
    • شوبز
    • کھیل
    • انٹر نیشنل
    • پاکستان
    © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.