لاہور (کامرس رپورٹر) لمز انرجی انسٹی ٹیوٹ (LEI) نے لمز میں بجلی کے شعبے میں استعمال ہونے والے آلات کی مقامی سطح پر تیاری کے روڈ میپ پر دوسری قومی مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ ورکشاپ میں وزارتِ توانائی، واپڈا، نیشنل گرڈ کمپنی (NGC)، پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی (PPMC)، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (DISCOs)، متعلقہ ریگولیٹری اداروں، بجلی کے آلات بنانے والی کمپنیوں، صنعتی تنظیموں، پالیسی سازوں اور تعلیمی شعبے کے نمائندوں نے شرکت کی۔ ورکشاپ کا مقصد پاکستان میں بجلی کے آلات بنانے کی مقامی صنعت کو مضبوط بنانا، درآمدات پر انحصار کم کرنا اور اس حوالے سے ایک مشترکہ قومی حکمتِ عملی کو آگے بڑھانا تھا۔ مئی 2025 میں منعقد ہونے والی پہلی ورکشاپ کے بعد اس اقدام میں مزید پیش رفت ہوئی ہے۔ ابتدائی جائزوں سے آگے بڑھتے ہوئے اب مختلف مصنوعات کی طلب اور رسد کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا ہے، تاکہ بجلی کے شعبے کی ضروریات کو پاکستان میں موجود پیداواری صلاحیت کے مطابق بنایا جا سکے۔ وزارتِ توانائی(پاور ڈویژن) کے مشیر فیضان علی شاہ نے لمز کی اس کاوش کو سراہتے ہوئے کہا کہ بجلی کے آلات میں صرف 30 فیصد مقامی اجزا کا استعمال، مقامی صنعت کو فروغ دینے کے مقاصد کے حصول کے لیے کافی نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نیشنل الیکٹریسٹی پلان 2027-2023 کے تحت انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ (EDB) کو 2024 تک حکومت کو بجلی کے آلات کی مقامی سطح پر پیداوار کا باقاعدہ منصوبہ پیش کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی، تاہم یہ ذمہ داری پوری نہیں کی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزارتِ توانائی (پاور ڈویژن) اب تمام متعلقہ فریقین سے مشاورت کے ساتھ اس منصوبے کی تیاری کو ترجیح دے گی۔ لمز انرجی انسٹی ٹیوٹ کے پروفیسر آف پریکٹس اور سینئر ایڈوائزر ڈاکٹر فیاض احمد چوہدری نے کہا کہ مقامی صنعت کی ترقی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ LEI نے بجلی کے آلات خریدنے والے اداروں، مقامی صنعت کاروں اور پالیسی سازوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کیا ہے، جہاں وہ صنعت کو درپیش مسائل کا مل کر حل تلاش کر سکتے ہیں، درآمدی مصنوعات کے متبادل کے طور پر مقامی پیداوار کو فروغ دے سکتے ہیں اور پاکستان کی پیداواری صلاحیت کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔ اس کا مقصد بجلی کے آلات کی ایسی صنعت قائم کرنا ہے جو عالمی منڈی میں بھی مقابلہ کر سکے۔لمز انرجی انسٹی ٹیوٹ کے پروگرام لیڈ انجینئر فیصل جاوید مغل نے بجلی کے آلات کی مقامی سطح پر پیداوار کے ممکنہ مواقع، آئندہ دس سال میں ان کی متوقع طلب اور پاکستان میں ان آلات کی تیاری کے لیے موجود صنعتی صلاحیت پر روشنی ڈالی۔
