تہران: ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو منظم کرنے کے لیے عبوری معاہدے کی جانب پیش رفت شروع کردی ہے، جبکہ امریکا نے ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر فوری طور پر ثانوی پابندیاں عائد کرنے سے گریز کیا ہے۔
ایرانی اور عمانی وزرائے خارجہ نے 25 اگست 2026 کو تہران میں ملاقات کی، جس میں آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت اور خطے میں جاری کشیدگی کم کرنے کے اقدامات پر بات چیت کی گئی۔ دونوں ممالک ایک عارضی بحری راہداری قائم کرنے اور آبنائے میں موجود بارودی سرنگوں کی صفائی کے منصوبے پر بھی کام کر رہے ہیں۔
مجوزہ انتظام کے تحت تجارتی جہازوں کے لیے آبنائے ہرمز سے گزرنے کا محفوظ راستہ بحال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایران اور عمان مستقبل میں اس اہم آبی گزرگاہ کے انتظام اور بحری خدمات کے لیے ایک مستقل طریقہ کار وضع کرنے پر بھی بات چیت کر رہے ہیں۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے، جہاں حالیہ مہینوں میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث بحری آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے۔ تیل بردار جہازوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ نے عالمی توانائی کی منڈیوں میں بھی تشویش پیدا کی ہے۔
دوسری جانب امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے متعلق تقریباً 60 افراد اور اداروں پر نئی پابندیاں عائد کی ہیں، تاہم واشنگٹن نے ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک، خصوصاً چین، کے خلاف فوری طور پر ثانوی پابندیاں عائد نہیں کیں۔ اس اقدام کو امریکی حکومت کی جانب سے اقتصادی دباؤ بڑھانے کے ساتھ ساتھ عالمی مالیاتی نظام اور اہم تجارتی تعلقات پر ممکنہ اثرات کو مدنظر رکھنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
ایران اور عمان کے درمیان حالیہ سفارتی رابطے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پاکستان بھی ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے سفارتی کوششیں کر رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت کی بحالی عالمی تیل کی سپلائی اور خطے کی معاشی صورتحال کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہوسکتی ہے، تاہم مستقل معاہدے کے لیے ایران، امریکا اور علاقائی ممالک کے درمیان کئی حساس معاملات پر اتفاقِ رائے ضروری ہوگا۔

