لاہور (کورٹ رپورٹر) لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد جواد ظفر نے کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹیوں کے تنازعات میں محکمہ اینٹی کرپشن کی براہ راست انکوائری پر پابندی سے متعلق حکم جاری کر دیا۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی ایکٹ کی دفعہ63 کے تحت رجسٹرار کوآپریٹو کی سفارشات کے بغیر کوئی پراسیکیوشن شروع نہیں ہو سکتی۔ عدالت نے استفسار کیا کہ جب قانون میں واضح ہے کہ محکمہ اینٹی کرپشن کو براہ راست انکوائری کا اختیار نہیں تو پھر لوگوں کو کیوں تنگ کیا جا رہا ہے؟ جو اختیار رجسٹرار کوآپریٹو کا ہے وہ محکمہ اینٹی کرپشن استعمال نہیں کر سکتا۔ درخواست گزار شیخ صداقت علی کے وکیل میاں دائود ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ اینٹی کرپشن لاہور نے ایک عادی شکایت کنندہ کی درخواست پر سوسائٹی کے خلاف انکوائری شروع کی حالانکہ کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹیوں کے تنازعات سے نمٹنے کا متعلقہ فورم محکمہ کوآپریٹو ہے اور قانون کے تحت ایسی کارروائی کے لیے رجسٹرار کی منظوری ضروری ہے۔ محکمہ اینٹی کرپشن کی مداخلت غیر قانونی ہے، سرکاری وکیل نے گل نے بھی تسلیم کیا کہ دفعہ 63 کے تحت رجسٹرار کوآپریٹو کی منظوری کے بعد ہی پراسیکیوشن شروع ہو سکتی ہے۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ آئندہ درخواست گزار کو تنگ نہیں کیا جائے گا اور اگر انکوائری کی ضرورت ہوئی تو پہلے رجسٹرار کوآپریٹو سے اجازت حاصل کی جائے گی۔ عدالت نے تفصیلی سماعت کے بعد درخواست نمٹا دی۔
