جون 2026ء میں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق، اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیرِ داخلہ سکیورٹی اتمار بن غفیر (Itamar Ben-Gvir) کو امریکی ویزا کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث انہوں نے میامی، امریکہ کا اپنا خاندانی دورہ آخری لمحات میں منسوخ کر دیا۔
ویزا کے حصول میں رکاوٹیں اور منسوخی کی وجوہات
-
بایومیٹرک اور فنگر پرنٹس کا مطالبہ: امریکی سفارت خانے نے اتمار بن غفیر کو مطلع کیا کہ ویزا کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے انہیں ذاتی طور پر سفارت خانے میں حاضر ہونا ہوگا اور اپنے فنگر پرنٹس (بایومیٹرک تصدیق) فراہم کرنے ہوں گے۔
-
سفارتی استثنیٰ سے انکار: عام طور پر کسی ملک کے وزراء کو سفارتی پاسپورٹ پر سفر کرتے وقت فنگر پرنٹس دینے سے استثنیٰ حاصل ہوتا ہے۔ تاہم، بن غفیر کی ماضی کی مجرمانہ سزاؤں (جیسے نسل پرستی پر اکسانے اور دہشت گرد تنظیم کی حمایت) کے باعث امریکی سفارت خانے نے یہ غیر معمولی شرط عائد کی، جسے اسرائیلی میڈیا نے واشنگٹن کی طرف سے ویزا دینے میں عدم دلچسپی یا "سفارتی سبکت” (Snub) کے طور پر دیکھا۔
-
دورے کا مقصد: بن غفیر اپنی اہلیہ اور خاندان کے ہمراہ میامی میں مقیم ایک اسرائیلی تاجر کے ہاں شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔
-
بن غفیر کے دفتر کا مؤقف: بن غفیر کے دفتر نے دعویٰ کیا کہ چونکہ یہ دورہ زیادہ تر ذاتی نوعیت کا تھا، اس لیے انہوں نے خود ہی سفارتی پاسپورٹ کا استحقاق استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور عام ٹورسٹ ویزا کے لیے درخواست دی۔ انہوں نے یہ مؤقف بھی اپنایا کہ وہ دورہ اس لیے منسوخ کر رہے ہیں کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ ویزا فلائٹ کے وقت تک تیار نہیں ہو پائے گا۔
