وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال پر پمز اسپتال کی نرسری میں ہونے والی ہولناک آتشزدگی کے بعد دباؤ بڑھ گیا ہے، جس میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہوئے۔ وزیرِ صحت کے مختلف انٹرویوز میں دیے گئے بیانات بھی تنقید اور سوالات کی زد میں ہیں۔
مصطفیٰ کمال نے واقعے پر جواب دہی کے لیے خود کو بھی پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تحقیقات میں ان کی جانب سے بھی کوئی غفلت ثابت ہوئی تو انہیں بھی ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی شخص کی غفلت ثابت ہوئی تو اسے نہیں بخشا جائے گا۔
وزیرِ صحت کے مطابق ابتدائی معلومات میں نرسری کے ایئر کنڈیشننگ یونٹ میں خرابی یا دھماکے کو آگ کی وجہ قرار دیا گیا، جبکہ وارڈ میں موجود آکسیجن نے شعلوں کو تیزی سے پھیلانے میں کردار ادا کیا۔ تاہم واقعے کی حتمی وجہ اور ممکنہ غفلت کا تعین تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہوگا۔
رپورٹس کے مطابق نرسری میں اس وقت 15 نومولود بچے موجود تھے، جن میں سے صرف ایک کو بچایا جاسکا۔ واقعے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے تحقیقات کا حکم دیا، جبکہ وفاقی صحت سیکریٹری اسلم غوری کو معطل کردیا گیا۔
واقعے پر سیاسی رہنماؤں، صحافیوں اور متاثرہ خاندانوں کی جانب سے بھی سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ سوالات میں اسپتال کے فائر سیفٹی انتظامات، ہنگامی اخراج کے راستوں، عملے کی موجودگی اور ریسکیو کارروائی کی کارکردگی شامل ہیں۔ مختلف تحقیقاتی کمیٹیاں ان پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہیں۔
مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ تحقیقات شفاف انداز میں مکمل کی جائیں گی اور جو بھی ذمہ دار پایا گیا، اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ جوابدہی کا عمل ان سے شروع ہونا چاہیے اور تحقیقات کے نتائج پر عمل کیا جائے گا۔
پمز آتشزدگی: مصطفیٰ کمال کا احتساب کا اعلان، غفلت پر کوئی رعایت نہیں

