یو یارک ، تہران ، ابو ظہبی ( نیوز ایجنسیاں) ایران نے کہا ہے کہ اگر اس کے طیاروں کو اڑنے کی جازت نہیں دی گئی تو پھر خطے میں کسی کی پروازیں نہیں اڑ سکیں گی ۔ ادھر نیویارک میں امریکہ اور ایران کے مذاکرات کار جنگ سے مرحلہ وار نکلنے کے ممکنہ معاہدے پر غور کر رہے ہیں۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق مجوزہ معاہدے کے تحت ایران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولے گا، جبکہ امریکہ ایران پر عائد اقتصادی ناکہ بندی ختم کرے گا۔ادھر ایران تنازع کے دوران یو اے ای پر سائبر حملوں کی یلغارہوئی، ایک دن میں 6لاکھ 40ہزار حملوں کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ برطانیہ نے ایران کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر دھمکیاں اور دشمنانہ سرگرمیاں برداشت نہیں کرے گا ۔ جبکہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران جنگ جاری نہیں رکھنا چاہتا، اب جنگ کے خاتمے کا فیصلہ امریکہ کو کرنا ہے۔ جبکہ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کو جنگ کے خاتمے و آبنائے ہرمز کھولنے کا 7روزہ پلان پیش کر دیا۔ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر محمد مخبر نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کو پروازوں اور ہوائی اڈوں کی سہولیات سے محروم کیا گیا تو خطے کے دیگر ممالک بھی اس کے فضائی آپریشن بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ایکس اکاؤنٹ پر جاری اپنے بیان میں ان کا مزید کہنا تھا کہ خطے میں پروازیں یا تو سب کے لیے کھلی ہوں گی یا کسی کے لیے نہیں ہوں گی۔مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے کہا کہ اگر ایران کو پروازیں چلانے اور ایئرپورٹ سروسز حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تو خطے کے کسی بھی ملک کو ان سہولیات تک رسائی حاصل نہیں ہوگی۔محمد مخبر نے مزید کہا کہ امریکا کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف دشمنانہ پالیسیوں پر عمل کرنے والے ممالک کے رویے کو ایرانی عوام کبھی نہیں بھولیں گے۔انہوںں نے کہا کہ ایران کا اس معاملے پر موقف واضح ہے اور خطے میں فضائی سفر کے حوالے سے کسی بھی امتیازی اقدام کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ نیو یارک میں امریکہ اور ایران کے مذاکرات کار جنگ سے مرحلہ وار نکلنے کے ممکنہ معاہدے پر غور کر رہے ہیں۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق مجوزہ معاہدے کے تحت ایران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولے گا، جبکہ امریکا ایران پر عائد اقتصادی ناکہ بندی ختم کرے گا۔خبر ایجنسی کا کہنا ہے کہ کئی ماہ سے جاری جنگ کے بعد دونوں ممالک مرحلہ وار معاہدے کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ایران محصولات کے معاملے پر لچک کا اشارہ دے رہا ہے، تاہم آبنائے ہرمز کے معاملے پر اس کا موقف برقرار ہے۔ادھر امریکی فوج نے آبنائے ہرمز سمیت مشرقِ وسطی میں جدید لیزر ہتھیار نصب کر دیے۔ یہ لیزر ہتھیار ڈرونز اور آنے والے کروز میزائلز کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ان ہتھیاروں کو فوجی اہلکار تبدیل شدہ ایکس باکس گیمنگ کنٹرولرز سے چلا رہے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی محکمہ جنگ نے بتایا ہے کہ لیزر ہتھیار روایتی میزائلز کے مقابلے میں کم لاگت کے ساتھ اہداف کو تباہ کر سکتے ہیں، بجلی سے پیدا ہونے والی انتہائی طاقت ور لیزر شعاع ہدف پر مرکوز ہو کر اسے گرم کرتی ہے جس سے ڈرون یا دیگر ہدف ناکارہ یا تباہ ہو جاتا ہے۔دفاعی ٹیکنالوجی کے ماہر مارک نیس کے مطابق لیزر کے ذریعے ڈرون کو انتہائی درستگی سے نشانہ بنایا جا سکتا ہے، حتی کہ اس کے سینسرز کو ناکارہ کرنے یا پورے ڈرون کو تباہ کرنے کے لیے شعاع کو مخصوص مقام پر مرکوز کیا جا سکتا ہے۔