ملتان (وقائع نگار) پاکستان بھر میں ریلوے کی تقریباً 32 ارب روپے مالیت کی اراضی پر قبضوں ہیں۔ ملتان ریلوے ڈویژن کی مختلف مقامات پر واقع سینکڑوں کنال قیمتی اراضی تاحال ناجائز قابضین کے استعمال میں ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ افسران کے تبادلوں، ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ کی تبدیلی اور وفاقی وزیر ریلوے کی جانب سے کارروائی کی ہدایات کے باوجود بیشتر اراضی تاحال واگزار نہ کرائی جا سکی۔دستیاب ریکارڈ کے مطابق شیر شاہ ملتان میں 140 کنال، ڈیرہ غازی خان کے قریب 500 سے زائد کنال، موضع ہوت والا میں تقریباً 832 کنال، چک نمبر 12ـB.C میں 385 کنال 17 مرلے، چک نمبر 8ـB.C میں 551 کنال 12 مرلے جبکہ موضع غنی پور میں تقریباً 117 کنال ایک مرلہ ریلوے اراضی کے حوالے سے قبضوں اور حد بندی کے مسائل موجود ہیں۔بتایا گیا ہے کہ موضع ہوت والا میں ریلوے ٹریک بند ہونے اور اراضی کے مؤثر استعمال نہ ہونے کے باعث بڑے رقبے پر قبضے ہیں، جبکہ بعض رقبہ کاشت کے لیے دیا گیا ہے۔ اسی طرح مختلف مقامات پر ریلوے کے لیز ریکارڈ اور موقع پر موجود اراضی کی مکمل پیمائش اور حد بندی نہ ہونے کے باعث اصل صورتحال واضح نہیں ہو رہی۔ریلوے انتظامیہ کی جانب سے لیز اور لینڈ ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کیا جا رہا ہے، تاہم ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن کے ساتھ موقع پر ڈیجیٹل پیمائش اور حد بندی بھی ضروری ہے تاکہ ریلوے کی ملکیتی اراضی اور مبینہ قابضین کی درست نشاندہی ہوسکے۔شہری و سماجی حلقوں نے وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی اور ڈی ایس ریلوے ملتان خالد خان سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام متنازعہ اراضی کی مکمل پیمائش، حد بندی اور ریکارڈ کی تصدیق کروا کر ناجائز قبضے ختم کرائے جائیں اور ریلوے کی قیمتی اراضی کو مستقبل میں تجاوزات سے محفوظ بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
ریلوے اراضی
