چین نے جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک اور بڑا سنگِ میل عبور کرتے ہوئے ہزاروں ڈرونز کو بیک وقت فضا میں اُڑا کر نیا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔
یہ شاندار مظاہرہ صوبہ انہوئی کے شہر ہیفی میں پیش کیا گیا، جہاں آسمان روشنیوں اور دلکش مناظر سے جگمگا اٹھا۔
چینی کمپنی ای ہینگ ایگرٹ نے اس لائٹ شو کے دوران بیک وقت 22 ہزار 580 ڈرونز فضا میں بھیج کر گنیز ورلڈ ریکارڈ اپنے نام کیا۔ اس سے قبل بھی چین کی مختلف کمپنیاں 11 ہزار سے زائد اور 15 ہزار سے زیادہ ڈرونز اُڑا کر ریکارڈ بنا چکی تھیں، تاہم اس نئی کامیابی نے تمام سابقہ ریکارڈز کو واضح طور پر پیچھے چھوڑ دیا۔
اس مظاہرے کی خاص بات یہ تھی کہ ہزاروں ڈرونز کو ایک ساتھ کنٹرول کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی ’’سوارم انٹیلیجنس‘‘ ٹیکنالوجی استعمال کی گئی۔ اس جدید نظام کے ذریعے تمام ڈرونز کو ایک یونٹ کی طرح چلایا گیا، جس کے نتیجے میں اتنی بڑی تعداد کے باوجود کسی قسم کا تصادم یا حادثہ پیش نہیں آیا۔
روشنیوں سے بھرپور اس شو میں آسمان پر تھری ڈی چینی لالٹینیں، شہری مناظر اور پیچیدہ ڈیزائنز تخلیق کیے گئے، جنہوں نے حاضرین کو حیرت میں ڈال دیا۔ اگرچہ چند ڈرونز تکنیکی خرابی کے باعث اڑان نہ بھر سکے، تاہم باقی ڈرونز نے کامیابی کے ساتھ ریکارڈ قائم کر دیا۔
ماہرین کے مطابق یہ مظاہرہ صرف تفریح یا فن کا نمونہ نہیں بلکہ چین کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تکنیکی برتری کا واضح اظہار بھی ہے۔ جدید ڈرون ٹیکنالوجی میں اس مہارت کو عالمی سطح پر طاقت کے مظاہرے کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
دفاعی تجزیہ کار اس پیش رفت کو ایک اہم پیغام قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق ایک ہی نیٹ ورک کے تحت ہزاروں ڈرونز کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت مستقبل میں ’’ایئرئیل سیچوریشن اٹیک‘‘ جیسے تصورات کو تقویت دے سکتی ہے، جہاں کم لاگت مگر بڑی تعداد میں موجود ڈرونز کسی بھی جدید دفاعی نظام کو چیلنج کر سکتے ہیں۔
یوں چین جہاں ایک جانب آسمان پر دلکش مناظر پیش کر کے دنیا کو متاثر کر رہا ہے، وہیں دوسری طرف اپنی ٹیکنالوجی اور دفاعی صلاحیتوں کا خاموش مگر واضح پیغام بھی دے رہا ہے۔





































