لاہور (خبر نگار) محکمہ آبپاشی پنجاب میں سرکاری گاڑیوں کو سکریپ ظاہر کرکے مبینہ طور پر کروڑوں روپے
کی قیمتی ڈیفنڈر گاڑیاں نجی افراد کو بغیر نیلامی کے اونے پونے میں فروخت کر دی گئی ہیں۔ دھرم پورہ ورکشاپ کے متعلقہ افسران پر الزام ہے کہ بہترین کنڈیشن کی گاڑیوں کو سرکاری ریکارڈ میں ناکارہ ظاہر کرکے شفاف نیلامی کے بغیر مخصوص نجی خریداروں کے حوالے کیا گیا جبکہ مبینہ طور پر فی گاڑی آٹھ سے دس لاکھ روپے تک وصول کیے گئے لیکن سرکاری خزانے میں صرف ڈیڑھ سے اڑھائی لاکھ روپے فی گاڑی جمع کرانے کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔ ذرائع کے مطابق اگر ان گاڑیوں کو میرٹ پر نیلام کی جاتی تو ادارے کے خزانے میں نیلامی کی مد میں کروڑوں روپے کا فاہدہ ہوتا اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو معاملہ محض انتظامی غفلت نہیں بلکہ سرکاری اثاثوں کی مبینہ غیر قانونی فروخت، اختیارات کے ناجائز استعمال اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کی سنگین مثال بن سکتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ محکمہ آبپاشی کی قیمتی ڈیفنڈر گاڑیوں کو کاغذوں میں ناکارہ یا سکریپ ظاہر کیا گیا جبکہ ان میں سے بعض گاڑیاں ہیڈ آفس، بعض دھرم پورہ ورکشاپ اور کچھ ٹھوکر نیاز بیگ کے علاقے میں واقع محکمہ آبپاشی کے دفاتر میں کھڑی رکھی گئیں۔ الزام ہے کہ ان گاڑیوں کو باقاعدہ، شفاف اور مسابقتی نیلامی کے ذریعے فروخت کرنے کے بجائے نجی افراد، خصوصا گاڑیوں کی خرید و فروخت کا کاروبار کرنے والے افراد کو مبینہ طور پر فروخت کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر گاڑیاں واقعی ناکارہ اور صرف سکریپ کے قابل تھیں تو ان کی اصل حالت، قابلِ استعمال پرزہ جات اور مارکیٹ ویلیو کا غیر جانبدارانہ تعین کیوں نہیں کرایا گیا؟ اور اگر گاڑیاں بہترین حالت میں تھیں تو انہیں سکریپ قرار دینے کی منظوری کس نے دی؟ گاڑیوں کی موقع پر موجود حالت، سرکاری ریکارڈ میں درج تفصیلات، تشخیصی رپورٹس، فروخت کی رسیدوں اور ادائیگیوں کی جانچ ہی اس معاملے کی اصل حقیقت سامنے لاسکتی ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ فی گاڑی مبینہ طور پر آٹھ سے دس لاکھ روپے تک قیمت وصول کی گئی جبکہ سرکاری حساب میں صرف ڈیڑھ سے اڑھائی لاکھ روپے فی گاڑی جمع کرائے گئے۔ تاہم ان رقوم، گاڑیوں کی تعداد اور سرکاری خزانے کو پہنچنے والے مجموعی نقصان کی آزادانہ تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔ اگر فروخت کی اصل قیمت اور سرکاری ریکارڈ میں ظاہر کردہ رقم کے درمیان فرق ثابت ہو جاتا ہے تو یہ فرق قومی خزانے کو ممکنہ نقصان اور رقم کے حساب کتاب کی باقاعدہ تحقیقات کا تقاضا کرے گا۔ معاملے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اگر سرکاری گاڑیاں فروخت کرنے کے لیے مقررہ قواعد کے تحت نیلامی لازم تھی تو اسے نظرانداز کرنے، خریداروں کے انتخاب، گاڑیوں کی قیمت مقرر کرنے اور فروخت کی منظوری دینے والے تمام افسران کے کردار کا تعین کیا جانا ضروری ہے بالخصوص متعلقہ ایکسین اور ورکشاپ کے ذمہ دار افسران کی منظوری، فائلوں پر دستخط، سکریپ قرار دینے کی وجوہات اور سرکاری خزانے میں جمع شدہ رقوم کی جانچ ناگزیر ہے۔
