صنعائ، واشنگٹن (نیوز ایجنسیاں)یمن میں حوثی گروپ اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی، حوثیوں نے الزام عائد کیا ہے کہ سعودی عرب نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران یمن کے مختلف علاقوں میں 28 فضائی حملے کیے ہیں۔حوثیوں کے الزامات کے بعد سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے دعوی کیا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے سعودی دارالحکومت ریاض پر بیلسٹک میزائل داغا گیا، جسے فضا میں ہی تباہ کردیا گیا۔سعودی اتحاد کے مطابق ینبع سمیت مغربی سعودی عرب کے مختلف شہروں میں شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی حوثیوں کی کوششیں بھی ناکام بنا دی گئی ہیں۔دوسری جانب خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث سعودی عرب کی تیل برآمدات اور بحیرہ احمر میں سمندری آمدورفت بھی متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔امریکی محکمہ خارجہ نے سعودی عرب میں اپنے سرکاری ملازمین کے طائف اور ینبع کے سفر پر پابندی عائد کردی ہے، جبکہ سعودی عرب میں امریکی سفارت خانے نے بھی سیکیورٹی الرٹ جاری کیا ہے۔ادھر امریکی میڈیا پر دعوی کیا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی درخواست پر یمن میں حوثیوں کے خلاف حملے کا حکم دیا تھا تاہم حملے سے قبل ہی اپنا فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے کارروائی رکوا دی تھی۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ٹرمپ سے حوثیوں کے خلاف کارروائی میں امریکا کو شامل ہونے کی درخواست کی تھی جس کے بعد ٹرمپ نے پینٹاگون کو حملے کی تیاری کی ہدایت دی تھی۔رپورٹ کے مطابق امریکی فوج نے حملے کی تیاری مکمل کر لی تھی، کمانڈروں نے اہداف کی فہرستیں منظور کر لی تھیں، طیاروں پر بم بھی لوڈ کیے جا رہے تھے۔نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے قریبی حلقے میں موجود متعدد افراد ایران کے ساتھ جاری جنگ کے باعث پہلے ہی دبا اور مشکلات کا شکار امریکی فوج کو حوثیوں کے خلاف ایک اور محاذ میں شامل کرنے کے مخالف تھے۔امریکی میڈیا کے مطابق اسی دبائو کے نتیجے میں امریکی صدر ٹرمپ نے اپنا فیصلہ تبدیل کیا اور حوثیوں کے خلاف حملہ روک دیا۔
فضائی حملے