دریں اثناء ایران تنازع کے دوران متحدہ عرب امارات کو بڑے پیمانے پر سائبر حملوں کا سامنا ہے اور اماراتی حکام کے مطابق صرف ایک دن میں 6 لاکھ 40 ہزار سائبر حملے ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ ان حملوں میں توانائی اور دیگر اہم قومی انفرا اسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی کوششیں شامل تھیں۔یو اے ای کے سائبر سکیورٹی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر محمد الکویتی کے مطابق حملہ آوروں نے تیل و گیس، بجلی، پانی، سرکاری نظام اور مالیاتی شعبے کو ہدف بنایا۔ ان کے مطابق حکام نے متعدد حملوں کو بروقت شناخت کرکے ان سے نمٹنے میں کامیابی حاصل کی۔دوسری جانب ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران نے امریکا کو جنگ کے خاتمے، آبنائے ہرمز کھولنے اور ایٹمی پروگرام پر جامع مذاکرات کے لیے 7روزہ پلان پیش کر دیا۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق صحافیوں سے گفتگو میں ان کا کہنا ہے کہ تجاویز امریکا اور ایران کے درمیان دستخط کی گئی مفاہمتی یادداشت سے مماثلت رکھتی ہے۔ ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ امریکا کی آمادگی کی صورت میں ایران تجاویز پر فوری عمل درآمد کے لیے تیار ہے۔ عباس عراقچی کے مطابق تجاویز امریکا کو ثالثوں کے ذریعے پیش کی گئی ہیں، جن پر اتفاق ہونے کی صورت میں 7روز میں آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی اور مذاکرات کا آغاز ہو جائے گا۔قبل ازیں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران جنگ جاری نہیں رکھنا چاہتا، اب جنگ کے خاتمے کا فیصلہ امریکا کو کرنا ہے۔ امریکی میڈیا کو انٹرویو میں ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا کہ تہران مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کیلئے تیار ہے، تاہم ایران پر دبا ئوڈالنے یا طاقت کی زبان استعمال کرنے کو قبول نہیں کرے گا۔ ایرانی صدر نے کہا کہ جب مسائل بات چیت سے حل کیے جاسکتے ہوں تو ایک دوسرے کو مارنے کی ضرورت نہیں، لیکن اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی اشتعال انگیزیوں کے نتیجے میں جنگ ایران پر مسلط کی گئی۔ مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ جنگ کے خاتمے کیلئے معاہدہ کرنے کیلئے تیار ہے، انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایک معاہدے پر دستخط کے صرف دو ہفتے بعد اسے ختم کیوں کیا گیا؟ پزشکیان نے کہا کہ اگر موجودہ امریکی حکومت بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے معاہدہ کرنا چاہتی ہے تو ایران مذاکرات کیلئے تیار ہے، امریکی مڈٹرم انتخابات سے قبل یا بعد میں معاہدہ ہونے سے ایران کیلئے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ مسعود پزشکیان نے امریکا کی جانب سے ایران پر دہشت گردی کی سرپرستی کے الزامات کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا جس ملک کو تباہ کرنا چاہتا ہے، اس پر دہشت گردی کا الزام عائد کردیتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایران نے کسی ملک پر حملہ نہیں کیا بلکہ اپنی سرزمین کے دفاع میں کارروائیاں کی ہیں۔ایرانی صدر نے یمن کی حوثی تحریک سے متعلق کہا کہ حوثی اپنے اقدامات کے خود ذمہ دار ہیں اور تہران سے ہدایات نہیں لیتے۔ ان کے مطابق ایران کے حوثیوں کے ساتھ رابطے ضرور ہیں، تاہم دونوں کے درمیان کوئی منظم تعلق موجود نہیں۔ڈاکٹر پزشکیان نے ایرانی سپریم لیڈر مجتبی خامنہ ای سے متعلق کہا کہ وہ حکومت چلانے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں اور ملک کی قیادت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے نیوکلیئر بم سے متعلق سوال کا 3الفاظ (نہیں، نہیں، نہیں) میں جواب دے دیا۔