- ماسکو روسی صدر کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ یورپی جوہری طاقتوں کو شامل کیے بغیر اسٹریٹیجک استحکام سے متعلق کسی نئے معاہدے پر بات چیت ممکن نہیں، موجودہ حالات میں صرف امریکہ کے ساتھ مذاکرات ناکافی ہوں گے۔
کریملن میں بریفنگ کے دوران انہوں نے فرانس اور جرمنی کے درمیان جوہری تعاون کے اعلان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ پیش رفت روس کے اس مؤقف کی تائید کرتی ہے کہ مستقبل کے کسی بھی معاہدے میں برطانیہ اور فرانس جیسے یورپی جوہری ممالک کو بھی شامل کرنا ضروری ہے۔
پیسکوف کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں یورپی جوہری ہتھیاروں کو نظر انداز کر کے کسی قسم کے مذاکرات کرنا قطعی طور پر ممکن نہیں۔
یاد رہے کہ روس اور امریکہ کے درمیان اسٹریٹیجک ہتھیاروں کی تحدید سے متعلق آخری معاہدہ “نیو سٹارٹ “کی مدت فروری میں ختم ہو گئی ہے، واشنگٹن کی جانب سے عندیہ دیا گیا تھا کہ وہ ایک نیا معاہدہ چاہتے ہیں جس میں چین کو بھی شامل کیا جائے، جبکہ ماسکو کا کہنا ہے کہ کسی بھی نئے معاہدے کے لیے وسیع مشاورت درکار ہوگی اور اس میں یورپی اتحادیوں کے جوہری ہتھیاروں کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی حالات کی کشیدگی کے باعث جوہری توازن اور اسٹریٹیجک استحکام کا معاملہ مزید حساس صورت اختیار کر چکا ہے، جس کے پیش نظر آئندہ مذاکرات آسان دکھائی نہیں دیتے۔





































