ریاض، رو م ‘راولپنڈی (نیوز ایجنسیاں) یمن میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کے درمیان گھمسان کی جنگ جاری ہے ۔ شدید جھڑپوں میں 24گھنٹوں کے دوران کم از کم 68افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔یمنی حکومتی عہدیدار نے بتایا کہ حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں میں جنوب مغربی علاقوں میں 23حکومتی فوجی مارے گئے، جبکہ حوثی فوجی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ سعودی فضائی حملوں اور زمینی لڑائی میں ان کے 40جنگجو ہلاک ہوئے، یہ اعداد دونوں فریقوں کے دعووں پر مبنی ہیں۔سعودی حکام کے مطابق طائف میں ایک ڈرون کو روکنے کے بعد گرنے والے ملبے سے ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہوئے، جبکہ حوثیوں کے زیر انتظام میڈیا نے تعز میں سعودی حمایت یافتہ فورسز کے حملوں میں 3بچوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت کے مطابق تازہ لڑائی کے باعث ایک لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوچکے ہیں، حوثیوں نے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں اپنی پیش قدمی بھی جاری رکھی ہے، جس سے خطے میں اہم بحری راستوں کی سلامتی پر تشویش بڑھ گئی ہے۔حوثی رہنما عبدالملک الحوثی نے سعودی عرب سے حملے اور ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، دوسری جانب سعودی فضائی کارروائیاں جاری رہنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ حوثیوں نے سعودی ایف 15طیارہ مار گرانے کا بھی دعویٰ کیا ہے، جس کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔یمن میں بڑھتی ہوئی لڑائی کا اثر عالمی توانائی اور بحری تجارت پر بھی پڑ رہا ہے، آبنائے ہرمز میں پہلے ہی بحری آمدورفت متاثر ہے، جبکہ حوثیوں کے زیر اثر باب المندب میں صورتحال مزید پیچیدہ ہونے سے خلیجی تیل کی عالمی منڈیوں تک ترسیل کے متبادل راستے بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔ترک خبر ایجنسی کے مطابق یمنی فورسز نے مغربی یمن کے ضلع الوازعیہ میں فضائی کارروائیوں کے دوران حوثیوں کی متعدد گاڑیوں کو بھی نشانہ بنایا جس سے انہیں نقصان پہنچا۔علاوہ ازیں سعودی طیاروں نے یمن کے مغربی علاقوں میں حوثیوں کے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور 24گھنٹوں میں 54فضائی حملے کیے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق یمنی فضائی حدود میں سعودی عرب کو نمایاں برتری حاصل ہے جبکہ حوثیوں کے پاس نہ موثر فضائیہ ہے اور نہ مضبوط فضائی دفاعی نظام اور نہ ہی سعودی فضائی کارروائیوں کا مقابلہ کرنے کی قابلِ ذکر صلاحیت ہے ۔ادھر اٹلی نے بحیرہ احمر کے اہم بحری راستے باب المندب سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کے تحفظ کے لیے جنگی بحری جہاز بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔الجزیرہ کے مطابق اٹلی کے وزیر دفاع گائیڈو کروسیتو نے کہا ہے کہ اٹلی یورپی یونین کے مشترکہ فیصلے کا انتظار کیے بغیر تجارتی بحری جہازوں کی حفاظت کے لیے اپنے جنگی جہاز تعینات کرے گا۔گائیڈو کروسیتو نے خبردار کیا کہ اگر باب المندب سے بحری آمدورفت مکمل طور پر متاثر ہوگئی تو اس کے عالمی معیشت پر سنگین اقتصادی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ سعودی عرب میں پاکستانی فورسز حوثیوں کے حملوں کے باعث مکمل ہائی الرٹ ہیں اور ذرائع کے مطابق احکامات ملتے ہی ہر قسم کی کارروائی کیلئے مکمل تیار ہیں ادھر ترجمان پاک فوج نے دوٹوک اعلان کیا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کے دفاع کیلئے کسی بھی حد تک جائے گا۔ ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کا دفاع کرنے کے لیے پاکستان کسی بھی حد تک جائے گا۔عرب ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے، حرمین شریفین کی حفاظت کے لیے وہاں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی سکیورٹی کے لیے ہمارا عزم غیر مشروط ہے، یہ دونوں ملکوں کے عوام، افواج اور سیاسی قیادت کے درمیان نہ ٹوٹنے والا تاریخی رشتہ ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کا دفاع کرتے رہیں گے، سعودی عرب کا دفاع کرنے کے لیے پاکستان کسی بھی حد تک جائے گا۔اس سے قبل ایک اور انٹرویو میں مکہ معاہدے کے کسی ایک فریق پر حملے پر پاکستان کے ردِعمل سے متعلق سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا تھا کہ دفاعی وعدوں پر عمل درآمد کے طریقہ کار کو کبھی بھی عوامی سطح پر ظاہر نہیں کیا جاتا، کسی حملے کا ردِعمل کیا ہو گا، تینوں ممالک لائحہ عمل طے کریں گے اور اسی کے مطابق اس پر عمل درآمد کریں گے۔انہوں نے کہا تھا کہ مکہ معاہدے پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں، سب سمجھتے ہیں کہ یہ اقدام دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد خطے میں استحکام اور امن برقرار رکھنا ہے، دفاع سے متعلق دوسرے معاہدے بھی ہیں، جن میں ایک دوسرے کو تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانیاں ہیں، آپ دراصل یہ پوچھ رہے ہیں کہ معاہدے کے تحت کیسے کارروائی کی جائے گی، فوجی کارروائیوں اور سیکیورٹی سے متعلق معلومات خفیہ ہوتی ہیں، کسی بھی کارروائی کا فیصلہ ان تینوں ممالک نے کرنا ہے۔
گھمسان کی جنگ
