-
تاریخ: یہ ہولناک حملہ 9 مئی 2026 (ہفتے کی رات) کو بنوں کے علاقے فتح خیل میں ایک پولیس چیک پوسٹ پر کیا گیا۔
-
نوعیت: دہشت گردوں نے بارود سے بھری گاڑی چیک پوسٹ سے ٹکرائی، جس کے بعد بڑے پیمانے پر فائرنگ اور زمینی حملہ کیا گیا۔
-
جانی نقصان: اس حملے میں 15 پولیس اہلکار شہید ہوئے، جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔ دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ قریبی مکانات کو بھی نقصان پہنچا اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کے مطابق 1200 سے 1500 کلوگرام بارود استعمال کیا گیا تھا۔
2. پاکستان کا سخت سفارتی اور فوجی موقف
-
افغان ناظم الامور کی طلبی: پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے 11 مئی 2026 کو اسلام آباد میں افغان ناظم الامور کو طلب کیا اور شدید احتجاج ریکارڈ کرایا۔
-
فیصلہ کن جواب کا انتباہ: دفترِ خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ تکنیکی شواہد اور انٹیلی جنس سے ثابت ہوا ہے کہ اس حملے کے ماسٹر مائنڈ افغانستان میں مقیم ہیں۔ پاکستان نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ:
“پاکستان اس وحشیانہ فعل کے ذمہ داروں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔”
-
بغیر کسی رعایت کے آپریشن: حکومت اور عسکری قیادت نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ “فتنۃ الخوارج” اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف آپریشنز میں اب کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی، چاہے وہ کہیں بھی چھپے ہوں۔
3. حملے کی ذمہ داری
-
اس حملے کی ذمہ داری پاکستانی طالبان سے علیحدہ ہونے والے ایک نئے گروپ “اتحاد المجاہدین پاکستان” نے قبول کی ہے، جسے پاکستانی حکام ٹی ٹی پی ہی کا ایک نیا روپ قرار دے رہے ہیں۔






































