عراق نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات اور اعتماد کے بحران کو کم کرنے کے لیے ایک متحدہ سکیورٹی رابطہ کونسل قائم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ یہ تجویز عراقی وزیراعظم کے قومی سلامتی کے مشیر قاسم الاعرجی نے سامنے رکھی اور بتایا کہ بغداد نے یہ تجویز ایران اور سعودی عرب دونوں کو پیش کر دی ہے۔
الاعرجی کے مطابق ایران اور سعودی عرب کے درمیان بنیادی مسئلہ اعتماد کا بحران ہے۔ عراق کا خیال ہے کہ ایک مشترکہ سکیورٹی رابطہ نظام دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست رابطے، اعتماد سازی اور علاقائی کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے مجوزہ کونسل کے طریقۂ کار یا اختیارات کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
یہ تجویز ایسے وقت سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ 27 جولائی کو سعودی عرب نے کہا تھا کہ عراق سے آنے والے متعدد ڈرونز کو روکا گیا، جن کا مبینہ ہدف ریاض اور سعودی مشرقی صوبے میں تیل کی تنصیبات تھیں۔ سعودی عرب نے ان حملوں کا الزام ایران سے وابستہ عراقی مسلح گروہوں پر عائد کیا تھا، جبکہ عراقی وزیراعظم نے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا۔
عراق خود بھی ایران، سعودی عرب اور دیگر علاقائی طاقتوں کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ موجودہ حالات میں بغداد کی یہ نئی تجویز اس کی ثالثی اور علاقائی کشیدگی کم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ تاہم ابھی تک ایران یا سعودی عرب کی جانب سے اس تجویز پر کوئی فوری سرکاری ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

