لاہور(رپورٹ عمر فاروق)نشتر پارک سپورٹس کمپلیکس قذافی اسٹیڈیم لاہور کا سائیکل ویلوڈروم زبوں حالی کا شکار، کھیلوں کی سرگرمیاں ماند پڑ گئیں۔سپورٹس بورڈ کی مبینہ غفلت اور عدم توجہی کے باعث سائیکل ٹریک ٹوٹ پھوٹ کا شکار، کئی سال سے بڑے ایونٹس منعقد نہ ہو سکے، انتظامی دھڑے بندیوں کی شکایات، عارضی مرمت سے کام چلانے کا انکشاف نشتر پارک سپورٹس کمپلیکس میں قائم ملک کے اہم سائیکل ویلوڈروم کی زبوں حالی نے سائیکلنگ کے فروغ اور کھیلوں کی سرگرمیوں کے حوالے سے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ سپورٹس بورڈ کی مبینہ غفلت اور عدم توجہی کے باعث سائیکل ٹریک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، جبکہ کئی سال سے یہاں کسی بڑے سائیکلنگ ایونٹ کا انعقاد نہ ہونے کے باعث کھلاڑیوں، سائیکل ریس کے شوقین افراد اور شائقین کو اس کھیل کی سرگرمیوں سے محرومی کا سامنا ہے۔ کھیلوں سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ مناسب دیکھ بھال، مستقل مرمت اور مثر انتظامی حکمت عملی نہ ہونے کے باعث ایک اہم کھیلوں کی سہولت اپنی افادیت کھوتی جا رہی ہے۔سائیکل ویلوڈروم کسی بھی ملک میں سائیکلنگ کے فروغ کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ مخصوص طرز پر تیار کیے جانے والے اس ٹریک پر کھلاڑی اپنی رفتار، برداشت، توازن اور تکنیکی مہارت کو بہتر بناتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہوتا ہے جہاں سائیکلنگ کے مقابلوں کے ذریعے نئے ٹیلنٹ کو سامنے لانے اور قومی سطح کے کھلاڑی تیار کرنے کے مواقع میسر آتے ہیں۔ تاہم نشتر پارک سپورٹس کمپلیکس کے ویلوڈروم کی موجودہ صورت حال کھیلوں کی سہولتوں کی دیکھ بھال اور ان کے مثر استعمال کے حوالے سے توجہ طلب ہے ۔ ذرائع کے مطابق سائیکل ٹریک کی ٹوٹ پھوٹ دور کرنے کے لیے مستقل بنیادوں پر مرمت کے بجائے مبینہ طور پر عارضی انتظامات سے کام چلایا جاتا ہے۔ جب کبھی مقامی سطح پر سائیکلنگ ایونٹ منعقد کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو ٹریک کے متاثرہ حصوں پر ہیچ لگا کر عارضی مرمت کر دی جاتی ہے، جس سے وقتی طور پر کام تو چل جاتا ہے، لیکن ٹریک کی دیرپا بحالی کا مسئلہ برقرار رہتا ہے۔
کھیلوں کے حلقوں کے مطابق اس نوعیت کے انتظامات کسی مستقل حل کا متبادل نہیں ہو سکتے، کیونکہ سائیکلنگ میں ٹریک کی سطح اور ساخت کھلاڑیوں کی کارکردگی اور حفاظت کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ٹریک کی خستہ حالی کے باعث اس بات کی ضرورت بڑھ گئی ہے کہ متعلقہ حکام ماہرین کے ذریعے ویلوڈروم کا مکمل تکنیکی معائنہ کروائیں۔ ٹریک کے متاثرہ حصوں کی نشاندہی کے بعد باقاعدہ مرمتی منصوبہ تیار کیا جائے، تاکہ کھلاڑیوں کو محفوظ ماحول میں تربیت اور مقابلوں کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ عارضی مرمت کے بجائے مستقل بحالی کیاقدامات نہ صرف کھیلوں کی سرگرمیوں کو بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ مستقبل میں بڑے مقابلوں کے انعقاد کی راہ بھی ہموار کر سکتے ہیں۔دوسری جانب سائیکلنگ سے وابستہ حلقوں کی جانب سے آپسی دھڑے بندیوں اور انتظامی اختلافات کو بھی کھیلوں کی سرگرمیوں میں رکاوٹ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان حلقوں کے مطابق باہمی اختلافات کے باعث کھیلوں کی ترقی، مقابلوں کے انعقاد اور سہولتوں کی بہتری جیسے بنیادی معاملات متاثر ہوتے ہیں۔ اگر مقامی سطح کے ایونٹس بھی تسلسل کے ساتھ منعقد نہ ہوں تو کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور نوجوانوں کو اس کھیل کی جانب راغب کرنے کے مواقع محدود ہو جاتے ہیں۔ تاہم ان شکایات کے حوالے سے متعلقہ حکام اور انتظامی ذمہ داران کا مقف بھی سامنے آنا ضروری ہے۔سائیکلنگ کے شائقین کا کہنا ہے کہ بڑے ایونٹس نہ ہونے سے ایک طرف کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے مواقع نہیں مل رہے تو دوسری طرف عوام بھی ایک دلچسپ کھیل سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ باقاعدہ مقابلے کسی بھی کھیل کی مقبولیت بڑھانے، نئے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی اور صحت مند سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر ویلوڈروم کو فعال بنا کر مقامی، صوبائی اور قومی سطح کے مقابلوں کا باقاعدہ شیڈول ترتیب دیا جائے تو سائیکلنگ میں نئی جان ڈالی جا سکتی ہے۔ متعلقہ سپورٹس بورڈ ویلوڈروم کی بحالی کو ترجیح دیتے ہوئے ٹریک کی مستقل مرمت، حفاظتی انتظامات اور باقاعدہ دیکھ بھال کے لیے عملی اقدامات کرے۔ اس کے ساتھ سائیکلنگ سے وابستہ تنظیموں کے درمیان رابطے کو بہتر بنایا جائے اور انتظامی اختلافات کو کھیلوں کی سرگرمیوں پر اثرانداز ہونے سے روکا جائے۔ ایونٹس کے انعقاد کے لیے واضح منصوبہ بندی اور ذمہ داریوں کا تعین بھی ناگزیر ہے۔نشتر پارک سپورٹس کمپلیکس قذافی اسٹیڈیم کے سائیکل ویلوڈروم کی بحالی محض ایک ٹریک کی مرمت کا معاملہ نہیں بلکہ ملک میں سائیکلنگ کے فروغ، نوجوان کھلاڑیوں کی تربیت اور کھیلوں کی سرگرمیوں کو زندہ رکھنے کی ضرورت ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ متعلقہ حکام اس اہم کھیلوں کی سہولت کی زبوں حالی دور کرنے اور بڑے مقابلوں کی بحالی کے لیے کب عملی اقدامات کرتے ہیں۔ مستقل توجہ اور مثر منصوبہ بندی کے ذریعے ویلوڈروم کو دوبارہ فعال بنایا جا سکتا ہے، بصورت دیگر اس کی موجودہ حالت کھیلوں کے فروغ کی کوششوں کو مزید متاثر کر سکتی ہے۔
