ایک چینی کمپنی نے سندھ حکومت کو جدید فائر فائٹنگ اور ایمرجنسی ریسکیو ٹیکنالوجی فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے، جس میں خودکار فائر ٹینڈرز بھی شامل ہیں۔ یہ جدید گاڑیاں کم سے کم انسانی مداخلت کے ساتھ آگ بجھانے اور متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں مدد فراہم کرسکتی ہیں۔
چینی وفد نے جمعرات کو سندھ ایمرجنسی ریسکیو سروس 1122 کے ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا، جہاں اسے صوبے کے ہنگامی ردعمل کے نظام، ریسکیو آپریشنز اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ ملاقات کے دوران سندھ حکومت کے ساتھ ممکنہ سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس کی صدارت وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر برائے بحالی گیان چند اسرانی نے کی۔ اس موقع پر ریسکیو 1122 کے ڈائریکٹر جنرل بریگیڈیئر واجد ثاقب اللہ مہر، ڈائریکٹر آپریشنز عابد شیخ اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
چینی وفد نے ریسکیو 1122 کے کمانڈ اینڈ کنٹرول روم کا معائنہ کیا اور ایمرجنسی کالز سے لے کر امدادی ٹیموں کی روانگی تک مختلف آپریشنز کا جائزہ لیا۔
ڈائریکٹر جنرل ریسکیو 1122 بریگیڈیئر واجد ثاقب اللہ مہر نے وفد کو بتایا کہ سروس کو روزانہ تقریباً 26 ہزار سے 30 ہزار ایمرجنسی کالز موصول ہوتی ہیں۔ ان میں اوسطاً تقریباً 900 طبی ہنگامی صورتحال جبکہ 30 سے 35 فائر اور واٹر ریسکیو کے واقعات شامل ہوتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ریسکیو 1122 کی ایمبولینسز عام طور پر 8 سے 10 منٹ میں جائے حادثہ پر پہنچتی ہیں، جبکہ موٹر سائیکل ریسپانس ٹیمیں تقریباً 4 سے 5 منٹ میں متاثرہ مقام تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
حکام کے مطابق گزشتہ چار برسوں کے دوران ریسکیو 1122 نے 5,776 قیمتی جانیں بچائیں جبکہ مختلف حادثات میں جاں بحق ہونے والے 1,461 افراد کی لاشیں بھی برآمد کی گئیں۔
چینی کمپنی نے مجوزہ فائر فائٹنگ اور ریسکیو آلات کے ساتھ تین سالہ مینٹیننس سروس، ہر سہ ماہی تکنیکی معائنہ اور تاحیات وارنٹی فراہم کرنے کی بھی پیشکش کی ہے۔
چینی نمائندوں نے وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر گیان چند اسرانی اور ریسکیو 1122 کے ڈائریکٹر جنرل کو چین کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی، تاکہ وہاں جدید فائر فائٹنگ اور ایمرجنسی ریسکیو نظام کا عملی مشاہدہ کیا جاسکے۔
گیان چند اسرانی نے کہا کہ سندھ حکومت ریسکیو 1122 کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ ہنگامی صورتحال میں بروقت کارروائی اور انسانی جانوں کے تحفظ کو مزید بہتر بنایا جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی کو عملی معاشی اور تکنیکی تعاون میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں اور صوبائی حکومت سندھ میں منصوبے شروع کرنے والے سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی۔
مجوزہ جدید ٹیکنالوجی سے سندھ میں آگ بجھانے، شہریوں کے انخلا اور مختلف ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ ہونے کی توقع ہے۔

