اسلام آباد ، پشاور (ویب ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں) وفاقی وزراء نے خیبر پختونخوا کی حکومت کو نشانے پر رکھ لیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی فیصلہ کرلیں کہ وہ پاکستان کے ساتھ ہیں یا افغانستان کے؟۔ تحریک انصاف ٹی ٹی پی کی بی ٹیم بن چکی ہے۔ جبکہ وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان امیر مقام نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے تمام قانونی تقاضے پورے، کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ ادھر گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ اسمبلی کل توڑنی ہے تو آج توڑ دیں، پھر دیکھیں گے کہ یہ کیسے دوبارہ الیکشن جیت کر آتے ہیں ۔وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اعظم نذیر تارڑ نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ ایمرجنسی لگنی چاہئے اور بالکل لگے گی جبکہ وفاقی وزیر طارق فضل چودھری نے کہا کہ ایمرجنسی لانگ مارچ نہیں بلکہ سکیورٹی صورتحال کی وجہ سے لگے گی۔ وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی لگنے کی وجہ تحریک انصاف کا لانگ مارچ نہیں ہوگی بلکہ وہاں ایمرجنسی سکیورٹی صورتحال کی وجہ سے لگے گی، طارق فضل چوہدری نے کہا ایمرجنسی لگانے کے لیے صوبائی اسمبلی سے منظوری لینے کی ضرورت نہیں ہے۔دریں اثناء وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ آئین میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کا طریقہ کار واضح طور پر موجود ہے۔وفاقی دارالحکومت میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ اگر آئینی شرائط پوری ہوئیں اور ایسے حالات پیدا ہوئے جہاں آئین اجازت دیتا ہے تو گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کی جا سکتی ہے۔دوسری جانب گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے نجی ٹی وی پروگرام گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کی بحث کی نوبت کیوں آئی، اس پر غور کرنا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ دو روز قبل ڈیرہ اسماعیل خان میں خودکش حملہ ہوا جب کہ آج ٹانک میں 3 ٹریفک پولیس اہلکار شہید ہوئے، خیبرپختونخوا میں گورننس اور کرپشن کے مسائل بھی موجود ہیں، جبکہ وفاقی وزیر قانون نے بھی کہا ہے کہ ضرورت پڑنے پر گورنر راج لگ سکتا ہے۔گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ سہیل آفریدی اپنی کرسی بچانے کے چکروں میں لگے ہیں۔گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا گورنر راج مجبوری کے تحت لگایا جاتا ہے، خیبرپختونخوا حکومت اس حد تک نہ جائے کہ گورنر راج لگادیا جائے۔فیصل کریم کنڈی نے کہا اگر صدر پاکستان نے حکم دیا تو وہ گورنر راج لگا دیں گے۔ قبل ازیں وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا سہیل آفریدی فیصلہ کریں کہ پاکستان کے ساتھ ہیں یا افغانستان کے؟ ، افغانستان سے ہونے والے دہشت گرد حملوں پر آپ کے منہ سے ایک لفظ نہیں نکلتا،آپ کو بلٹ پروف گاڑیاں دی جاتی ہیں، آپ وہ واپس کرتے ہیں، نیا پولیس ایکٹ جو آیا ہے اس میں پولیس کا اختیار لینے کی کوشش کی۔وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے ساتھ میڈیا کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ افغانستان سے ہونے والے دہشت گرد حملوں پر آپ کے منہ سے ایک لفظ نہیں نکلتا۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی صوبے کے حالات بدلنے کے لیے ساڑھے 12 سال کافی ہوتے ہیں، اے این پی، مسلم لیگ (ن،) جے یو آئی کی قیادت دہشت گردی کے خلاف جانوں کی قربانی دے چکی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ صرف پی ٹی آئی کو دہشت گرد کچھ نہیں کہتے، ایسا کیوں ہے؟ پی ٹی آئی دہشت گردوں کی مالی معاونت میں ملوث ہے، یہ ٹی ٹی پی کی بی ٹیم ہے۔عطا تارڑ نے کہا کہ کے پی میں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں کیوں چل رہی ہیں؟ کے پی میں موٹر سائیکل پر بھی نمبر پلیٹ موجود نہیں، پی ٹی آئی خیبر پختون خوا میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کو جان بوجھ کر قانونی دائرے میں نہیں لا رہی، یہی نان کسٹم پیڈ گاڑیاں دہشت گرد کارروائیوں میں استعمال ہوتی ہیں۔اس موقع پر وزیر مملکت سینیٹر طلال چوہدری نے بتایا کہ ڈی آئی خان چیک پوسٹ حملے میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت معصوم سویلینز، خواتین، بچے اور غیر مسلح ریسکیو اہلکار شہید ہوئے، ہلاک دہشت گرد کا نادرا میں کوئی ریکارڈ نہیں ملا، تاہم اوپن سورس انٹیلی جنس کے ذریعے تصدیق ہوئی کہ اس کی تصویر کابل کے ایک چوک کی ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ پراکسیز مشرقی سرحد سے فنڈ اور مغربی سرحد کی محفوظ پناہ گاہوں سے آپریٹ ہو رہی ہیں۔وزیر مملکت نے کہا کہ پاکستان نے دو طرفہ سطح، بین الاقوامی فورمز، ڈوزیئرز اور مذاکرات کے ذریعے بارہا کابل انتظامیہ کو سمجھایا لیکن افغان عبوری حکومت نے اپنی سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال نہیں روکا، معصوم شہریوں اور ریسکیو اہلکاروں پر حملے ڈالروں کے عوض کی جانے والی کھلی دہشت گردی ہے۔انہوں نے وزیراعلی خیبر پختونخوا کے دورہ ڈی آئی خان پر سوال اٹھایا کہ اتنی طویل پریس کانفرنس میں وزیراعلی نے افغانستان کا نام لے کر مذمت کیوں نہیں کی؟ صوبائی قیادت دہشت گردوں کے خلاف آخر کیوں نرم گوشہ اپنائے ہوئے ہے؟ انہوں نے کہا کہ کے پی کی سیاسی قیادت 14 سال سے سکیورٹی فورسز کی پشت پر کھڑی نہیں ہوئی۔ کے پی حکومت بتائے کہ این ایف سی کے تحت ملنے والے 800 ارب روپے کہاں خرچ ہوئے؟ صوبے میں سی ٹی ڈی آج بھی کرائے کے مکانوں میں ہے اور فورسز کے پاس نہ بلٹ پروف گاڑیاں ہیں، نہ جیکٹس اور نہ ہی جدید ٹریننگ، جبکہ پولیس ایکٹ میں ترامیم کے ذریعے پولیس سے اختیارات بھی چھیننے کی کوشش کی گئی۔انہوں نے کہا کہ کے پی قیادت سکیورٹی اجلاسوں، اے پی سی اور نیشنل کانٹر ٹیررازم میٹنگز میں شرکت نہیں کرتی، صرف این ایف سی فنڈز مانگنے اسلام آباد آتی ہے،جب صوبائی حکومت قومی سلامتی کے فورمز سے راہ فرار اختیار کرے گی اور دشمن کا نام لینے سے کترائے گی تو دہشت گردی کے خلاف جنگ کیسے جیتی جائے گی؟صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے طلال چوہدری نے واضح کیا کہ اسلام آباد کے 325 راستوں میں سے کوئی بند نہیں کیا گیا، شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور عدالتی احکامات کے تحت کنٹینرز سمیت احتیاطی انتظامات رکھے گئے ہیں جنہیں ضرورت پڑنے پر استعمال کیا جائے گا، جبکہ سامان والے کنٹینرز روکنے کی کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی۔ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ فرانزک لیبز، سیف سٹیز اور جدید آلات کے بغیر امن قائم نہیں ہو سکتا، مگر کے پی کے آدھے سے زائد اضلاع میں آج بھی سی ٹی ڈی موجود نہیں۔ دہشت گردی سے شدید متاثرہ پشاور میں صرف 25 کیمرے تھے اور پہلا سیف سٹی پروجیکٹ اب مکمل ہونے کے قریب ہے۔ پنجاب نے سی ٹی ڈی اور سیف سٹیز بنا کر دہشت گردی کا خاتمہ کیا جبکہ کے پی حکومت نے 14 سال میں ادارے قائم نہیں کیے۔ انہوں نے کہا کہ وہ جلد وفاقی وزیر اطلاعات کے ہمراہ نیشنل ایکشن پلان کے 14 نکات پر وفاق اور صوبوں کی کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دیں گے۔دریں اثناء وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان امیر مقام نے کہا ہے کہ وزیر اعلی سہیل آفریدی کے غیرقانونی اقدامات کے باعث گورنر راج کے تمام قانونی تقاضے پورے ہیں، گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نفیس آدمی ہیں، باقی کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے،کے پی میں کوئی آپشن چلے یا نہ چلے، سہیل آفریدی نہیں چل سکے گا، سہیل آفریدی وزارت اعلی سے ہٹنے کے بعد لوٹ مار کے جرم میں جیل کے اندر ہوگا،صوبے میں میں دہشت گردوں کا راج ہے، عوام ایک عرصے سے دہشت گردی کا سامنا کر رہے ہیں۔ان خیالات کااظہار انہوں نے پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ امیر مقام کا کہنا تھا خیبر پختونخوا کے حالات سب کے سامنے ہیں، خیبرپختونخوا کے عوام ایک عرصے سے دہشت گردی کا سامنا کر رہے ہیں، پورا پاکستان دیکھ رہا ہے کہ خیبرپختونخوا کے لوگ کتنی قربانی دے رہے ہیں، تبدیلی سرکار نے صرف وزرائے اعلی ہی تبدیل کیے، عوام کی قسمت نہیں بدلی۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کی عوام نے پی ٹی آئی کو مینڈیٹ دیا، پی ٹی آئی نے 13 سال حکومت کی، خیبر پختونخوا کے عوام نے جس مقصد کیلئے پی ٹی آئی کو ووٹ دیا، وہ نظر نہیں آ رہا۔انہوں نے کہا کہ موجودہ وزیراعلی کا کوئی تجربہ نہیں ہے، وزیراعلی کو صرف دو ٹارگٹ دئیے گئے ہیں، ایک جتنا لوٹ سکتے ہو لوٹو، دوسرا قیدی کی رہائی، صوبے میں تعلیم، صحت اور بنیادی سہولتیں نہیں دی جا رہیں، سہیل آفریدی کی حکومت کو ابھی تک یہی معلوم نہیں کہ انہوں نے کرنا کیا ہے۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ صوبے میں سب سے بڑا مسئلہ امن و امان کا ہے، امن نہ ہو تو ترقی کی طرف آگے بڑھنا مشکل ہے، امن کے قیام کے لیے مثر اقدامات کرنا ہوں گے، قیام امن اور عوامی مسائل کے حل پر توجہ دینا ضروری ہے، ہم یہاں رہتے ہیں اور زمینی حقائق کی بنیاد پر بات کرتے ہیں،انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے واقعات پر پی ٹی آئی قیادت کے بیانات پر سوالات اٹھتے ہیں، سکیورٹی اہلکار جانیں دے رہے ہیں، ان کی قربانیوں کو کمتر ظاہر نہیں کرنا چاہیے، ہم بہت سوچ سمجھ کر جلسوں اور دیگر سرگرمیوں میں شرکت کرتے ہیں، ہمارے لئے ہر موقع پر سکیورٹی ایک بڑا مسئلہ ہوتا ہے، پی ٹی آئی کے جلسوں اور ریلیوں میں دہشتگردی کے واقعات کیوں پیش نہیں آئے؟ پی ٹی آئی قیادت کو کے پی میں سرگرمیوں کے دوران سکیورٹی خدشات کیوں نہیں ہوتے۔ان کا کہنا ہے کہ ہم دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اپنے لوگوں اور کارکنوں کی شہادتیں دیکھ چکے، مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنوں اور رہنماں کے خاندان بھی دہشتگردی سے متاثر ہوئے، یہاں کے عوام کی تکلیف ہم سب کی تکلیف ہے، ایک کٹھ پتلی وزیراعلی عوام کے مینڈیٹ کی حفاظت نہیں کرسکتا، سہیل آفریدی کے طرز حکومت سے لگتا ہے کہ صوبائی حکومت دہشتگردوں سے مل گئی ہے، آج پورے صوبے میں دہشتگردوں کا راج ہے۔امیر مقام نے کہا کہ آئین کے خلاف قانون سازی منظور نہیں، وزیراعلی سہیل آفریدی آئی جی پی اور چیف سیکرٹری کو اپنا ماتحت بنانا چاہتے ہیں، صوبائی حکومت آئی جی سے ڈی ایس پی تک پولیس پر کنٹرول چاہتی ہے، ایسے اقدامات سے پولیس کا مورال متاثر ہوگا۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ راستے بند ہیں، خیبر پختونخوا کے عوام مشکلات میں ہیں، وزیراعلی نے پہلے27 ستمبر کی تاریخ دی، ہمیں بھی پتا چلے کہ کتنی عوام ان کے ساتھ کھڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ طالبان کو دوبارہ واپس لانے اور افغانستان سے بات چیت پر بھی زور دیا جا رہا ہے، تھانوں کی قیمتیں لگانے کے لئے پولیس کو اپنے ماتحت کیا جا رہا ہے، دہشتگردی کے خلاف صوبائی حکومت کی کوئی حکمت عملی نظر نہیں آتی، شہدا سے متعلق بیان نے فوج اور پوری قوم کے جذبات مجروح ہوئے، پی ٹی آئی ہمیشہ کالعدم ٹی ٹی پی اور دہشتگردوں سے مذاکرات کی بات کرتی ہے، دہری پالیسی اورمعیار کا نشانہ عوام اور سیکیورٹی فورسز بنتی ہیں۔رہنما مسلم لیگ ن کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی کٹھ پتلی وزیراعلی بنا ہوا ہے، وزیراعلی ہائوس میں عوام کی فلاح کیلئے کچھ نہیں، صرف لانگ مارچ کے لئے ٹھیکیداروں سے چندہ جمع کیا جا رہا ہے، لانگ مارچ کی وجہ سے خیبرپختونخوا اور اسلام آباد بند ہیں، باقی ملک میں معمول کی سرگرمیاں جاری ہیں۔امیر مقام نے کہا کہ 27 ستمبر کو نکلنا تھا لیکن جب رپورٹ آئی کہ کوئی نہیں نکلے گا تو لانگ مارچ 4 اکتوبر تک ملتوی کر دیا، سہیل آفریدی مدد کیلئے سابق وزیراعلی علی امین گنڈاپور کے پاس پہنچ گئے، سہیل آفریدی کا آگے چلنا ناممکن ہے، سہیل آفریدی صاحب آپ مزید وزیراعلی نہیں رہ سکتے، گورنر راج ایک آپشن ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اندرونی اور بیرونی تباہی پر سہیل آفریدی کو جانا ہوگا، سہیل آفریدی کے غیرقانونی اقدامات کے باعث گورنر راج کے تمام قانونی تقاضے پورے ہیں، گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نفیس آدمی ہیں، باقی کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے، کوئی آپشن چلے یا نہ چلے، سہیل آفریدی نہیں چل سکے گا، سہیل آفریدی نہ پارٹی کے اندر ہوگا اور نہ پارٹی کے باہر، سہیل آفریدی وزارت اعلی سے ہٹنے کے بعد لوٹ مار کے جرم میں جیل کے اندر ہوگا۔ایک سوال کے جواب میں امیر مقام کا کہنا تھا کہ مذاکرات کی بات تو شہباز شریف نے اپوزیشن لیڈر ہوتے ہوئے بھی کی تھی، ایک قیدی کے ساتھ مذاکرات نہیں ہو سکتے، یہ مجرم ہے، عدالت جائے، ایشوز پر مذاکرات کیلئے تیار ہیں، لیکن ایک مجرم کے یک نکاتی ایجنڈے پرمذاکرات نہیں کرسکتے۔
وفاقی وزراء
