تازہ تر ین

ریڈ لائٹ تھراپی کیا واقعی لمبی عمر کا راز؟

(ویب ڈیسک)سوشل میڈیا اور جدید مارکیٹنگ میں لمبی عمر، خوبصورتی اور بہتر صحت کے دعووں کے ساتھ مختلف تھراپیز اور آلات تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں، ان میں ریڈ لائٹ تھراپی خاص طور پر نمایاں ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق ان کے کچھ سائنسی شواہد موجود ہیں مگر یہ کوئی جادوئی حل نہیں۔

 

ماہرین صحت اور محققین کا کہنا ہے کہ لمبی عمر اور خوبصورتی کے نام پر مارکیٹ میں بے شمار مصنوعات اور دعوے کیے جا رہے ہیں، جن میں سے کچھ بے اثر یا محض مہنگے ہیں، جبکہ کچھ کے بارے میں ابتدائی سائنسی شواہد حوصلہ افزا ضرور ہیں مگر مکمل طور پر ثابت نہیں ہوئے۔

 

امریکی ماہر امراض جلد اور اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی پروفیسر ڈاکٹر زاکیا رحمان کے مطابق ریڈ لائٹ تھراپی ایک مخصوص طول موج کی روشنی پر مبنی علاج ہے جو جسم کے خلیات میں توانائی بڑھانے اور سوزش کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے، محققین کے مطابق یہ روشنی مائٹوکونڈریا پر اثر ڈالتی ہے جو خلیات کی کارکردگی بہتر بنانے میں کردار ادا کرتے ہیں۔

تحقیقات سے یہ اشارے ملے ہیں کہ ریڈ لائٹ تھراپی جلد کی ساخت، جھریوں اور بالوں کی نشوونما میں بہتری لا سکتی ہے، جس کی وجہ سے گھریلو استعمال کے آلات کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے، تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اس کے درست استعمال، وقت اور طریقہ کار کے بارے میں ابھی مکمل سائنسی اتفاق موجود نہیں۔

 

ڈاکٹرز کے مطابق ریڈ لائٹ تھراپی 2 طریقوں سے دی جاتی ہے، ایک لیزر کے ذریعے کلینک میں اور دوسرا ایل ای ڈی پینلز کے ذریعے گھروں میں، گھریلو آلات نسبتاً محفوظ سمجھے جاتے ہیں لیکن ان کے معیار میں فرق پایا جاتا ہے، ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ صارفین ایف ڈی اے سے منظور شدہ آلات کو ترجیح دیں۔

 

تاہم محققین اس بات پر متفق ہیں کہ ریڈ لائٹ تھراپی جیسے طریقے بنیادی صحت کے اصولوں کا متبادل نہیں ہیں۔ اچھی نیند، متوازن غذا، باقاعدہ ورزش اور سماجی روابط لمبی اور صحت مند زندگی کی اصل بنیاد ہیں۔

 

ماہرین کے مطابق یہ جدید طریقے صرف ان افراد کے لیے اضافی فائدہ دے سکتے ہیں جو پہلے ہی صحت مند طرز زندگی اپنائے ہوئے ہوں، ورنہ یہ محض مہنگے مگر محدود اثرات رکھنے والے اختیاری طریقے ہیں


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain