ملتان (رپورٹنگ ٹیم) ملتان کے علاقے شیر شاہ کے قریب کراچی سے پشاور جانے والی رحمان بابا ایکسپریس
حادثے کا شکار ہوگئی جس کے نتیجہ میں 5 مسافر جاں بحق ،50 زخمی ہوگئے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے ٹرین حادثے کا نوٹس لے لیا، جبکہ وزیر ریلوے ملتان پہنچ گئے، اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع کردی گئیں جبکہ نشتر ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ۔ حادثہ صبح 5 بج کر 20 منٹ کے قریب پیش آیا۔ ریلوے انتظامیہ نے رحمان بابا ایکسپریس حادثے کی مشترکہ سرٹیفکیٹ رپورٹ جاری کر دی، جس کے مطابق دوسری کوچ کے نیچے لٹکتا ہوا پرزہ ریلوے کراسنگ کے سوئچ پوائنٹ میں پھنسنے سے حادثہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر 14 کوچز پٹری سے اتر گئیں۔رپورٹ کے مطابق کراچی سے پشاور جانے والی 47 اپ رحمان بابا ایکسپریس 13 اکتوبر کو صبح 5 بجے شیر شاہ اسٹیشن سے روانہ ہوئی۔ ریلوے انتظامیہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹرین کے ریسیپشن اور ڈیپارچر روٹ درست طور پر سیٹ اور لاک تھے جبکہ سگنلز بھی گرین تھے۔ رپورٹ کے مطابق انجن اور لگیج وین بحفاظت کراسنگ عبور کر گئے، تاہم انجن کے پیچھے دوسری کوچ نمبر 12430ـ6 کی فرنٹ ٹرالی کے دائیں جانب موجود ٹریس بار ہینگر کا پرزہ کراسنگ کی نوز میں پھنس گیا، جس سے کوچ پٹری سے اتر گئی اور اس کے نتیجے میں مزید 13 کوچز بھی ڈی ریل ہو گئیں۔رپورٹ میں حادثے کی بنیادی وجہ کوچ کے نیچے لٹکتے ہوئے پرزے کا کراسنگ میں پھنسنا قرار دیا گیا ہے، جبکہ ریلوے کے مختلف شعبوں کو پہنچنے والے نقصانات کا تخمینہ لگانے کا عمل جاری ہے۔ٹرین حادثہ کی اطلاع ملتے ریسکیو ،پولیس ،ضلعی انتظامیہ سمیت دیگر ادارے فوری جائے حادثہ پر پہنچے۔بوگیوں سے زخمی اور دم توڑنے والے مسافروں کو نکالا۔ریسکیو 1122 کی جانب سے 33 مسافرزخمیوں کو ابتدائی طبی امداد دے کر نشتر ہسپتال منتقل کیا گیا۔جبکہ 5 دم توڑنے والی ڈیڈ باڈیز کو بھی منتقل کیا گیا ہے۔جاں بحق ہونے والوں میں 35 سالہ نامعلوم شخص،کراچی ملیر کی 45 سالہ اسماء زوجہ اسرار ،کراچی ملیر کی ہی 46 سالہ شکیلہ بی بی زوجہ علی حسین،کراچی ایسٹ کی 45سالہ سائرہ بی بی زوجہ ستار خان اور ڈیڑھ سالہ شفاء فاطمہ دختر کامران سکنہ کراچی شامل ہیں۔ جبکہ ریسکیو 1122کی جانب سے نشتر ہسپتال منتقل کیے جانے والے مریضوں میں 24سالہ اویس ولد مشتاق احمد، 22 سالہ محمد اسدولد مشتاق احمد، 17 سالہ معیز ولد نثار خان ،50 سالہ کامران ،13 سالہ مجیب، 35 سالہ حرا ، 43 سالہ محمد اسرار،35 سالہ یاسمین،6سالہ عمیر،10سالہ عزیر،24 سالہ عاصم رمضان، 22 سالہ عارب ، 14 سالہ ایان، 12 سالہ ارسلان، 11 سالہ منتہی ،45 سالہ طارق، 36 سالہ مہوش ، 60 سالہ اے بی رزاق 6 سالہ حذیفہ ،48 سالہ عذرا بی بی، 1 سالہ دعا فاطمہ 30 سالہ فیصل کامران،10 سالہ حفصہ، 5 سالہ بریرہ بی بی ،28 سالہ نمرہ، 21 سالہ ماجد،19 سالہ طاہرہ بی بی، 22 سالہ تسلیم بی بی، 41 سالہ محمد اقبال ،65سالہ علی حسن،15 سالہ احسن علی شامل ہیں۔ وزیراعظم شہبازشریف نے ملتان میں رحمان بابا ایکسپریس کی بوگیاں پٹری سے اترنے کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے حادثے میں زخمی ہونے والے افراد سے اظہارِ افسوس کیا ہے۔وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو امدادی کارروائیاں تیز کرنے اور زخمیوں کو ہرممکن طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ حادثے کی ابتدائی وجوہات میں ٹرین کی سکرو کپلنگ ٹوٹنے اور رفتار زیادہ ہونے کے امکانات سامنے آئے ہیں، تاہم حتمی وجوہات کا تعین تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہوگا۔بتایا گیا ہے کہ رحمان بابا ایکسپریس 47 اپ کو صبح 5 بج کر 20 منٹ پر شیر شاہ ریلوے اسٹیشن کے قریب حادثہ پیش آیا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق ٹرین کی دو بوگیوں کی سکرو کپلنگ میں خرابی کی شکایت سامنے آئی تھی، جس کے باعث دونوں بوگیوں کے ڈھیلا ہونے کی اطلاع تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ روہڑی سٹیشن سے روانگی کے بعد یہ خرابی سامنے آئی تھی اور ملتان ریلوے اسٹیشن پر کپلنگ کی مرمت کی جانی تھی، تاہم اس سے قبل ہی ٹرین حادثے کا شکار ہوگئی۔حادثے کے بعد ریلوے حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں تاکہ حادثے کی اصل وجوہات اور متعلقہ ذمہ داروں کے کردار کا تعین کیا جاسکے۔ تحقیقات میں سکرو کپلنگ کی خرابی، ٹرین کی رفتار اور روانگی سے قبل بوگیوں کی فٹنس چیک کرنے کے طریقہ کار کا جائزہ لیا جائے گا۔ ذمہ داری ثابت ہونے پر متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے کہا ہے کہ شیر شاہ ریلوے اسٹیشن کے قریب رحمان بابا ایکسپریس حادثے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ داران کا تعین کیا جائے گا۔ مستقبل میں ایسے حادثات کی روک تھام کے لیے مؤثر اور مضبوط لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا۔وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے حادثے کے حوالے سے تحقیقاتی ٹیم اور ڈی ایس ریلوے ملتان خالد خان سے بریفنگ حاصل کی، جس میں حادثے کی وجوہات اور امدادی کارروائیوں سے متعلق آگاہ کیا گیا۔ انہوں نے حادثے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین اور زخمیوں سے دلی افسوس اور ہمدردی کا اظہار کیا۔وفاقی وزیر نے متعلقہ حکام کو ریلوے ٹریک جلد از جلد بحال کرنے اور امدادی سرگرمیوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے زور دیا کہ حادثے کی مکمل تحقیقات کے ساتھ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہا کہ گورے کے دور میں نصب کیا گیا سلیپر نہیں ٹوٹا، جبکہ ہمارے دور میں 2021 میں تیار ہونے والا سلیپر اتنے کم عرصے میں کیسے ٹوٹ گیا؟ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ فیکٹری میں غیر معیاری سلیپر تیار کیے گئے ہیں اور 2021 میں تعینات ایم ڈی کے خلاف انکوائری کی جائے۔ وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے شیر شاہ ریلوے اسٹیشن کے قریب رحمان بابا ایکسپریس حادثے میں زخمی ہونے والے مسافروں کی عیادت کے لیے ہسپتال کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ڈی ایس ریلوے ملتان محمد خالد خان اور کمشنر ملتان عامر کریم خان بھی ان کے ہمراہ تھے۔ وفاقی وزیر ریلوے نے ہسپتال میں زیر علاج زخمی مسافروں کی خیریت دریافت کی اور انہیں پھول پیش کرتے ہوئے جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ڈاکٹروں اور ہسپتال انتظامیہ سے ملاقات کے دوران ہدایت کی کہ ٹرین حادثے میں زخمی ہونے والے مسافروں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور ان کے علاج معالجے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ رحمان ایکسپریس ٹرین حادثہ پر نشتر ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ ،عملہ کو الرٹ کردیا گیا۔اضافی ڈاکٹرز وطبی عملہ کی ڈیوٹی لگاء گئ۔زخمیوں و ڈیڈ باڈیز کی معلومات کے لیے کاؤنٹر بھی قائم کیا گیا۔وی سی پروفیسر ڈاکٹر مہناز خاکوانی،پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر راشد راؤ،ایم ایس ڈاکٹر امجد ،ڈاکٹر عبد القادر ،ڈائریکٹر ایمرجنسی ڈاکٹر زاہد نے وقتا فوقتاً ایمرجنسی کا دورہ کیا۔علاج ومعالجہ کی سہولیات کا جائزہ لیا۔اورزخمیوں کی عیادت کی۔حادثے کے فوری بعد امدادی ٹیمیں موقعہ پر پہنچ گئیں،جس میں فائر بریگیڈ،1122،پاک فوج کے جوان،ریلوے انتظامیہ ملتان اورضلعی انتظامیہ بھی شامل تھی۔امدادی سرگرمیاںدن بھر جاری رہیں،اس دوران فلاحی تنظیم بھی کھانا لے کرآگئی ،جنھوں نے وہاں پر موجود مسافروں کو کھانا تقسیم کیا۔اس حادثے کے بعد ریلوے نے ملتان کے راستے کراچی، لاہور، راولپنڈی،کوئٹہ اور پشاور جانے والی تمام ٹرینوں کو وایا کاڈ لائن( خانیوال کے راستے بہاولپور) چلایا گیاتاکہ مسافر اپنی منزل مقصود پر پہنچ سکیں۔رحمان ایکسپریس ٹرین حادثہ میں دم توڑنے والے نشتر منتقل کئے گئے مرحومین کی لاشیں لواحقین کے حوالے کردی گئیں۔آبائی علاقوں کو روانہ۔پرنسپل نشتر میڈیکل کالج وہسپتال پروفیسر ڈاکٹر راشد قمر راؤ نے جاں بحق ہونے والے افراد کی میتیں ان کے لواحقین کے حوالے کرنے کے عمل میں معاونت کی۔
ٹرین حادثہ
بریکنگ نیوز
- PTIراولپنڈی قیادت کوئی حکمت عملی نہ دے سکی کارکنوں میں مایوسی کی لہر
- اٹک: لانگ مارچ کی اسپیشل ڈیوٹی کیلئے دیگر اضلاح سے آئے پولیس اہلکار کی واپسی کا عمل جاری ہے۔
- جنرل بس سٹینڈ کی بہتری کیلئے سفارشات ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کو پیش
- موٹر سائیکل چور گینگ کیخلاف کارروائیاں ، 2 گینگز کے 5 ملزمان گرفتار 3 مسروقہ موٹر سائیکل اور رقم برآمد
- اکبر نیازی ہسپتال ، 3 صحت مند بچوں کی مفت پیدائش
- چکلالہ پولیس کی کارروائی، قتل،اقدام قتل کے مقدمہ میں مطلوب اشتہاری گرفتار
- قاضی سعید الحسن ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن مقرر
- سی ڈی اے کی صفائی مہم، شہریوںنے سینیٹیشن ٹیموں کی کارکردگی کو سراہا گیا
- پشاور، ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں وزیراعلی سہیل آفریدی سمیت 5 ملزم نامزد
- آئیسکو ریجن میں سالانہ سسٹم مینٹیننس شیڈول 2026.2027 جاری
- گورنر راج کے بعد پی ٹی آئی کے سیاست بد ترین آزمائش سے دو سے چار احتجاجی کال بے اثر
- مندرہ ککھڑی موڑ کے قریب سے الیکٹریشن کا قیمتی موٹر سائیکل تین اشخاص چوری کرکے لے گئے
- مری شہر کو صاف ستھرا رکھنے اور صفائی کے بہترین انتظامات پر سینیٹری ورکرز میں 10 ہزار روپے فی کس نقد انعام تقسیم
- ڈی ایچ او سید تقی عباس کا تحصیل جنڈ کے چار سرکاری سکولوں کا تفصیلی دورہ
- ڈیجیٹل پاکستان کے دعوے مگر انٹرنیٹ کی رفتار اور معیار پر سوالات برقرار
- لاہور ہائیکورٹ ‘ میڈیکل کے طلبائسے زائد فیس وصول کرنے کیخلافدرخواستوں پر حکم امتناعی میں توسیع
- روس نے کسی ملک پر حملہ کیا تو پوار جنگی نظام تباہ کر دینگے نیٹو کی سخت وارننگ
- سابق امیدوار اسمبلی سرور علوی کا رشید مغل اور دیگر صحافیوں سے اظہار یکجہتی
- سابقہ دشمنی کی بنا پر 20 سالہ نوجوان کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا
- فاطمہ فرٹیلائزر ماحولیاتی تحفظ کیلئے پہلی کمپنی بن گئی
