واشنگٹن، تہران، تل ابیب( نیوز ایجنسیاں) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران
کے خلاف دوبارہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کرنے کے حوالے سے ایک اہم فیصلے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔جبکہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ وہ ایرانی حکومت کا تختہ الٹ دیں گے، ایرانی حکومت کو شکست دینا اولین ترجیح ہے۔ادھر ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ طاقت اور دباؤ کے ذریعے مطالبات منوانے والا یک طرفہ عالمی نظام اب ختم ہو چکا ہے۔اس کے علاوہ ایران نے آبنائے ہرمز میں کارروائی کرتے ہوئے ٹوگو پرچم والے تیل بردار جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے ، دوسری جانب ایران سے متعلق تنازع اور جنگ کے پہلے ہی مہینے عرب معیشتوں کو تقریباً 150ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف دوبارہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کرنے کے حوالے سے ایک اہم فیصلے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔صدر ٹرمپ نے یہ بات امریکی صحافی بارک راوید کو دیے گئے فون انٹرویو میں کہی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ آپ کے سامنے جلد ایک بڑا فیصلہ آنے والا ہے۔امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ آئندہ فیصلہ کرنے سے پہلے وہ خلیجی ممالک کے رہنماؤں سے براہِ راست ان کی رائے سننا چاہتے ہیں کیونکہ انہیںیہ طے کرنا ہے کہ آیا ایرانی حکومت کے خلاف دوبارہ بڑے حملے کیے جائیں یا نہیں۔خیال رہے کہ ٹرمپ آئندہ ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر خلیج تعاون کونسل کے چھ ممالک، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، کویت اور عمان، کے رہنماں یا اعلی حکام سے ملاقات کرنے والے ہیں۔دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران ٹرمپ سے ملاقات کے خواہاں ہیں تاہم دونوں رہنماؤں کی ملاقات ابھی باضابطہ طور پر طے نہیں ہوئی۔جب ٹرمپ سے نیتن یاہو سے ملاقات کے امکان کے بارے میں سوال کیا گیا تو امریکی صدر نے جواب دیا کہ ہوسکتا ہے۔امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ جولائی میں ایران کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کیے جانے کے بعد سے کوئی بحری جہاز ایران نہیں پہنچا۔انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکا آبنائے ہرمز سے جہاز رات کو نکالتا ہے کیونکہ ایران کو پتا ہی نہیں چلتا، ایران کے ریڈار تباہ کیے جاچکے ہیں۔ایران سے ڈیل ہونے یا علاقے میں مزید فوج بھیجے جانے سے متعلق سوال پر جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم یا تو کوئی اچھا معاہدہ کریں گے، یا پھر کوئی معاہدہ کریں گے ہی نہیں۔ادھر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ وہ ایرانی حکومت کا تختہ الٹ دیں گے، ایرانی حکومت کو شکست دینا اولین ترجیح ہے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی اولین ترجیح ایرانی حکومت کو شکست دینا اور اسے گرانا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے ایرانی حکومت کو شکست دیں گے، ہم اس کا تختہ الٹ دیں گے، یہ حکومت گر جائے گی پھر ہم حزب اللہ سے بھی نمٹیں گے اور وہ بھی ختم ہو جائے گی۔دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت دیگر ایرانی حکام کا امریکا کا ویزا جاری کردیا۔امریکی ٹی وی نے یہ بات امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کے حوالے سے بتائی کہ صدر پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کیلئے نیویارک جانا چاہتے ہیں۔ امریکی ٹی وی کے مطابق ایران کے اہم وفد اور ضروری اسٹاف کا ویزا منظور کیا گیا ہے تاہم وفد میں شامل حکام کی تعداد پچھلے سال کے مقابلے میں کم ہے۔ادھر ایران سے متعلق تنازع اور جنگ کے پہلے ہی مہینے عرب معیشتوں کو تقریباً 150ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے، جو کہ خطے کی مجموعی قومی پیداوار(جی ڈی پی) کے چار فیصد کے برابر ہے۔ اقوامِ متحدہ کے اقتصادی و سماجی کمیشن برائے مغربی ایشیا(اسکوا)کی ایگزیکٹو سیکریٹری ڈاکٹر رانیہ المشاط نے اس تشویشناک صورتحال کا انکشاف کیا ہے۔ڈاکٹر رانیہ المشاط کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب کے ذریعے بحری راستوں میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کی وجہ سے ضروری اشیا کی ترسیل، معاشی استحکام، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔دریں اثناء ایران کے پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز میں ٹوگو کے پرچم تلے سفر کرنے والے ایک تیل بردار جہاز ٹرینڈ کو نشانہ بنانے اور تحویل میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ جہاز میں آگ لگنے کے بعد اسے نشانہ بنایا گیا اور حراست میں لے لیا گیا۔ ایران نے الزام عائد کیا کہ جہاز نے آبنائے ہرمز سے غیر قانونی راستے سے گزرنے کی کوشش کی تھی۔علاوہ ازیںایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ طاقت اور دباؤ کے ذریعے مطالبات منوانے والا یک طرفہ عالمی نظام اب ختم ہو چکا ہے۔ ایک بیان میں باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر کثیر الجہتی نظام کا دفاع اور قانون کی حکمرانی کا احترام ضروری ہے، چین اور روس نے سلامتی کونسل کے سیاسی استعمال کو مسترد کرتے ہوئے قانون کی حکمرانی کے اصولوں کا اعادہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی معاملات میں یک طرفہ طرزِ عمل کسی کے مفاد میں نہیں، جبکہ موجودہ حالات میں کثیر الجہتی نظام کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے، بین الاقوامی مسائل کے حل کیلئے طاقت اور دبا کے بجائے قانون، باہمی احترام اور کثیر الجہتی تعاون کو بنیاد بنایا جائے۔
ٹرمپ
