اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ دنیا تیزی سے مصنوعی ذہانت کی طرف بڑھ رہی ہے اور پاکستان بھی اس شعبے میں تیزی سے پیش رفت کر رہا ہے، حکومت انسانی وسائل کی ترقی، تربیت، استعداد کار میں اضافے اور وظائف کے ذریعے اس جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ منگل کو سینٹ میں سینیٹر محمد اعظم خان سواتی کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت نے مصنوعی ذہانت کے حوالے سے مختلف اداروں، محکموں اور اقدامات کی تفصیلات مرتب کر رکھی ہیں جو تحریری طور پر ایوان میں دستیاب ہیں اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم کرنے سے ایوان کا وقت بچانے کے لیے تحریری جواب سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت بڑے پیمانے پر انسانی وسائل کی ترقی کے لیے قومی مصنوعی ذہانت پالیسی کے تحت کام کر رہی ہے جبکہ متعلقہ اداروں کے ذریعے تربیت، استعداد کار میں اضافے اور دیگر پروگراموں پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وظائف سے متعلق تفصیلات اور ان کی درست تعداد بھی سینیٹر محمد اعظم خان سواتی کو فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت کے ممکنہ منفی اثرات کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہر نئی ایجاد اور ٹیکنالوجی کے فوائد کے ساتھ بعض نقصانات بھی ہوتے ہیں۔

