پشاور ( مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا میں مسلسل 13سالہ اقتدار اور اس
طویل عرصے کے دوران تعلیمی ایمرجنسی اور یکساں نظامِ تعلیم کے پرکشش نعرے لگا کر عوام کو ایک نئے مستقبل کے خواب دکھائے۔ تاہم، ایک دہائی سے زائد کا وقت گزرنے کے بعد جب نتائج کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ تمام دعوے صرف نعرے بازی اور کاغذات کی حد تک محدود رہے۔نجی سکولوں کے قانون میں اپنے ہی رہنماؤں کو فائدہ پہنچانے والی حالیہ ترمیمی کارروائی اس بات کا ثبوت ہے کہ پارٹی کی ترجیحات میں عوام کی فلاح سے زیادہ اپنے بااثر افراد کے کاروباری مفادات شامل تھے۔پی ٹی آئی حکومت نے 13 سالوں میں لاکھوں بچوں کو اسکول واپس لانے کے جو اعداد و شمار پیش کیے، وہ بھی حقیقت سے کافی دور نکلے۔ سرکاری رپورٹوں کے مطابق خیبرپختونخوا میں آج بھی لاکھوں بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جن میں لڑکیوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔سب سے بڑا تضاد یہ ہے کہ ایک طرف حکومت نے سرکاری اسکولوں کو لاوارث چھوڑ دیا اور دوسری طرف نجی تعلیمی اداروں کو لگام ڈالنے والے قوانین کو خود اپنے ہاتھوں سے مفلوج کیا۔ کے پی پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی ایکٹ میں خاموشی سے کی جانے والی ترمیم اس ذہنیت کا کھلا ثبوت ہے، جس کے تحت اسکول سیل کرنے کی سزا ختم کر کے صرف نام نہاد جرمانہ عائد کیا گیا۔اپنے اسپیکرز اور وزرا کے نجی تعلیمی اداروں کو تحفظ دینے کے لیے آئین و قانون کی روح کو پامال کیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تحریک انصاف کا مقصد تعلیمی انقلاب لانا نہیں بلکہ نجی تعلیمی مافیا اور اپنے سیاسی ساتھیوں کو تحفظ فراہم کرنا تھا۔ 13 سالہ اقتدار کے اس طویل دورانیے کے بعد خیبرپختونخوا کا تعلیمی منظرنامہ پی ٹی آئی کے کارکردگی کے دعووں پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ عوام سے کیے گئے تعلیمی انقلاب اور یکساں نصاب کے وعدے دھرے کے دھرے رہ گئے، جبکہ عملی طور پر نجی تعلیمی اداروں کو بے لگام چھوڑ کر اور سرکاری اسکولوں کو نظر انداز کر کے صوبے کے مستقبل کو تاریکی میں دھکیلا گیا۔یہ 13 سالہ رپورٹ کارڈ واضح کرتا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت تعلیم کے شعبے میں ریفارمز لانے کے بجائے صرف سیاسی نعرے بازی اور ذاتی مفادات کی آبیاری میں مصروف رہی۔تحریک انصاف کے اہم رہنماں کی خواہش پر قوانین میں ترمیم کی گئی کیونکہ وہ خود نجی اسکولوں کے کاروبار سے منسلک تھے۔تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کی جانب سے اپنے مقامی رہنماں کے مفاد کے لئے نجی تعلیمی اداروں کے لئے پہلے سے بنے سخت قانون میں مجرمانہ ترمیم کا انکشاف ہوا ہے۔صوبائی حکومت کے ایکٹ کے مطابق 9 جون 2017 کو جاری ہونے والے خیبرپختونخوا پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی قانون کی شق 22 (4) کے مطابق کسی بھی پرائیویٹ اسکول کو کوتاہی برتنے پر بند یا سیل کیا جا سکتا تھا۔9 جون 2017 کو جاری ہونے والے خیبرپختونخوا پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی قانون کی شق 22 کے مطابق کسی بھی پرائیویٹ اسکول کو صوبے میں کام جاری رکھنے کے لیے اس اتھارٹی کے ساتھ رجسٹر ہونا لازمی تھا۔