اسلام آباد (حبہ عباسی)اسلام آباد میں اقلیتی برادریوں کے قبرستانوں کا معاملہ سینیٹ کمیٹی میں ایک بار پھر انتظامی ناکامیوں اور زمینوں کے تنازعات کی شکل میں سامنے آگیا۔ اجلاس میں انکشاف ہوا کہ وفاقی دارالحکومت کے تین مسیحی قبرستان مکمل طور پر بھر چکے ہیں اور بند ہو چکے ہیں، جبکہ نئے قبرستان میں ابھی ہزاروں قبروں کی گنجائش موجود ہے۔کمیٹی کے سامنے اس وقت زیادہ بڑا سوال قبرستانوں کی گنجائش نہیں بلکہ زمینوں کی ملکیت، الاٹمنٹ اور دائرہ اختیار کا نکلا۔ رجسٹرار نے بتایا کہ قبرستان کی زمین کی الاٹمنٹ منسوخ ہو چکی ہے اور اس معاملے کی انکوائری گزشتہ ڈھائی سال سے جاری ہے۔ حیران کن طور پر اتنے طویل عرصے میں انکوائری مکمل نہ ہو سکی جس پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر دنیش کمار نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ سابق مینجمنٹ کمیٹی نے 50 سے 55 نوٹسز کے باوجود مطلوبہ ریکارڈ فراہم نہیں کیا، جس کے باعث تحقیقات متاثر ہوئیں۔ حکام کے مطابق زمینوں کی منتقلی اور لین دین کا عمل متعلقہ مینجمنٹ کمیٹیوں کے ذریعے ہوتا رہا، تاہم ریکارڈ میں بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آنے کے بعد تحقیقات شروع کی گئیں۔اجلاس میں یہ صورتحال بھی سامنے آئی کہ کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود آج تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ متنازعہ قبرستان کی زمین اسلام آباد کی حدود میں آتی ہے یا راولپنڈی کی۔ چیئرمین کمیٹی نے اسے حکومتی اداروں کی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان قرار دیتے ہوئے کہا کہ تین چار دہائیوں بعد بھی دائرہ اختیار کا تعین نہ ہونا تشویشناک ہے۔کمیٹی نے قبرستان کی زمین کے دائرہ اختیار، ڈیمارکیشن اور ملکیتی حیثیت کے تعین کے لیے مشترکہ کمیٹی قائم کر دی ہے جس کی سربراہی چیئرمین سی ڈی اے اور سیکرٹری متعلقہ ادارے کریں گے۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ دو ہفتوں میں مکمل رپورٹ پیش کی جائے اور جس زمین پر کوئی عدالتی مقدمہ زیر سماعت نہیں اسے متعلقہ سوسائٹی کو واپس دلانے کے امکانات کا جائزہ لیا جائے۔
اقلیتی قبرستان
