بھائی پھیرو (نمائندہ خبریں)پتوکی کے دو محنت کش نوجوان بلوچستان میں قتل۔میگا روڈ کے رہائشی نوجوانوں کی مبینہ اغوا کے بعد ہلاکت، بھائی پھیرومیں سوگ کی فضا، تاجروں، صحافیوں اور سماجی شخصیات کا اظہارِ افسوس۔حکومتِ پاکستان، آرمی چیف اور متعلقہ حکام سے شفاف تحقیقات، حقائق سامنے لانے اور ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ۔تفصیلات کے مطابق پتوکی کے علاقے میگا روڈ سے تعلق رکھنے والے دو محنت کشنوجوانوں کی بلوچستان میں مبینہ اغوا کے بعد ہلاکت کی افسوسناک اطلاع نے پورے علاقے کی فضا سوگوار کر دی۔ اطلاعات کے مطابق دونوں نوجوان ٹرانسپورٹ کے کاروبار سے وابستہ تھے اور روزگار کے سلسلے میں بلوچستان کے شہر نوشکی گاڑی لوڈ کرنے گئے تھے، جہاں مبینہ طور پر انہیں اغوا کر لیا گیا تھا۔ بعدازاں دونوں نوجوانوں کی ہلاکت کی اطلاع سامنے آنے پر اہلِ خانہ، عزیز و اقارب اور شہریوں میں گہرے دکھ اور افسوس کی لہر دوڑ گئی۔اس افسوسناک واقعے پربھائی پھیرو جماعت اسلامی کے رہنما حاجی محمد رمضان ،انجمن تاجراں بھائی پھرو کے مرکزی جنرل سیکرٹری ملک محمد عثمان بوٹا، معروف قانون دان احمد جمال ،مقبول احمد کمبو ،تنویر بابو اور دیگر درجنوں افراد سمیت دیگر سیاسی، سماجی، تجارتی اور صحافتی شخصیات نے بھی واقعے پر افسوس کا اظہار کیا اور سوگوار خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔گزشتہ روز جماعت اسلامی ضلع قصور کا ایک وفد جماعت اسلامی ضلع قصور کے رہنما حاجی محمد رمضان کی قیادت میں مظلوم خاندانوں کے گھر گیا اور سوگوار خاندان سے اظہار تعزیت کیا اور مرحومین کیلیے دعائے مغفرت کی ،حاجی محمد رمضان اور قدرت اللہ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حکومتِ پاکستان، آرمی چیف اور متعلقہ حکام سے پُرزور مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں، دونوں نوجوانوں کی ہلاکت کے تمام حقائق قوم کے سامنے لائے جائیں اور واقعے میں ملوث عناصر کی شناخت کرکے انہیں گرفتار کیا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔شہریوں کا کہنا تھا کہ محنت مزدوری اور روزگار کے لیے گھر سے نکلنے والے نوجوانوں کے ساتھ اس طرح کا افسوسناک واقعہ پیش آنا انتہائی دلخراش ہے۔ دو خاندانوں کے چراغ گل ہونے سے اہلِ خانہ پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے۔ حکومت متاثرہ خاندانوں کی معاونت کرے اور میتوں کی شناخت، آبائی علاقے منتقلی اور تدفین کے حوالے سے ضروری اقدامات یقینی بنائے۔اہلِ علاقہ نے مزید مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں روزگار کے سلسلے میں جانے والے محنت کشوں اور ٹرانسپورٹرز کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ آئندہ ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے اور کسی دوسرے خاندان کو اس ناقابلِ تلافی صدمے سے نہ گزرنا پڑے۔تعزیت کیلیے جانے والوں نے کہا کہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ دونوں مرحومین کی مغفرت فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور تمام سوگوار اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
