وزیراعظم شہباز شریف کو ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے فون کر کے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے پاکستان کے تاریخی امن اقدام پر مبارکباد دی ہے۔
صدر اردوان نے خلیج میں تنازعہ ختم کرانے کےلیے وزیراعظم کی قیادت کی تعریف کی۔
ترک صدر اردوان نے کہا کہ وزیراعظم کی جرات مندانہ قیادت نے انسانی مصائب اور تباہی کو روکنے میں مدد دی، ترکیہ خطے میں امن کی بحالی کیلئے شہبازشریف کی مخلصانہ کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔
وزیراعظم شہبازشریف نے امن کوششوں کی توثیق پر ترک صدر اردوان سے اظہارِ تشکر کرتے ہوئے عالمی امن اور استحکام کےلیے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔ شہبازشریف نے کہا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن کے قیام کیلئےکوششیں جاری رکھےگا۔
قبل ازیں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ایرانی وزیرخارجہ میں ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔
ایرانی سفارتخانہ کے مطابق عباس عراقچی نے جنگ کے خاتمے اور خطے میں امن کیلئے پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہا ہے اور جنگ بندی کیلئے مسلسل کوششوں میں پاکستان کے کردار کی تعریف کی ہے۔
پاکستان کی مسلسل کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران نے دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے، پاکستان کی کوششوں کا بین الاقوامی سطح پر بھی اعتراف کیا جا رہا ہے جبکہ امریکی و ایرانی حکام نے بھی جنگ بندی کے لیے پاکستانی اقدامات کی تعریف کی ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پوری قوم سے اپیل کی ہے کہ یومِ تشکر کے موقع پر مذاکرات کی حتمی کامیابی اور خطے کے امن کے لیے خصوصی دعائیں کی جائیں۔
وزیرِ اعظم نے اس مشن میں فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی انتھک کاوشوں کو شاندار الفاظ میں سراہا، جس پر کابینہ ارکان نے ڈیسک بجا کر انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کا وقار بلند کیا ہے اور یہ کامیابی پوری قوم کی ہے، جس کے باعث پاکستان کو امریکہ ایران مذاکرات کی میزبانی کا عظیم شرف حاصل ہوا ہے۔
شہباز شریف نے صدر آصف علی زرداری، نائب وزیرِ اعظم اور بلاول بھٹو زرداری کی کوششوں کو بھی لائقِ تحسین قرار دیا اور کہا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشترکہ جدوجہد سے یہ ناممکن کام ممکن ہوا۔
اندرونی کہانی
حکومتی ذرائع نے اس انتہائی مشکل اور اعصاب شکن مشن کی تمام تفصیلات فراہم کر دی ہیں۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز اور رات پاکستان کی سول و عسکری قیادت کے لیے ملکی تاریخ کے مشکل ترین اوقات میں سے ایک تھے، جب ایک طرف تباہ کن جنگ کی ڈیڈ لائن ختم ہو رہی تھی، تو دوسری طرف پاکستان کی قیادت تہران اور واشنگٹن کے درمیان پل کا کردار ادا کر رہی تھی۔
اس پورے سفارتی مشن کو تین اہم مراحل میں مکمل کیا گیا، جس میں وقت کی نزاکت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے انتہائی رازداری برتی گئی۔
ذرائع نے کہا کہ پہلہ مرحلہ منگل کی صبح سے شروع ہو کر دن 10 بجے تک جاری رہا، جس میں امریکہ، ایران، سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ ابتدائی روابط قائم کیے گئے۔
دوسرا مرحلہ شام 6 بجے سے شروع ہو کر رات 9:30 بجے تک جاری رہا۔ اس دوران چین اور روس کی قیادت سے بھی دن میں 3 مرتبہ رابطہ کر کے انہیں اعتماد میں لیا گیا۔
تیسرا اور فیصلہ کن مرحلے میں سب سے اہم رابطے رات 11 بج کر 45 منٹ پر شروع ہوئے جو صبح 4 بجے تک مسلسل جاری رہے۔ یہی وہ وقت تھا جب جنگ بندی کے حتمی نکات پر اتفاق رائے پیدا کیا گیا۔
ان روابط میں وزیر اعظم شہباز شریف ،وزیر خارجہ اسحاق ڈار اورچیف آف ڈیفنس فورسزسیدعاصم منیر براہ راست مشغول تھے جبکہ وزارت خارجہ اور قومی سلامتی کے اداروں کے پس پردہ کرداروں نے بھی اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ انتہائی ذمہ داری اور رازداری سے سارا عمل مکمل کیا گیا اور پاکستان کی سول و عسکری قیادت کی کاوشیں آخر کار رنگ لے آئیں۔






































