رریاض، صنعا، اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی دارالحکومت میں رات گئے 3 بڑے دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں ، ادھر یمنی فورسز نے 1732 ٹھکانوں پر حملے کئے جس کے نتیجہ میں 900 سے زائد حوثی ہلاک ہوگئے۔ دوسری جانب حوثیوں کے حملے کے بعد ریاض میں کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو 17اکتوبر تک کے لیے بند کردیا گیا ہے جب کہ متعدد ایئرلائنز نے سعودی عرب کے دیگر شہروں کے لیے بھی پروازیں معطل کردیں۔ یمنی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ آپریشن فجر الیمن کے تحت حوثی ملیشیا کے ایک ہزار 732 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 900سے زائد حوثی ہلاک ہوئے۔سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے میں ایک پاکستا نی شہری جاں بحق ہوگیا، حملے میں 11دیگر افراد زخمی بھی ہوئے۔وزیر اعظم شہباز شریف نے حوثی حملوں کی شدید مذمت کی ہے جبکہ پی آئی اے کی سعودی عرب کیلئے درجنوں پروازیں منسوخ کردی گئیں۔ یمنی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ آپریشن فجر الیمن کے تحت حوثی ملیشیا کے ایک ہزار 732ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 900سے زائد حوثی ہلاک ہوئے۔یمنی فوج کے بیان کے مطابق آپریشن فجر الیمن کے نتیجے میں وسیع تر فوجی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔مزید کہا گیا ہے کہ حوثی ملیشیا کی تقریباً 300فوجی گاڑیوں اور آلات کو تباہ یا ناکارہ بنا دیا گیا۔بیان میں کہا گیا کہ یمنی فضائیہ نے مارب کے جنوب مغربی محاذوں پر حوثی ملیشیا کی بیرکوں اور گوداموں کو بھی نشانہ بنایا۔دریں اثناء سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے میں ایک پاکستا نی شہری جاں بحق ہوگیا، حملے میں 11 دیگر افراد زخمی بھی ہوئے۔سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے کہا کہ حملے میں ہونے والے دیگر مالی نقصان کا تخمینہ لگایا جارہا ہے، اتوار کی شام دمام کے شاہ فہد ایئرپورٹ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔شاہ خالد اور شاہ فہد ایئرپورٹس پر پروازیں معطل کردی گئی ہیں، جدہ ایئرپورٹ پر بھی پروازیں متاثر ہوئی ہیں۔اس سے پہلے سعودی اتحادی فوج نے مشرقی صوبے میں ڈرون تباہ کر نے کا اعلان کیا تھا۔دریں اثناء وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر حوثیوں کے حملے میں 6 پاکستانی شہریوں کے زخمی ہونے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔اپنے ایک پیغام میں وزیرِ اعظم نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی اور کہا کہ ریاض میں موجود پاکستانی سفارت خانہ سعودی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور متاثرہ خاندانوں کی ہر ممکنہ مدد کر رہا ہے۔قبل ازیں سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی بندش میں مزید 24 گھنٹے کی توسیع کردی گئی ہے، جس کے باعث پاکستان سے سعودی عرب جانے والی پروازوں کا شیڈول متاثر ہوا ہے۔ ایوی ایشن ذرائع کے مطابق سعودی عرب کے لیے فضائی آپریشن تاحال غیر یقینی صورت حال کا شکار ہے۔سعودی جنرل اتھارٹی برائے شہری ہوا بازی کی جانب سے جاری نئے نوٹس ٹو ایئر مین (نوٹم) کے مطابق ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں توسیع کی گئی ہے۔ حکام کے مطابق اس دوران ریڈار اور مواصلاتی نظام کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایئرپورٹ کی بندش کے باعث ریاض کے لیے پاکستان کے مختلف ہوائی اڈوں سے روانہ ہونے والی متعدد پروازیں منسوخ کردی گئی ہیں۔ایوی ایشن ذرائع کے مطابق ریاض کے لیے مجموعی طور پر 32 پروازیں منسوخ ہوئیں، جبکہ ایک دوسری رپورٹ میں منسوخ پروازوں کی تعداد 34 بتائی گئی ہے۔دوسری جانب حوثیوں کے حملے کے بعد ریاض میں کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو 17 اکتوبر تک کے لیے بند کردیا گیا ہے جب کہ متعدد ایئرلائنز نے سعودی عرب کے دیگر شہروں کے لیے بھی پروازیں معطل کردیں۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کے بعد متعدد بین الاقوامی ایئرلائنز نے ریاض، دمام اور جدہ سمیت سعودی عرب کے مختلف شہروں کے لیے پروازیں منسوخ یا معطل کردی ہیں۔ایئرلائنز نے متاثرہ مسافروں کو سفر سے پہلے اپنی پروازوں کی تازہ صورت حال معلوم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ دوبارہ بکنگ اور متبادل سفری انتظامات کے بارے میں معلومات مل سکے۔بحرین کی ایئرلائن گلف ایئر نے 12 سے 17 اکتوبر کی درمیانی شب تک ریاض آنے اور جانے والی تمام پروازیں منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔اسی طرح اتحاد ایئرویز نے ابوظہبی سے ریاض، جدہ اور دمام کے لیے متعدد پروازیں منسوخ کردی ہیں۔امارات ایئرلائن نے بھی دبئی سے ریاض، دمام اور جدہ کے لیے متعدد پروازیں منسوخ کی ہیں، جبکہ مدینہ کے لیے بعض پروازیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ فلائی دبئی نے ریاض اور دمام کے لیے 12 اور 13 اکتوبر کی متعدد پروازیں منسوخ کی ہیں۔جرمنی کے لفتھانزا گروپ نے ریاض کے لیے پروازیں 16 اکتوبر تک منسوخ کردی ہیں، جبکہ ایئر فرانس اور کے ایل ایم نے سعودی دارالحکومت کے لیے پروازوں کی معطلی اکتوبر کے اختتام تک بڑھا دی ہے۔بھارتی ایئرلائن انڈیگو نے ریاض اور دمام کے لیے پروازیں 15 اکتوبر تک منسوخ کی ہیں، جبکہ ایئر انڈیا ایکسپریس نے دمام اور جدہ کے لیے 12 اکتوبر کی پروازیں منسوخ کیں اور ریاض کا آپریشن 15 اکتوبر تک معطل رکھا ہے۔اکاسا ایئر نے ریاض اور جدہ کے لیے 13 اکتوبر تک پروازیں روک دی ہیں۔ فلپائن ایئرلائنز نے ریاض کے لیے پروازوں کی معطلی 29 نومبر تک بڑھا دی ہے۔یاد رہے کہ حوثیوں نے ہفتے کو ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی جس میں 13 افراد جاں بحق اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔اسی طرح گزشتہ پیر کو ریاض کے ہوائی اڈے پر حوثیوں کے ایک اور حملے میں پائلٹ جاں بحق جبکہ 11 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔
دھماکے
