واشنگٹن (07 اپریل 2026): آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ عالمی معیشت کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور جنگ ختم بھی ہو جائے تو معاشی نقصان برقرار رہے گا۔
عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی سربراہ نے پیر کے روز روئٹرز کو بتایا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ عالمی سطح پر مہنگائی میں اضافے اور معاشی ترقی کی رفتار میں کمی کا باعث بنے گی۔
جنگ کے باعث عالمی تیل کی فراہمی میں 13 فی صد کمی واقع ہوئی ہے، جس کے اثرات تیل و گیس کی ترسیل کے ساتھ ساتھ ہیلیم اور کھاد جیسی متعلقہ سپلائی چینز پر بھی پڑ رہے ہیں۔ کرسٹالینا جارجیوا نے کہا کہ اگر جنگ جلد ختم ہو جائے اور بحالی بھی نسبتاً تیز ہو، تب بھی معاشی شرح نمو میں معمولی کمی اور مہنگائی میں اضافہ دیکھنے میں آئے گا، تاہم اگر جنگ طویل ہوتی ہے تو اس کے اثرات زیادہ شدید ہوں گے۔
جنگ کے باعث عالمی توانائی کی فراہمی میں تاریخ کی بدترین رکاوٹ پیدا ہوئی ہے، جہاں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی مؤثر بندش کے باعث لاکھوں بیرل تیل کی پیداوار معطل ہو چکی ہے۔ یہ آبنائے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے نہایت اہم ہے۔ آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا کے مطابق اگر تنازع جلد ختم بھی ہو جائے تو بھی ادارہ اپنی معاشی شرح نمو کی پیشگوئی کم اور مہنگائی کے اندازے بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔
متوقع ہے کہ یہ جنگ آئندہ ہفتے واشنگٹن میں ہونے والے مانیٹری فنڈ اور ورلڈ بینک کے اسپرنگ اجلاسوں میں دنیا بھر کے مالیاتی حکام کے درمیان ہونے والی گفتگو پر غالب رہے گی۔
آئی ایم ایف 14 اپریل کو جاری ہونے والی اپنی ورلڈ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ میں مختلف ممکنہ منظرنامے پیش کرے گا۔ 30 مارچ کے ایک بلاگ میں ادارے نے جنگ کے غیر متوازن جھٹکے اور سخت مالی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی پیشگوئی میں ممکنہ کمی کا عندیہ دیا تھا۔
جنگ نہ ہونے کی صورت میں جارجیوا کے مطابق 2026 میں عالمی شرح نمو 3.3 فی صد اور 2027 میں 3.2 فی صد رہنے کی توقع تھی، کیوں کہ دنیا کی معیشتیں وبا سے بحالی کی طرف گامزن تھیں۔ جارجیوا نے کہا ’’اب تمام راستے مہنگائی میں اضافے اور معاشی سست روی کی طرف جا رہے ہیں۔‘‘
وہ جمعرات کو ایک خطاب میں اسپرنگ اجلاسوں کا پیشگی جائزہ پیش کریں گی، جب کہ ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا منگل کو ایک تقریب میں اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ دنیا اس وقت غیر یقینی صورت حال کے دور سے گزر رہی ہے، جس کی وجوہ میں جغرافیائی کشیدگیاں، ٹیکنالوجی میں ترقی، موسمیاتی جھٹکے اور آبادی میں تبدیلیاں شامل ہیں۔ ’’اس کا مطلب ہے کہ اس بحران سے نکلنے کے بعد بھی ہمیں اگلے ممکنہ جھٹکوں کے لیے تیار رہنا ہوگا۔‘‘
جارجیوا کے مطابق وہ غریب اور کم زور ممالک جن کے پاس توانائی کے ذخائر نہیں ہیں، سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ کئی ممالک کے پاس مہنگائی کے اثرات سے اپنی عوام کو بچانے کے لیے مالی گنجائش بہت کم ہے، جس سے سماجی بے چینی کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ کچھ ممالک پہلے ہی مالی مدد کی درخواست کر چکے ہیں، تاہم انھوں نے ان کے نام ظاہر نہیں کیے۔ آئی ایم ایف اپنی موجودہ قرضہ پروگراموں میں توسیع کر کے ممالک کی ضروریات پوری کر سکتا ہے۔ ادارے کے 85 فی صد رکن ممالک توانائی درآمد کرتے ہیں۔
جارجیوا نے کہا کہ وسیع پیمانے پر توانائی سبسڈی اس مسئلے کا حل نہیں، اور پالیسی سازوں کو ایسے حکومتی اخراجات سے گریز کرنا چاہیے جو مہنگائی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ جنگ کے اثرات یکساں نہیں ہیں، توانائی درآمد کرنے والے ممالک زیادہ متاثر ہوئے ہیں، تاہم قطر جیسے توانائی برآمد کرنے والے ممالک بھی ایرانی حملوں کے باعث اپنی پیداوار متاثر ہونے سے مشکلات کا شکار ہیں۔ قطر کو اپنی 17 فی صد قدرتی گیس کی پیداوار بحال کرنے میں 3 سے 5 سال لگ سکتے ہیں، جب کہ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق جنگ کے دوران 72 توانائی تنصیبات کو نقصان پہنچا، جن میں سے ایک تہائی کو شدید نقصان ہوا ہے۔
جارجیوا نے خبردار کیا کہ اگر جنگ آج بھی ختم ہو جائے تو بھی اس کے منفی اثرات دنیا بھر میں طویل عرصے تک برقرار رہیں گے۔






































