امریکی فوج کی جانب سے جنوبی ایران میں نئے حملوں کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کے باوجود، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا اہم بیان سامنے آیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ امن معاہدے اور سفارت کاری کے دروازے بند نہیں ہوئے اور چند دنوں میں معاہدہ اب بھی ممکن ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس تازہ ترین صورتحال کی مکمل اور مستند تفصیلات درج ذیل ہیں:
امریکی حملوں کے باوجود ایران سے چند دنوں میں معاہدہ ممکن ہے: وزیر خارجہ مارکو روبیو
جے پور، بھارت (26 مئی 2026): امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منگل کے روز بھارت کے شہر جے پور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی ایران میں امریکی فوج کے حالیہ دفاعی حملوں کے باوجود واشنگٹن اور تہران کے درمیان امن معاہدہ اب بھی چند دنوں میں طے پا سکتا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کی جانب سے آبنائے ہرمز کے قریب بندر عباس میں ایرانی میزائل سائٹس اور مائنز (بارودی سرنگیں) بچھانے والی کشتیوں پر "دفاعی حملوں” کے فوراً بعد مارکو روبیو کا یہ بیان سامنے آیا ہے۔ ان حملوں نے 8 اپریل سے جاری عارضی جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔
مذاکرات کے لیے سفارت کاری کا موقع
وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اپنے طیارے پر صحافیوں کو بتایا:
"آج قطر (دوحہ) میں کچھ بات چیت چل رہی ہے، اس لیے ہم دیکھیں گے کہ آیا ہم مزید پیش رفت کر سکتے ہیں یا نہیں۔ میرے خیال میں اس وقت ابتدائی دستاویز کی مخصوص زبان (الفاظ کی تبدیلی) پر دونوں اطراف سے کافی بحث ہو رہی ہے، اس لیے حتمی نتیجے تک پہنچنے میں کچھ دن لگیں گے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ کرنے کی خواہش رکھتے ہیں، لیکن "وہ یا تو ایک بہترین معاہدہ کریں گے یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔” اگر سفارت کاری ناکام ہوئی تو امریکہ دیگر متبادل راستوں پر غور کرے گا۔
آبنائے ہرمز ہر صورت کھولی جائے گی
خلیج میں جاری توانائی کے بحران کا ذکر کرتے ہوئے مارکو روبیو نے سخت لہجہ اختیار کیا اور کہا کہ ایران کی جانب سے عالمی تجارتی گزرگاہ کو بلاک کرنا ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا: "آبنائے ہرمز کو کھلا رہنا ہوگا—ایک یا دوسرے طریقے سے (One way or another)، اسے کھولا جائے گا۔ وہاں جو کچھ ہو رہا ہے وہ غیر قانونی، غیر پائیدار اور دنیا کے لیے ناقابل قبول ہے۔”
ممکنہ معاہدے کے اہم نکات
ذرائع کے مطابق قطر اور پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے اس ممکنہ معاہدے کے تحت درج ذیل اقدامات متوقع ہیں:
-
جنگ بندی میں توسیع: ابتدائی طور پر عارضی جنگ بندی میں 60 دنوں کی توسیع کی جائے گی۔
-
آبنائے ہرمز کی بحالی: ایران 30 دنوں کے اندر آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹائے گا اور بحری جہازوں کی آمد و رفت کو جنگ سے پہلے کی سطح پر لائے گا، جس کے بدلے امریکہ اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرے گا۔
-
اثاثوں کی بحالی اور تحریمات میں نرمی: امریکہ مرحلہ وار طریقے سے ایران کے منجمد فنڈز بحال کرے گا اور تیل پر عائد پابندیوں میں نرمی کرے گا۔
-
یورینیم کا خاتمہ: صدر ٹرمپ نے شرط عائد کی ہے کہ ایران کو اپنی اعلیٰ افزودہ یورینیم کی بڑی مقدار یا تو امریکہ کے حوالے کرنی ہوگی یا بین الاقوامی ایٹمی توانائی کمیشن کی نگرانی میں اسے تلف کرنا ہوگا۔
