پشاور، لاہور، اسلام آباد( ویب ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ گورنر راج یا ایمرجنسی کی دھمکیوں سے وہ اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ادھر پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجانے کہا ہے کہ لانگ مارچ کسی بیک ڈور رابطے کی وجہ سے ملتوی نہیں کیا،اس کے بعد ابھی تک حکومت نے مذاکرات کا کوئی سگنل نہیں دیا،ظلم، فسطائیت، سفاکیت کی انتہا ہوچکی ۔ جبکہ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر سینیٹر علامہ راجا ناصر عباس نے کہا ہے کہ لانگ مارچ سے متعلقہ فیصلہ پی ٹی آئی کا تھا، تحریک تحفظ آئین پاکستان کو صرف آگاہ کیا گیا۔علاوہ ازیں تحریک تحفظ آئین پاکستان نے 4اکتوبر کی پی ٹی آئی کی کال کی حمایت کردی۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ گورنر راج یا ایمرجنسی کی دھمکیوں سے وہ اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔پشاور میں امن و امان سے متعلق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام، پولیس اور فوج نے امن کے قیام کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں، صوبے کے 80ہزار سے زائد افراد نے پاکستان کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ دو دہائیوں کی قربانیوں سے حاصل ہونے والا امن دوبارہ بدامنی کی نذر کر دیا گیا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ دہشت گردوں کے پہاڑوں پر جانے سے لے کر ان کی دوبارہ آبادکاری تک ریاست اور وفاق کو مسلسل خبردار کیا گیا، خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں جلسے، جلوس اور مظاہرے کرکے بدامنی کی واپسی کے خلاف آواز اٹھائی گئی، تاہم بار بار کی تنبیہات کو وفاقی وزرا نے پروپیگنڈا اور جھوٹ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ موجودہ پالیسی غلط ہے اور اس کے نتیجے میں دوبارہ پختونوں کا خون بہہ رہا ہے، خیبر پختونخوا کے عوام کو ایک مخصوص مائنڈ سیٹ کے تجربات کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ آج صوبے میں فوجی جوان، پولیس اہلکار، بچے، خواتین، بزرگ اور عام شہری دہشت گردی کا نشانہ بن رہے ہیں۔سہیل آفریدی نے کہا کہ لاڈلوں کے لیے ایک پالیسی اور خیبر پختونخوا کے لیے دوسری پالیسی نہیں چل سکتی، بھارت کے حوالے سے ریاستی بیانیے کی نفی کرنے والوں سے بھی سوال ہونا چاہیے۔ خیبر پختونخوا کو دوبارہ دہشت گردی کی آگ میں جھونکنے کی پالیسی ناقابل قبول ہے ۔وزیراعلی نے کہا کہ امن کے لیے ترقیاتی بجٹ میں 35ارب روپے کی کٹوتی کرکے پولیس کو دی گئی، مالی سال 2026میں پولیس کی استعداد بڑھانے کے لیے وسائل فراہم کیے گئے اور پولیس کے بجٹ میں 103فیصد اضافہ کیا گیا۔ پولیس کی نفری اور استعداد کار کو مضبوط، اسپیشل برانچ کو مستحکم اور پولیس کو جدید اسلحہ و دیگر ضروری آلات فراہم کیے جا رہے ہیں۔دریں اثناء پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجانے کہا ہے کہ لانگ مارچ کسی بیک ڈور رابطے کی وجہ سے ملتوی نہیں کیا،اس کے بعد ابھی تک حکومت نے مذاکرات کا کوئی سگنل نہیں دیا،ظلم، فسطائیت، سفاکیت کی انتہا ہوچکی ، بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہنوں کو جب گرفتار کیا گیا تو 100 سے زائد مرد پولیس اہلکار گھر میں داخل ہوئے جنہوں نے دروازے توڑے،وہاں بچیاں بھی موجود تھیں۔وہ لاہور ہائیکورٹ میں علیمہ خان کیس کی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔سلمان اکرم راجہ نے بیک ڈور رابطوں کی وجہ سے لانگ مارچ ملتوی ہونے کی خبروں کو مسترد کردیا اور کہا کہ لانگ مارچ ملتوی کرنے کے بعد ابھی تک حکومت نے مذاکرات کا کوئی سگنل نہیں دیا لیکن ہم نے حکومت کو مزید وقت دیا کہ وہ اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کرے۔ انہوں نے کہا کہ 27ستمبر کا لانگ مارچ کسی بیک ڈور رابطہ کی وجہ سے ملتوی نہیں کیا بلکہ یہ پارٹی کا انفردی فیصلہ تھا، اگر کوئی بات ہوگی تو علامہ ناصرعباس اور محمود اچکزئی موجود ہیں، کوئی رابطہ کاری ہوتی ہے تو ضروری نہیں وہ فوری منظر عام پر آئے۔سلمان اکرم کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی تازہ لہر اس بات کا تقاضہ کرتی ہے کہ سب مل بیٹھ کربات کریں، مذاکرات کے نتیجے میں کوئی فیصلہ ہوا تو ہم اس کی پاسداری کریں گے، مطالبہ یہی ہے کہ بانی کو شفا اسپتال منتقل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ظلم فسطائیت، سفاکیت کی انتہا ہوچکی ہے،جو کچھ ہورہا ہے ہم نے عدالت کے سامنے یہ تمام باتیں رکھی ہیں ۔قبل ازیں ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان نے کہا کہ تحریک انصاف اپوزیشن اتحاد کا حصہ ہے، اب تحریک انصاف کی جانب سے 4 اکتوبر کی کال دی گئی ہے، تحریک تحفظ آئین پاکستان اپنی اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر 4 اکتوبر کی کال میں بھرپور شرکت کرے گی، ترجمان اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی نے کہا کہ 27 ستمبر کی کال کو سربراہی اجلاس میں متفقہ طور پر اپوزیشن اتحاد کی مشترکہ کال قرار دیا گیا تھا، اجلاس میں سندھ اور بلوچستان میں احتجاج کے حوالے سے حکمت عملی بھی طے کی گئی تھی۔ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان نے کہا کہ وزیراعلی اور تحریک انصاف کی قیادت کے ساتھ بھی اس معاملے پر تفصیلی مشاورت ہوئی تھی۔انہوں نے کہا وزیراعلی خیبر پختونخوا نے بھی اپنے بیان میں واضح کیا تھا، وزیراعلی نے کہا تھا کہ 27 ستمبر کے حوالے سے فیصلہ تحریک انصاف کی پولیٹیکل کمیٹی کا تھا، سیاسی کمیٹی کے فیصلے کے اعلان سے قبل بیرسٹر گوہر قائدینِ حزبِ اختلاف کے پاس آئے تھے اور بیرسٹر گوہر کو واضح بتایا گیا تھا 27 ستمبر سے ایک ایک دن ہمارے لیے اہم ہے۔ بیرسٹر گوہر کو کہا تھا کہ یہ وقت دوبارہ نہیں آئے گا، ترجمان کے مطابق موجودہ حالات میں یہ وقت پاکستان کے جمہوری مستقبل، آئین کی بالادستی کے لیے نہایت اہم ہے۔ادھر سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر سینیٹر علامہ راجا ناصر عباس نے کہا ہے کہ لانگ مارچ سے متعلقہ فیصلہ پی ٹی آئی کا تھا، تحریک تحفظ آئین پاکستان کو صرف آگاہ کیا گیا۔اسلام آباد میں نجی ٹی وی سے گفتگو میں علامہ راجا ناصر عباس نے کہا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان نے پی ٹی آئی کو مشورہ دیا تھا کہ اپنے ایجنڈے کو پورے پاکستان کا ایجنڈا بنائیں۔انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ سے متعلق فیصلہ پی ٹی آئی کا اپنا فیصلہ تھا، تحریک تحفظ آئین پاکستان کو پی ٹی آئی نے صرف اپنے فیصلے سے آگاہ کیا۔اپوزیشن لیڈر سینیٹ نے مزید کہا کہ حزب اختلاف کے اتحاد نے پی ٹی آئی کو مشورہ دیا تھا کہ امن و امان، معدنیات، صوبوں کے معاملات سب شامل کریں۔ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن اتحاد ملاقات میں پی ٹی آئی کی لیڈرشپ بھی موجود تھی، ہم نے آخری نشست میں کہا تھا کہ بیانیے کو پورے ملک کا ایجنڈا بنایا جائے۔علامہ راجا ناصر عباس نے یہ بھی کہا کہ ہم نے کہا تھا صوبوں کے حقوق بلوچستان اور سندھ کے مسائل کو بھی ایجنڈے میں شامل کیا جائے، ہمارا موقف تھا خیبر پختونخوا اور ملک کے معاشی و سیاسی معاملات کو بھی ایجنڈے میں شامل کریں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اتنے قیدی نہیں رہے، جو اس وقت پنجاب میں قید ہیں، اس وقت ملک میں مہنگائی ہے، پیٹرول کی قیمتیں بڑھا دی گئی ہیں۔اپوزیشن لیڈر سینیٹ نے کہا کہ عوام کے مسائل ہیں غربت بڑھ رہی ہے، ان مسائل کا حل لازم ہے، ہم سب کی طرف سے بولیں تو باقی پوری قوم ساتھ دے گی۔
سہیل آفریدی