صوبائی حکومت ایکٹ میں کہا گیا کہ پرائیویٹ اسکول کے اتھارٹی کے ساتھ رجسٹر نا ہونے کی صورت میں شق 22 کے مطابق اتھارٹی کو ان پرائیوٹ اسکولوں کو سیل یا بند کرنے کا اختیار تھا، 23 جون 2017 کو صوبائی حکومت نے اس نوٹیفکیشن میں مجرمانہ تبدیلی کرکے اس نوٹیفکیشن میں سے پرائیویٹ اسکولوں کو سیل یا بند کرنے کی شق 22 (4) کو اڑا دیا اور صرف جرمانہ سے تبدیل کر دیا۔ذرائع نے کہا کہ خیبرپختونخوا پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی قانون میں ترمیم کرکے اسد قیصر، مشتاق غنی سمیت دیگر رنماں کے نجی تعلیمی اداروں کو تحفظ دیا گیا، اِسی مقصد کے لئے خیبرپختونخوا پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی ایکٹ کی شق 22 ذیلی شق 4 میں ترمیم کی گئی۔ذرائع نے کہا کہ 2017 میں یہ ترمیم اس وقت کے تحریک انصاف کے اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی اسد قیصر اور دیگر کی خواہش پر شامل کی گئی کیونکہ وہ خود نجی اسکولوں کے کاروبار سے منسلک تھے۔ قانون کی شق 22 کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ صوبے میں نجی اسکولوں کو اپنا کاروبار جاری رکھنے کے لیے متعلقہ اتھارٹی کے ساتھ رجسٹر ہونا لازمی تھا۔ فراہم کردہ متن کے مطابق، قانون کی ذیلی شق 22(4) کے تحت بعض خلاف ورزیوں کی صورت میں اسکولوں کو بند یا سیل کرنے کی کارروائی کی جا سکتی تھی۔اس قانونی انتظام کا مقصد نجی تعلیمی اداروں کو ضابطوں کا پابند بنانا اور رجسٹریشن کے نظام پر عمل درآمد یقینی بنانا بتایا گیا ہے۔
ترمیم
بریکنگ نیوز
- پاکستان اور روس میں تعلیمی تعاون کے وسیع امکانات : روسی تعلیمی اتاشی گلیب شوبن
- وفاقی وزیر داخلہ کی جانب سے فراہم کردہ جدید بلٹ پروف گاڑیاںبنوں پولیس لائن پہنچ گئیں
- ڈاکٹرز پر غفلت کا الزام خاتون دوارن آپریشن جان بحق
- چنگا بنگلیال کے علاقے میں چوری کی واردات، مقدمہ درج
- وزیر اعظم کو دم توڑتی زرعی معیشت بارے عملی اقدامات کرنے چاہیں،کسان ونگز
- لاہور:صوبائی وزیر صنعت و تجارت چودھری شافع حسین کا پاکستان چائنہ بزنس فورم کے وفد کے ہمراہ گروپ فوٹو۔
- چور نجی کوریئر سروس کا پارسل بھرا بیگ لے اڑے، مقدمہ درج
- راولپنڈی:موٹر سائیکل اور گاڑی میں خوفناک تصادم، 2افراد جاں بحق
- 9 مئی واقعات’ملزم کی پاسپورٹ کنٹرول لسٹ اور پی این آئی ایل سے نام نکالنے کی درخواست خارج
- لاہور ہائیکورٹ ‘ بسنت 2027 ء کے 10 روزہ انعقاد کیخلاف درخواست غیر ضروری قرار دیتے مسترد
- جائیداد تقسیم کیس’صرف رجسٹری کے ہونے سے ہر بات ثابت نہیں ہوتی:لاہور ہائیکورٹ
- کینیڈین ہائی کمیشن اور کشف فائونڈیشن کی10سالہ شراکت داری مکمل
- باجوڑ:ریاض ایئرپورٹ پر حوثیوں کے حملے میں شہید ہونے والے باجوڑ کے نوجوان رضوان اللہ کی نماز جنازہ میں لوگوں کی بڑی تعداد شریک ہے۔
- راولپنڈی،ایم ڈی کیٹ امتحانات کے سوالیہ پیپرزامیدواروںسے واپس لینے کا اقدام غیر قانونی قرار
- سینئر وکیل اقبال دھینگل مسلم لیگ (ن) لائرز ونگ کے صدر مقرر
- پنجاب کے میڈیکل کالجز سے افغان طلباء کو نکالنے سے روکنے کے حکم امتناعی میں توسیع
- امریکہ کے سکول میں فائرنگ’3بچے اور ایک استاد ہلاک
- ملت ایکسپریس کی بوگی پٹڑی سے اتر گئی، ٹرینوں کی آمدورفت متاثر
- ملتان:نوجوان وینڈر اپنے سٹال پر فروخت کیلئے رکھی مچھلیوں پر تازہ پانی چھڑک رہا ہے۔
- کالاشاہ کاکو سیمنٹ سے لدا ٹرک الٹ گیا ایک شخص جاں بحق، 2شدید زخمی
