بحیرہ احمر دنیا کے اہم ترین بحری ماحولیاتی نظاموں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ سمندر نہ صرف خوبصورتی اور حیاتیاتی تنوع کے لیے مشہور ہے بلکہ اب سائنسی تحقیق اور طب کے میدان میں بھی ایک “قدرتی لیبارٹری” کے طور پر ابھر رہا ہے۔
العربیہ کی رپورٹ کے مطابق بحیرہ احمر میں مرجانی چٹانوں اور کچھوؤں کے تحفظ کی جنرل فاؤنڈیشن ’’شمس‘‘ کے ماحولیاتی ماہر محقق ڈاکٹر عبد الالہ الرشودی نے بتایا کہ یہ چٹانیں ایک ایسی قدرتی لیبارٹری سمجھی جاتی ہیں جو سائنسدانوں کو جدید ادویات اور طبی حل تیار کرنے کے لیے فعال حیاتیاتی مواد حاصل کرنے کی اجازت دیتی ہیں۔
بحیرہ احمر محض ایک بھرپور بحری ماحول ہی نہیں بلکہ اختراع کے لیے ایک امید افزا سائنسی اور طبی مرکز بھی ہے۔
اس سمندر میں دنیا کی تقریباً 6.2 فیصد مرجانی چٹانیں موجود ہیں، جو اسے دنیا کے بڑے مرجانی نظاموں میں شامل کرتی ہیں۔
یہاں 310 سے زائد اقسام کی مرجانی چٹانیں پائی جاتی ہیں، جن میں 270 سخت اور 40 نرم مرجان شامل ہیں۔
یہ چٹانیں ہزاروں اقسام کے بحری جانداروں کا مسکن ہیں، جن میں مچھلیاں، کچھوے، اسفنج، کائی اور کئی نایاب مخلوقات شامل ہیں جو دنیا میں کہیں اور نہیں ملتیں۔
ماہرین کے مطابق بحیرہ احمر کی خاص بات اس کا سخت ماحول ہے، جہاں پانی زیادہ گرم اور نمکین ہوتا ہے۔ ان مشکل حالات میں رہنے والے جاندار اپنے دفاع اور بقا کے لیے منفرد کیمیائی مرکبات پیدا کرتے ہیں۔ یہی مرکبات سائنسدانوں کے لیے نئی ادویات بنانے کا قیمتی ذریعہ بن رہے ہیں۔
تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ سمندری جانداروں سے حاصل ہونے والے کچھ مرکبات پہلے ہی طب میں استعمال ہو رہے ہیں۔ مثال کے طور پر سمندری اسفنج سے حاصل کردہ دوا “سائٹارابائن” خون کے کینسر (لیوکیمیا) کے علاج میں استعمال ہوتی ہے۔ اسی طرح دیگر مرکبات پر تحقیق جاری ہے جو کینسر، سوزش، بیکٹیریا اور وائرس کے خلاف مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔
جدید بایوٹیکنالوجی کی مدد سے اب سائنسدان ان سمندری وسائل سے مزید فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر سیپی (shellfish) سے متاثر ہو کر ایک خاص قسم کا حیاتیاتی چپکنے والا مادہ تیار کیا گیا ہے، جو زخموں کو بھرنے اور سرجری میں مدد دیتا ہے۔ اسی طرح مرجان سے متاثر ڈھانچے ہڈیوں کی مرمت اور ریجنریٹو میڈیسن میں استعمال ہو رہے ہیں۔
بحیرہ احمر کی مرجانی چٹانوں کی ایک اور اہم خصوصیت یہ ہے کہ وہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ زیادہ درجہ حرارت کے باوجود یہ چٹانیں زندہ رہتی اور بڑھتی ہیں، جس کی وجہ سے انہیں “مرجانی پناہ گاہیں” بھی کہا جاتا ہے۔
اقتصادی لحاظ سے بھی یہ خطہ نہایت اہم بنتا جا رہا ہے۔ “بلیو اکانومی” کے تحت سمندری وسائل سے فائدہ اٹھا کر معیشت کو مضبوط بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اندازہ ہے کہ 2030 تک یہ شعبہ تقریباً 22 ارب ریال کی آمدنی اور ایک لاکھ ملازمتیں فراہم کر سکتا ہے۔
سعودی عرب نے اس مقصد کے لیے “بحیرہ احمر کی پائیداری کی قومی حکمت عملی” متعارف کرائی ہے، جو ماحولیاتی تحفظ، اقتصادی ترقی، سماجی بہتری اور سائنسی تحقیق کو فروغ دیتی ہے۔ یہ اقدامات ویژن 2030 کا حصہ ہیں، جس کا مقصد معیشت کو متنوع بنانا اور قدرتی وسائل کو محفوظ رکھنا ہے۔
مختصراً، بحیرہ احمر کی مرجانی چٹانیں نہ صرف قدرت کا حسین شاہکار ہیں بلکہ مستقبل کی ادویات، سائنسی تحقیق اور معاشی ترقی کے لیے ایک قیمتی خزانہ بھی ثابت ہو رہی ہیں۔





































