اسلام آباد(نیوز ایجنسیاں )وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت ملک بھر میں سیاحت کے فروغ کیلئے فعال اقدامات کر رہی ہے۔عالمی یومِ سیاحت کے موقع پر اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور دنیا بھر میں شعبہ سیاحت سے وابستہ افراد اور سیاحوں کے ذوقِ تحقیق و تجسس اور شوقِ سیر و سفر کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ سیاحت کے میدان میں دلکش قدرتی مناظر، قدیم تاریخی یادگاریں، تہذیبی ورثہ اور متنوع ثقافتی رنگ بنیادی محرکات کی حیثیت رکھتے ہیں، اللہ کے فضل سے پاکستان بے مثال قدرتی مناظر، شاندار تہذیبی و ثقافتی ورثہ، تاریخی اور مذہبی مقامات کے ساتھ شعبہِ سیاحت میں روشن امکانات رکھتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت ملکی سیاحت کے فروغ، سیاحتی بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور اس شعبہ سے وابستہ مقامی آبادی اور نوجوانوں کیلئے روزگار و ترقی کے مواقع پیدا کرنے کیلئے کام کر رہی ہے، حکومت پرعزم ہے کہ پاکستان کو ایک محفوظ، پرکشش اور مسابقتی سیاحتی مقام کے طور پر دنیا کے سامنے اجاگر کیا جائے۔شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کا معتدل موسم، پہاڑی علاقوں کی پرفضا آب و ہوا اور خوشگوار وادیاں عالمی سیاحت کو متوجہ کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہیں، پاکستان کی دھرتی، وادی سندھ اور گندھارا سمیت ہزاروں سال قدیم تہذیبوں اور شاندار ثقافتی ورثے کی امین ہے، مذہبی سیاحت کے حوالے سے پاکستان سکھ مت، بدھ مت اور دیگر مذاہب کے پیروکاروں کیلئے تاریخی اور اہم مقدس مقامات کا مسکن ہے۔وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ ملکی سطح پر سیاحت کا فروغ، معاشی ترقی اور ممالک کے مابین اچھے روابط کا باعث ہے اور انفرادی سطح پر کثیر الجہتی ثقافتی رنگوں سے واقفیت دراصل انسانی صلاحیتوں کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، سیاحت و تفریح پر توجہ دراصل صحتمند ذہن اور خوش آئند ترجیحات کا مظہر ہے۔دریں اثناء وزیر اعظم شہباز شریف کے جنرل اسمبلی سے خطاب کے الفاظ کو اقوام متحدہ میں فلسطینی مشن نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر نمایاں کر دیا۔فلسطینی مشن کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے جنرل اسمبلی سے خطاب میں فلسطین کا خصوصی ذکر کیا۔وزیر اعظم شہباز شریف نے فلسطینی خواتین، بچوں اور بزرگوں پر ہونے والے مظالم کو عالمی ضمیر کے سامنے اجاگر کیا۔وزیر اعظم نے عالمی برادری کے سامنے غزہ کے بچوں کے حقِ زندگی، بہتر مستقبل اور خوابوں کی تکمیل کا سوال اٹھایا۔شہباز شریف نے کہا تھا کہ گزشتہ سال ہند رجب نامی فلسطینی بچی نے دل دہلا دینے والی داستان بیان کی تھی، ہند رجب نامی بچی کو اسرائیلی فوجیوں نے بے دردی سے گولی مار دی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ اس سال ایک اور سانحہ ہمارے دلوں اور پوری دنیا کے دل پر بوجھ بن گیا ہے، 8 سال کی وفا عقیلہ نے اس بے مقصد جارحیت میں جان گنوا دی، وفا عقیلہ کا اسکول کا پہلا دن اس کی زندگی کا آخری دن بن گیا۔انہوں نے سوال اٹھایا تھا کہ کیا غزہ میں پیدا ہونے والا بچہ زندگی، مستقبل اور خواب دیکھنے کا حق نہیں رکھتا؟۔
شہباز شریف
