راولپنڈی(خصوصی رپورٹر)غربت و بیروزگاری، مہنگائی، بھوک و افلاس دور حاضر کا اہم ترین مسئلہ ہے، مہنگائی و بیروزگاری ، صحت و تعلیم، حقوق و سہولیات اور عوام کے مسائل کا حل، ان کی زندگی آسان بنا کر جمہوری ثمرات عوام تک پہنچانا ہی جمہوری فریضہ ہے، 16 اکتوبر کا دن خوراک کے عالمی دن کے نام سے منسوب ہے، اس دن کے
منانے کا مقصد بھوک اور غذائیت کی کمی سے متعلق آگہی پیدا کرنا ہے، دنیا بھر میں ہر تین میں سے ایک فرد کو مناسب خوراک میسر نہیں، عوام کے ووٹ سے منتخب حکمرانوں کو تو شاہی دسترخوان میسر ہونگے، مگر حکمرانوں کو شاید غریب کی غربت اور بھوک کا احساس نہیں؟ 24 کروڑ آبادی میں سے 5 کروڑ افراد ایسے ہیں جنہیں پیٹ بھر کر روٹی بھی میسر نہیں ان خیالات کا اظہار سماجی رہنما صدر ترقی پسند فلاحی تنظیم محمد عامر صدیقی نے کیا انہوں نے کہا کہ غزہ و فلسطینی قوم گزشتہ تین برسوں سے سے ظلم و جبر، دہشتگردی اور جنگ کے ساتھ ساتھ قلت آب و خوراک کی کمی کا سامنا رہا، فلسطین میں قیام امن خوش آئند، قیام امن کے بعد تعمیر نو، انہیں خوراک، ادویات و علاج معالجہ کی فوری اور اشد ضرورت ہے، عامر صدیقی نے کہا کہ اسرائیل و امریکہ کی ایران پر جارحیت کے نتیجے میں پاکستانی عوام مہنگائی سونامی کی زد میں ہیں، پیٹرولیم مصنوعات بلند ترین سطح پر ہونے کے سبب مہنگائی کے نہ تھمنے والا طوفان نے عوام کیلئے جسم و روح کا رشتہ برقرار رکھنا بھی مشکل بنا دیا، بجلی و گیس کے بھاری بھرکم بلز، پیکجز دودھ، آئل و گھی، آٹا و چینی، ایل پی جی گیس سمیت اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کو تو پر ہی لگ چکے اور کوئی پوچھنے والا ہی نہیں عوام ریلیف کے بجائے تکلیف میں جینے پر مجبور ہو چکے، آج اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرر ہی ہیں لوگوں کی قوت خرید مخدوش ہو چکی، زرعی ملک ہونے کے باوجود ٹماٹر، ادرک ، لہسن جیسی سبزیاں بھی پڑوسی ممالک سے مہنگے داموں منگوانی پڑتی ہیں اگر کسان کش پالیسیاں نہ ہوں تو وہ وقت دور نہیں کہ ہم دوبارہ زرعی پیداوار میں خود کفیل ہو کر دوسرے ممالک کی منڈیوں تک اپنی اجناس کو پہنچا کر معاشی حالات سدھاریں اور ذرمبادلہ کے ذخائر میں خاطر خواہ اضافہ کرتے ہوئے معاشی استحکام لا سکتے ہیں، عامر صدیقی نے کہا کہ بحیثیت مسلمان اگر ہم اسلام کی اصل روح کے مطابق زندگی بسر کریں سادگی و کفائت شعاری اپنائیں اور اپنے ارد گرد پر نظر رکھیں تو شاید ہمارا پڑوسی کبھی بھوکا نہ سوئے ہمارے حکمرانوں کو آج خلیفہ دوئم حضرت عمر فاروق کے طرز حکمرانی کو اپنانا ہوگا تب ہی عام آدمی کی زندگی میں انقلاب آئے گا،
