واشنگٹن، تہران (ویب ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کے امکانات معدوم ہورہے ہیں جس سے کشیدگی نہ صرف بڑھ رہی ہے بلکہ دوبارہ لڑائی کا خطرہ بھی منڈلارہا ہے۔ امریکی سینٹ کام نے دعویٰ کیا ہے اس نے ایران سے آبنائے ہرمز کا کنٹرول چھین لیا ہے جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول ہے، کسی کو گزرنے نہیں دینگے۔ ادھر پروازوں پر امریکی پابندیوں کیخلاف ایران اقوام متحدہ اور عالمی عدالت پہنچ گیا جبکہ ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ ایران پہلی سپر پاور ہے۔ امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول ایران سے چھین لیا ہے اور اس کے بحری بیڑے کو امریکی افواج تباہ کرچکی ہیں۔امریکی سینٹرل کمانڈ(سینٹ کام)نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں ایرانی فوجی کمانڈر کے اس دعوے کو غلط قرار دیا کہ پاسداران انقلاب آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول رکھتی ہے۔سینٹ کام کے بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز پر ایران کے مکمل کنٹرول کا دعوی حقیقت کے برعکس ہے کیوں کہ امریکی افواج ایرانی بحریہ کو تباہ کرچکی ہیں اور اب ایران کے پاس بحریہ موجود نہیں ہے۔امریکی فوج کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مطابق گزشتہ چند ماہ کے دوران آبنائے ہرمز سے ایک ارب بیرل سے زائد تیل گزر چکا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران اس اہم تزویراتی بحری گزرگاہ پر مکمل کنٹرول نہیں رکھتا۔دریں اثناء ایران کے ایک اعلیٰ فوجی کمانڈر نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز اور خلیج فارس پر مکمل کنٹرول حاصل ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے کا بھرپور مقابلہ کرنے کے لیے فوجی تیاریاں مکمل ہیں۔ ایرانی فوج کے ڈپٹی کوآرڈی نیٹر ریئر ایڈمرل حبیب اللہ سیاری نے پیر کو آبنائے ہرمز کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کا مغربی حصہ، خود آبنائے اور خلیج فارس اسلامی انقلابی گارڈ کور کی بحریہ کے مکمل کنٹرول میں ہیں۔ادھر امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کے لیے تیسرے ملکوں کے نمائندوں کے دونوں فریقوں سے الگ الگ مذاکرات متوقع ہیں۔عالمی خبر رساں ایجنسی نے مذاکرات سے باخبر ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ ثالث ملکوں کے نمائندے امریکا اور ایران کے ساتھ علیحدہ علیحدہ بات چیت کریں گے۔رائٹرز کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور قطری ثالث اس وقت امریکا میں موجود ہیں، جہاں ایران کی جانب سے پیش کی گئی سات روزہ تجویز کے ترمیم شدہ مسودے پر بات چیت متوقع ہے۔ دوسری جانب ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے کہا ہے کہ نیو یارک میں مذاکرات کا کوئی پروگرام نہیں۔ایرانی میڈیا کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس موقف کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ رواں ہفتے ایران کے ساتھ مزید مذاکرات کی توقع رکھتے ہیں۔ ادھر ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے حزب اللہ کے شہید سربراہ حسن نصراللہ کی شہادت کی دوسری برسی کے موقع پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔اپنے پیغام میں مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ امام خمینی کی قیادت میں آنے والے انقلاب نے غیر ملکی تسلط کے دور کا خاتمہ کیا، بعض لوگ اب ایران کو چوتھی سپر پاور قرار دیتے ہیں، جبکہ ایران پہلی سپر پاور ہے۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں جنوبی سمندر دشمن قوتوں کے لیے کھلے تھے، تاہم اب آبنائے ہرمز کے محافظوں اور جنگجوں کی بدولت دشمن بحیرہ عرب سے آگے نہیں بڑھ سکتے۔مجتبی خامنہ ای کا کہنا تھا کہ غیر ملکی تسلط کے وہ دن جنہیں دشمن واپس لانا چاہتے ہیں، ہمیشہ کے لیے ختم ہوچکے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کے خلاف جاری مزاحمت میں لبنان کے یہ دن تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے، یہ دن لبنان اور مزاحمت کے تمام مجاہدین کے لیے عظمت اور فخر کے دن ہیں۔ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ مجاہدین کا حوصلہ بڑھانے کے لیے ایرانی عوام گزشتہ سات ماہ سے سڑکوں پر جوش و خروش کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔دوسری جانب ایران نے اپنی پروازوں پر امریکی پابندیوں کیخلاف شکایت اقوام متحدہ اور عالمی عدالت انصاف میں جمع کرادی۔ایران نے امریکی پابندیوں کے باعث پروازوں کی منسوخی پر اقوام متحدہ کے اداروں میں باضابطہ شکایت دائر کردی۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران نے اپنے فضائی شعبے پر عائد امریکی پابندیوں کے خلاف بین الاقوامی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن (آئی سی اے او) میں باضابطہ احتجاج جمع کرایا ہے۔ایرانی سول ایوی ایشن کے سربراہ ابوالفضل شِرودی نے بتایا کہ اس شکایت کا مقصد ایرانی فضائی شعبے کے جائز حقوق کا دفاع اور امریکا کی جانب سے عائد کی گئی غیر قانونی پابندیوں کا مقابلہ کرنا ہے۔انھوں نے مزید بتایا کہ کہ اس معاملے پر ایرانی وزارت خارجہ کے تعاون سے عالمی عدالت انصاف (ICJ) میں بھی شکایت دائر کی گئی ہے۔ جہاں سے ایران کو انصاف کی امید ہے۔
امریکی فوج
