راولپنڈی(عرفان طاہر چوہان )واسا راولپنڈی کے افسران اور اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت اور نااہلی کے باعث نالہ لئی گنج منڈی سیوریج لائن کی تعمیر و بحالی کا کام گزشتہ ایک سال سے سست روی کا شکار ہونے کے باعث شہریوں، تاجروں، مزدوروں اور ٹرانسپورٹرز کے لیے وبال جان بن گیا۔ حکومت کی جانب سے کروڑوں روپے کے فنڈز فراہم کیے جانے کے باوجود منصوبہ تاحال مکمل نہ ہو سکا، جگہ جگہ سڑکیں کھودی گئی ہیں، گہرے گڑھے اور مٹی و بجری کے ڈھیر موجود ہیں جبکہ شہریوں کے لیے پیدل چلنے کا راستہ بھی دشوار ہو چکا ہے۔ خبریں سروے کے دوران شہریوں اور تاجروں کی کثیر تعداد نے کہا ہے کہ ٹھیکیدار کئی کئی روز تک موقع پر آتا ہی نہیں جبکہ متعلقہ افسران بھی فیلڈ میں کام کی نگرانی کرتے دکھائی نہیں دیتے اور زیادہ تر دفتروں تک محدود رہتے ہیں، جس کے باعث کروڑوں روپے کے منصوبے کی رفتار انتہائی سست ہے۔ان خیالات کا اظہار شہری محمد اشرف،ساجد احمد، عمران خان،محمد نعیم، عدیل، تابش وغیرہ نے روزنامہ خبریں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ گنج منڈی شہر کا اہم تجارتی مرکز ہے جہاں روزانہ ہزاروں شہری اور گاڑیاں آتی جاتی ہیں، مگر سڑک کی کھدائی کے باعث کاروبار شدید متاثر ہو رہا ہے۔ مال بردار گاڑیوں کو دکانوں تک پہنچنے میں مشکلات پیش آتی ہیں اور کئی مرتبہ ٹریفک جام کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔اگر کام کرنا ہے تو اسے مسلسل جاری رکھ کر مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے تاکہ تاجروں کا نقصان مزید نہ بڑھے۔جگہ جگہ گڑھوں اور مٹی و بجری کے باعث گاڑی خراب ہونے کا خطرہ رہتا ہے، جبکہ موٹر سائیکل سوار کئی مقامات پر موٹر سائیکل سے اتر کر اسے دھکیلنے پر مجبور ہیں۔گزشتہ ایک سال سے سڑک کی صورتحال خراب ہے، جس کی وجہ سے نہ صرف کاروبار متاثر ہو رہا ہے بلکہ دکانوں کے سامنے گرد و غبار بھی جمع رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بارش کے دوران صورتحال مزید خراب ہو جاتی ہے اور کھدائی کی گئی جگہوں پر پانی جمع ہونے سے شہریوں کے لیے گزرنا دشوار ہو جاتا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ سیوریج لائن کا کام جلد مکمل کرکے سڑک کو فوری طور پر قابل استعمال بنایا جائے۔شہری اور سماجی حلقوں نے وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف،کمشنر راولپنڈی اور واسا حکام سے مطالبہ کیا کہ منصوبے کا فوری معائنہ کرایا جائے، کام کی رفتار تیز کی جائے، ٹھیکیدار کی حاضری اور کارکردگی کی نگرانی کی جائے اور کھودی گئی سڑک کو کام مکمل ہوتے ہی فوری طور پر بحال کیا جائے تاکہ شہریوں، تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ہو سکے۔
