اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے حالیہ دنوں میں پاکستان کے خلاف تند و تیز بیانات سامنے آئے ہیں، جنہیں عالمی تجزیہ کار ان کی سیاسی تنہائی اور امریکہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی دوری کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔
خبر کی تفصیلات اور پس منظر:
-
پاکستان کا ثالثی کردار: مئی 2026 کی رپورٹوں کے مطابق، پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی (Ceasefire) کے لیے ایک کلیدی ثالث کے طور پر ابھرا ہے۔ اس کردار نے نیتن یاہو کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے کیونکہ وہ ایران کے خلاف سخت فوجی کارروائی کے حامی رہے ہیں۔
-
نیتن یاہو کا الزام: اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے بیانات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ “پاکستان امریکہ اور اسرائیل کے سٹرٹیجک تعلقات میں دراڑ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے”۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پاکستان ایران کے ساتھ مل کر ایک ایسا “hostile axis” (معاندانہ اتحاد) بنا رہا ہے جو خطے میں اسرائیلی مفادات کو نقصان پہنچائے گا۔
-
پاکستان کا جواب: پاکستانی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے نیتن یاہو کے الزامات کو “من گھڑت کہانی” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے اپنے حالیہ بیان میں اسرائیل کو “انسانیت کے لیے لعنت” قرار دیا، جس پر اسرائیلی حکومت نے شدید احتجاج بھی کیا ہے۔
-
امریکہ کے ساتھ سرد مہری: دی گارڈین اور دیگر بین الاقوامی ذرائع (9 مئی 2026) کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کے ساتھ مذاکرات میں اسرائیل کو شامل نہیں کیا، جس کا ذمہ دار نیتن یاہو پاکستان کی “خفیہ سفارتکاری” کو قرار دے رہے ہیں۔






































