ملتان (مانیٹرنگ ڈیسک) حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کامیاب، بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق ہوگیا۔بانی پی ٹی آئی سے ملاقات پر رضامندی، تھری ایم او کے تحت کارکنان اور رہنماؤں کی رہائی، کے پی حکومت دہشت گردی پر سیاست نہیں کرے گی۔ حکومت اور اپوزیشن مذاکرات دوسرے دور میں کامیاب ہوگئے تاہم دونوں فریقین نے مطالبات پر بات چیت کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ حکومت، پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کے درمیان مذکرات کا دوسرا دواسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی سربراہی میں ہوا۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے اپوزیشن بانی چیئرمین سے ملاقات کروانے پر رضامندی ظاہر کی جس کے لیے اپوزیشن نے ایک رہنما کا نام بھی دیا ہے۔ 3 ایم پی او کے تحت گرفتار ہونے والے رہنماؤں اور کارکنان، بانی چیئرمین کی بہنوں کی رہائی پر بھی اتفاق ہوگیا جبکہ یہ بھی طے پایا کہ کے پی حکومت دہشتگردی پر سیاست نہیں کرے گی۔ ذرائع کے مطابق بانی چیئرمین کے حوالے سے سپریم کورٹ کے آرڈر پر بھی عملدرآمد کروائے جانے کا امکان ہے۔قبل ازیں اجلاس میں اسپیکر قومی اسمبلی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ کل کا اجلاس بہت خوشگوار ماحول میں ہوا، آج بھی امید ہے کے تمام فریقین خوشگوار ماحول میں مذاکرات کو آگے بڑھائیں گے۔ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے حکومت، پیپلز پارٹی اور اپوزیشن اراکین کا شکریہ ادا کیا۔مذاکرات میں حکومت کی جانب سے وفاقی وزرائ امیر مقام، رانا ثنائ اللہ، محسن رضا نقوی، طلال چوہدری اور طارق فضل چوہدری جبکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے شیری رحمان، نوید قمر اور اعجاز حسین جاکھرانی مذاکرات میں شریک تھے۔ اپوزیشن کی جانب سے بیرسٹر گوہر خان، راجہ ناصر عباس، عامر ڈوگر، اسد قیصر، حلیم عادل شیخ اور سلمان اکرم راجہ شریک ہوئے۔ امیر مقام نے کہا کہ ہم نے کل اپوزیشن سے آگے بڑھنے کیلیے لانگ مارچ منسوخ کرنے کی بات کی تھی مگر آج سہیل آفریدی نے کل دن ایک بجے لانگ مارچ کا ٹویٹ کردیا۔ حکومتی رکن نے مؤقف دیا کہ سینیر حکومتی اکابرین بارے نازیبا زبان استعمال کی گئی، ایسے میں ہم کیا سمجھیں کہ اپوزیشن وفد کتنا با اختیار ہے۔اْدھر اپوزیشن اراکین نے خواجہ ا?صف کے ٹویٹ کا شکوہ کیا اور سوال کیا کہ کیا وہ درست ہے؟ اگر آگے بڑھنا ہے تو اعتماد بحال کرنا ہوگا۔
مذاکرات کامیاب
