ملتان (مرزاندیم سے)پنجاب بھر میں ون ویلنگ، تیز رفتاری اور موٹر سائیکلوں پر خطرناک کرتب دکھانے کا رجحان نوجوانوں سمیت دیگر شہریوں کی زندگیوں کے لیے سنگین خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ سڑکوں پر ون ویلنگ کے دوران حادثات، نوجوانوں کے زخمی ہونے اور قیمتی جانوں کے ضیاع کے واقعات کے پیش نظر ٹریفک قوانین پر مؤثر عمل درآمد اور مستقل بنیادوں پر کارروائی کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔ دوسری جانب ون ویلنگ کے مقابلوں پر مبینہ شرط بازی اور سوشل میڈیا پر خطرناک کرتبوں کی تشہیر جاری ہے۔ ملتان سمیت صوبہ بھر میں2025 کے دوران پنجاب میں ون ویلنگ سمیت ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 4,791 اموات رپورٹ ہوئی تھیں، جبکہ 2024 میں یہ تعداد 4,139 تھی۔ ان اعدادوشمار کو ون ویلنگ سے ہونے والی اموات قرار نہیں دیا جا سکتاکیونکہ ان میں مختلف نوعیت کے ٹریفک حادثات بھی شامل ہیں۔ملتان میں رواں سال اب تک 9نوجوان زندگی کی بازی ہارچکے ہیں جبکہ درجنوں نوجوان معذورہوکرگھروں میں بیھٹے ہیں۔شرطوں کے حوالے سے اس وقت شہرمیں مختلف گروہ کام کررہے ہیں۔جمعہ اوراتوار خاص طور پرنادرن بائی پاس فلائی اورز۔شیرشاہ۔واپڈاٹاون اور انڈسٹریل اسٹیٹ سمیت شہر کی مختلف سڑکوں پریہ خونی کھیل کھیلاجارہاہے جس پرلاکھوں رویپے کی شرطیں لگائی جاتی ہیں۔صوبہ بھر میں رواں سال اس وقت تک ون ویلنگ میں ملوث افراد کے خلاف 1,147 مقدمات درج اور 1,233 افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ صرف ستمبر میں 151 افراد کی گرفتاریاں کی گئی ہیں۔ پولیس کی موٹر سائیکلوں میں غیر قانونی تبدیلیوں، خطرناک اسٹنٹس اور سوشل میڈیا پر ایسی سرگرمیوں کی تشہیر کے خلاف کارروائیاں صرف کاغزوں کی حد تک محدود ہوکر رہ گئی ہیں۔ ون ویلنگ کے مقابلوں پر ہونے والی شرط بازی کی روک تھام کے حوالے سے پولیس کی کارکردگی صفرہے۔متعلقہ اداروں کو یہ معلوم کرنا چاہیے کہ مخصوص مقامات پر موٹر سائیکل ریس اور خطرناک کرتبوں کے مقابلے کن مقامات پر منعقد کیے جاتے ہیں، ان کے لیے سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کو کون سے افرادجمع کرتے ہیں ، ان مقابلوں میں کتنی رقم کی شرطیں لگائی جاتی ہیں۔اس سلسلے میں ڈیجیٹل شواہد، مالی لین دین، مشتبہ گروپس کی سرگرمیوں اور موٹر سائیکلوں میں غیر قانونی تبدیلیاں کرنے والی ورکشاپس کی جانچ کی جا سکتی ہے۔ون ویلنگ کی روک تھام کے لیے ٹریفک پولیس، ضلعی پولیس، پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی اور ریسکیو 1122 کے درمیان مؤثر رابطہ ضروری ہے۔ صرف وقتی کریک ڈاؤن کے بجائے ان سڑکوں اور مقامات کی نشاندہی کی جانی چاہیے جہاں نوجوان اکثر خطرناک کرتب دکھاتے ہیں۔پولیس کو رات کے اوقات، تعطیلات اور خصوصی تہواروں کے دوران گشت بڑھانے، سیف سٹی کیمروں سے قانون شکنی کی نشاندہی کرنے، غیر قانونی طور پر تبدیل شدہ موٹر سائیکلوں کے خلاف کارروائی اور کم عمر ڈرائیوروں کی روک تھام پر توجہ دینی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ پولیس حکام کو ضلع وار درج مقدمات، گرفتاریوں، ضبط شدہ موٹر سائیکلوں اور ون ویلنگ سے منسلک حادثات و اموات کے اعدادوشمار باقاعدگی سے جاری کرنے چاہییں تاکہ کارروائیوں کی افادیت کا جائزہ لیا جا سکے۔ ون ویلنگ محض چند لمحوں کا خطرناک مظاہرہ نہیں بلکہ اس کے نتیجے میں نوجوانوں، راہ گیروں اور دیگر موٹر سائیکل سواروں کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔ اس لیے مؤثر قانون نافذ کرنے، والدین کی رہنمائی، محفوظ ٹریفک انتظامات اور قابلِ تصدیق اعدادوشمار کی بنیاد پر ہی اس مسئلے پر قابو پانے کی کوششیں نتیجہ خیز بنائی جا سکتی ہیں۔
ون ویلنگ

