اسلام آباد (عادل عباسی) خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی سیاست ایک نئے اور مشکل مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ صوبے میں پی ٹی آئی کی حکومت معطل ہونے، وزیراعلی سہیل آفریدی اور متعدد پارٹی رہنماں کی گرفتاریوں اور انتظامی اختیارات کی منتقلی کے بعد تحریک انصاف کی قیادت کو سیاسی مزاحمت کے بڑے امتحان کا سامنا ہے، تاہم گورنر راج کے خلاف ملک گیر احتجاج کے اعلانات کے باوجود ابتدائی دو روز میں ایسا مثر عوامی ردعمل سامنے نہیں آ سکا جس سے پارٹی کی احتجاجی قوت کا واضح مظاہرہ ہوتا۔صدر مملکت آصف علی زرداری نے 11 اکتوبر کو خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے اقدامات کی منظوری دی، جس کے نتیجے میں صوبے میں پی ٹی آئی کی منتخب حکومت کے اختیارات معطل ہو گئے۔ وفاقی حکومت نے اس فیصلے کے لیے صوبے میں امن و امان کی صورت حال اور دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کو بنیاد بنایا، جبکہ تحریک انصاف نے اسے اپنے سیاسی مینڈیٹ پر حملہ اور جمہوری نظام کے خلاف اقدام قرار دیا۔ یوں صوبے میں انتظامی تبدیلی کے ساتھ وفاق اور پی ٹی آئی کے درمیان سیاسی کشیدگی بھی مزید بڑھ گئی۔گورنر راج کے نفاذ کے بعد تحریک انصاف کی جانب سے شدید سیاسی مزاحمت کی توقع کی جا رہی تھی، خصوصا اس لیے کہ خیبرپختونخوا گزشتہ کئی برس سے پارٹی کا مضبوط سیاسی مرکز رہا ہے۔ تاہم ابتدائی دنوں میں احتجاجی سرگرمیاں محدود رہنے، مختلف شہروں میں بڑے مظاہرے منعقد نہ ہونے اور مرکزی و صوبائی قیادت کی مثر عوامی موجودگی سامنے نہ آنے سے پارٹی کی تنظیمی صلاحیت اور احتجاجی حکمت عملی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ملک گیر احتجاج کے اعلانات اور عملی صورت حال کے درمیان فرق بھی نمایاں ہو کر سامنے آیا۔ لاہور سمیت مختلف شہروں میں احتجاج کی کال کے باوجود متعدد مقامات پر بڑے اجتماعات دیکھنے میں نہیں آئے، جبکہ خیبرپختونخوا میں بھی سکیورٹی اقدامات، گرفتاریوں اور قیادت کی عدم دستیابی کے باعث کارکنوں کو منظم کرنے میں مشکلات کا سامنا رہا۔ بعض علاقوں میں کارکن سڑکوں پر نکلے، تاہم مجموعی طور پر احتجاج اس سطح تک نہیں پہنچ سکا جس کی توقع پارٹی کے اعلانات سے وابستہ کی جا رہی تھی۔تحریک انصاف کی قیادت کے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ صوبائی حکومت کے خاتمے اور اہم رہنماں کی گرفتاریوں کے بعد کارکنوں کو متحرک کرنے، احتجاج کو منظم کرنے اور آئندہ کا سیاسی لائحہ عمل واضح کرنے کی ذمہ داری کون سنبھالے گا۔ وزیراعلی سہیل آفریدی، صوبائی صدر جنید اکبر اور دیگر رہنماں کے خلاف کارروائیوں کے بعد پارٹی کی صوبائی تنظیم کو قیادت کے خلا کا سامنا ہے، جبکہ مرکزی سطح پر بھی احتجاجی تحریک کی سمت اور عملی حکمت عملی کے حوالے سے وضاحت درکار ہے۔پارٹی کی موجودہ صورت حال کا موازنہ ماضی کے ان ادوار سے بھی کیا جا رہا ہے جب نو مئی 2023 کے واقعات کے بعد تحریک انصاف کے متعدد رہنماں کو گرفتاریوں، مقدمات اور روپوشی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ موجودہ بحران میں بھی قیادت کے بعض اہم چہروں کی عدم موجودگی نے کارکنوں کے حوصلے، تنظیمی رابطوں اور احتجاجی سرگرمیوں کے تسلسل سے متعلق سوالات کو جنم دیا ہے۔ تاہم مختلف رہنماں کی عدم موجودگی کی وجوہات الگ الگ ہو سکتی ہیں اور انہیں بلا تصدیق دانستہ روپوشی قرار دینا درست نہیں ہوگا۔دوسری جانب گورنر راج کے خلاف عدالتی محاذ پر بھی فوری پیش رفت کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ابتدائی دو روز میں عدالتی کارروائی کے واضح نتائج سامنے نہ آنے کے باوجود تحریک انصاف نے قانونی راستہ اختیار کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے فیصلے کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا، جبکہ سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے بھی عدالتوں سے رجوع کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ اس صورت حال میں اصل اہمیت اس بات کی ہوگی کہ قانونی چیلنج کب دائر کیا جاتا ہے اور عدالت میں پارٹی کی جانب سے کیا آئینی مقف اختیار کیا جاتا ہے۔قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس کی سیاسی حکمت عملی بھی زیر بحث ہے۔ دونوں رہنما آئینی بالادستی اور جمہوری حقوق کے تحفظ کی بات کر رہے ہیں، تاہم ناقدین کے نزدیک موجودہ صورت حال میں ان کی ذمہ داری محض بیانات تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ اپوزیشن جماعتوں کو مشترکہ پلیٹ فارم پر منظم کرنا، احتجاجی حکمت عملی واضح کرنا اور تحریک انصاف کی قیادت کے ساتھ مثر رابطہ برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔محمود اچکزئی نے گورنر راج کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کی ہدایت دینے کا اعلان کیا ہے اور مقف اختیار کیا ہے کہ جمہوری نظام کے تحفظ کے لیے سیاسی جدوجہد اور مذاکرات دونوں جاری رہنے چاہییں۔ دوسری جانب راجہ ناصر عباس نے بھی گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو آئینی و جمہوری اصولوں کے منافی قرار دیا ہے۔ تاہم ان اعلانات کے بعد احتجاجی سرگرمیوں کو کس حد تک منظم کیا جا سکا، یہ دونوں اپوزیشن رہنماں کی سیاسی حکمت عملی کے لیے اہم سوال بن گیا ہے۔سیاسی مبصرین کے لیے موجودہ صورت حال میں سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ تحریک انصاف اپنے سیاسی مرکز میں حکومت کے خاتمے کے بعد کس انداز میں دوبارہ منظم ہوتی ہے۔ اگر پارٹی قیادت کارکنوں کو واضح لائحہ عمل دینے، قانونی کارروائی آگے بڑھانے اور اتحادی جماعتوں کو ایک مشترکہ حکمت عملی پر جمع کرنے میں کامیاب نہ ہوئی تو احتجاجی سیاست میں اس کی پوزیشن مزید کمزور ہو سکتی ہے۔ اس کے برعکس مثر تنظیم سازی، واضح قیادت اور مربوط سیاسی جدوجہد موجودہ بحران کو ایک نئے سیاسی مرحلے میں تبدیل کر سکتی ہے۔گورنر راج کے نفاذ کے بعد ابتدائی دو روز کی صورت حال نے تحریک انصاف کے سامنے کئی بنیادی سوالات کھڑے کر دیے ہیں: کیا پارٹی قیادت کارکنوں کو دوبارہ متحرک کر پائے گی؟ کیا محمود اچکزئی اور راجہ ناصر عباس اپوزیشن جماعتوں کو مثر مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع کر سکیں گے؟ اور کیا گورنر راج کے خلاف عدالتی کارروائی سیاسی مزاحمت کو ایک واضح سمت دے سکے گی؟ ان سوالات کے جوابات آنے والے دنوں میں سامنے آئیں گے، تاہم فی الحال تحریک انصاف کو اپنے سیاسی مستقبل، تنظیمی قوت اور قیادت کے کردار کے حوالے سے ایک کڑے امتحان کا سامنا ہے۔