امریکی میڈیا کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سختی سے تردید کی کہ ایران جوہری بم کا حصول چاہتا ہے، انہوں نے اس بات کا اعادہ بھی کیا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو بین الاقوامی معائنے کے لیے پیش کرنے پر تیار ہے۔علاوہ ازیںآبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمد و رفت مزید کم ہو گئی، گزشتہ روز صرف 9 مال بردار جہاز یہاں سے گزرے۔شپنگ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق ایک روز قبل 14جہازوں نے آبنائے ہرمز کو عبور کیا تھا، جبکہ 10روز کی اوسط تقریباً 18 جہاز ہے۔ادھر ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلی جنس یونٹ نے کہا ہے کہ ایران کی فوجی طاقت نے امریکا کو اپنی جنگی حکمتِ عملی تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا۔پاسداران انقلاب کے بیان کے مطابق امریکا نے اپنی افواج کو مختلف مقامات پر منتشر کرنا، فوجی ساز و سامان کو مزید دور دراز علاقوں میں منتقل کرنا اور خفیہ و زیر زمین مقامات پر انحصار بڑھانا شروع کر دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی عوام کی مزاحمت و حوصلے اور ایران کی جغرافیائی صورتِ حال کے موثر استعمال نے خطے میں امریکا کی روایتی فوجی تعیناتی کو زیادہ غیر موثر بنا دیا ہے۔اس کے علاوہ برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ برطانیہ اپنی سرزمین پر دھمکی، دبا ڈالنے کی کوشش یا کسی بھی قسم کی دشمنانہ سرگرمی برداشت نہیں کرے گا۔ برطانوی میڈیا کے مطابق ایڈ ملی بینڈ نے یہ بات نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کے دوران کہی۔ دونوں رہنماں کے درمیان مشرقِ وسطی میں جاری جنگ، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور برطانیہ میں ایران سے منسلک گروہوں کی مبینہ سرگرمیوں سمیت مختلف امور پر بات چیت ہوئی۔برطانوی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ لندن اپنی سرزمین پر کسی بھی ایسے اقدام کو قبول نہیں کرے گا جسے دھمکی، خوف پھیلانے یا دشمنانہ سرگرمی کے طور پر دیکھا جائے۔
آبنائے ہرمز
بریکنگ نیوز
- سرکاری سکولوں کے سربراہان کو 31اکتوبر تک داخلوں کے اہداف مکمل کرنے کی آخری وارننگ
- کاروباری ہفتے کے آخری روز سٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان
- ایس آئی ایف سی کا ون ونڈو سہولت کاری کا نیا نظام متعارف
- ANF کی ملک بھر میںکارروائیاں، 5 کروڑ مالیت کی منشیات برآمد
- شہرکا امن اور شہریوں کا تحفظ پولیس کی اولین ذمہ داری، فیصل کامران
- ویٹرنری یونیورسٹی میں فار ما سسٹ کا عا لمی دن منایا گیا
- سرگودھا میں 4ہزار سے زائد ماحول دوست چڑیاں بازیاب
- کسان اتحاد کا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ، ملک بھر سے قافلوں کی شرکت کا اعلان
- لیسکو ہیڈکوارٹرز سمیت تمام دفاتر اور گرڈ سٹیشنز کی سکیورٹی سخت
- بابائے جمہوریت نواب زادہ نصر اللہ کی23ویں برسی آج منائی جائیگی
- مکہ معاہدہ تینوں مما لک کی عسکری قیادت کا اجلاس سعدیہ کی سلامتی کیلئے تعاون پر تبادلہ خیال
- PTIلانگ مارچ 3 اکتوبر تک ملتوی محمود اچکزئی کا ماننے سے انکار بزدل دھرنے سے بھاگ گئے عطاء تارڑ
- بلوچستان میں بھارتی سر پرستی یافتی 33 دہشت گرد ہلاک
- نیو یارک: وزیر اعظم شہباز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں۔
- پانی پر قبضے کی کوشش بھارت غلط فہمی میں نہ رہے وزیراعظم شہباز شریف کی جنرل اسمبلی میں بھارت کو للکار
- مریم نواز کے کلینک آن وہل پراجیکٹ 3 کروڑ مریض مستفید
- نیویارک: وزیراعظم شہبازشریف اقوام متحدہ کے جنرل سیکر ٹری انتونیو گوتریس سے مصافحہ کر رہے ہیں۔
- وزیراعظم کا محمود خان اچکزئی کو ایک اور خط’ مذاکرات کی دعوت
- لانگ مارچ’ پی ٹی آئی میں تاریخ اور حکمت عملی پر اختلافات
- موسمیاتی اہداف کے ثمرات عوام تک لازمی پہنچنے چاہیئں وزیر خزانہ
