کیف(24 مئی 2026): روس نے یوکرین پر ہائپرسونک اور بیلسٹک میزائلوں سمیت ڈرونز سے ایک بار پھر ہولناک حملہ کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں دارالحکومت کیف اور ساحلی شہر اوڈیسا میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی ہے اور آسمان پر دھوئیں کے بادل دیکھے گئے۔
رپورٹس کے مطابق روس نے یوکرینی حدود میں اورنسک کے مقام پر 600 ڈرونز اور 90 میزائلوں سے بڑا حملہ کیا۔ ان حملوں میں جدید ہائپرسونک اور بیلسٹک میزائلوں کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا گیا جس سے شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔
روسی حملوں کے دوران دارالحکومت کیف میں فضائی حملے کے سائرن مسلسل بجتے رہے، اور شہری اپنی جانیں بچانے کے لیے بڑی تعداد میں محفوظ مقامات اور انڈر گراؤنڈ میٹرو اسٹیشنز میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔
یوکرینی حکام کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں متعدد عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے، تاہم ہلاکتوں اور زخمیوں کی تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔
دوسری جانب روسی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ یہ کارروائی لوہانسک ریجن میں ایک اسکول ہاسٹل پر ہونے والے یوکرینی حملے کا جواب ہے جس کے بارے میں روس کا الزام ہے کہ اس میں 21 افراد ہلاک اور 63 زخمی ہوئے تھے۔
تاہم یوکرین نے روسی الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماسکو بے بنیاد دعوؤں کو جواز بنا کر یوکرینی شہروں اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ یوکرین نے بین الاقوامی برادری سے فوری مطالبہ کیا ہے کہ وہ روسی جارحیت کا نوٹس لے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔






































