Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • خان اور بشریٰ بی بی کا جیل میں طبی معائنہ
    • افغانستان سے ہونے والی دہشتگردی قابل تشویش پاکستان کی حمایت کرتے ہیں مارکو روبیو
    • مقبوضہ کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ نے بھارتی صحافی نِدھی رازدان سے شادی کرلی
    • پاکستان نے اسلامی دنیا کو نئی راہ دکھائی غیر ملکی اڈے حفاظت نہیں کر سکتے خواجہ آصف
    • فخر سعد عرفات کی جارحانہ بیٹنگ سہ ماہی سیریز پاکستان کے نام فخر زمان مین آف دی میچ عرفات مین آف دی سیریز
    • ملکی مسائل کا حل مذاکرات ذریعے ہی نکالا جا سکتا ہے: مولانا فضل الرحمن
    • لاہور:پاکستانی ٹیم کاسہ ملکی ون ڈے سیریز کا فائنل جیتنے کے بعد وتنگ ٹرا فی کے ہمراہ گروپ فو ٹو۔
    • امریکہ کی یوکرین کو 500پیٹریاٹ میزائلوں کی فروخت کی منظوری
    • بھارتی تنقید مکہ دفاعی معاہدے کی اہمیت کم نہیں کر سکتی: ترک وزیر خارجہ
    • مہنگائی پر عوام کا گلہ درست’ہمارا نہیں ٹرمپ کا قصور ہے: رانا ثنا اللہ
    • خانیوال:خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری مخدوم پیر عارف خان قریشی کی قبر پر پھولوں کی چادر چڑھا رہی ہیں۔
    • سہیل آفریدی کیخلاف اربوں کی کرپشن کے شواہد حاصل کرلیے گئے
    • آصفہ بھٹو کی مخدوم عارف زمان قریشی کی تعزیت کیلئے عارف آباد آمد
    • طالبان رجیم کیخلاف مسلح مزاحمت جاری اہم کمانڈرو ں سمیت چار اہلکار ہلاک
    • حتمی عدالتی فیصلوں کو بار بار چیلنج نہیں کیا جا سکتا :وفاقی آئینی عدالت
    • غلط معلومات’ فیک نیوز موجودہ دور کا سب سے بڑا چیلنج : عطا تارڑ
    • غلط معلومات’ فیک نیوز موجودہدور کا سب سے بڑا چیلنج : عطا تارڑ
    • محمود خان اچکزئی نے نواز شریف کی مدد سے ہاری سیٹ حاصل کی: بیرسٹر سیف
    • ایران سے مزاکرات جاری نیتن یاہو کا مشترکہ حملے کیلئے دباو تیاریاں مکمل امریکی انتظامیہ تقسیم
    • جی ایس پیٰ پلس پاکستان کی برآمدات صنعتی معیشت کیلئے لائف لائن کی حیثیت مریم نواز
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    ایران سے مزاکرات جاری نیتن یاہو کا مشترکہ حملے کیلئے دباو تیاریاں مکمل امریکی انتظامیہ تقسیم

    By Khabrain Newsنومبر 1, 2026
    Share Facebook Twitter Email WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    واشنگٹن’ تل ابیب’ تہران( نیوزایجنسیاں) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنا چاہتا ہے، بات چیت کا سلسلہ برقرار ہے ، امریکا کے پاس مذاکرات کے لیے وقت موجود ہے۔وائٹ ہائوس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ سے تہران کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ بات چیت ہورہی ہے، ایران مذاکرات کرنا چاہتا ہے اور مسلسل رابطے میں ہے۔ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ روایتی نوعیت کی جنگ نہیں، ایران کے جوہری ہتھیار کے خاتمے کے لیے بہت زیادہ رقم خرچ کی اور یہ مقصد حاصل کرلیا گیا ہے۔امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ ایران جنگ پر امریکی ٹیکس دہندگان کے زیادہ پیسے خرچ نہیں ہورہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر زور دے رہے ہیں کہ امریکا اور اسرائیل ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کریں اور اس کا آغاز امریکی وسط مدتی انتخابات کے فورا بعد کیا جائے۔امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ میں ایران سے نمٹنے کے طریق کار پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔ انتظامیہ کے بعض عہدیدار تہران کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے حامی ہیں، جبکہ دوسرے حکام ایران پر مزید فوجی حملوں کی حمایت کر رہے ہیں۔دوسری جانب اسرائیلی ٹی وی چینل 15 نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے ایران پر حملے کیلئے تمام تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوجی حکام کا خیال ہے کہ ایران کے ساتھ براہِ راست جنگ شروع ہونے کی صورت میں لبنان کی تنظیم حزب اللہ بھی محاذ کھول سکتی ہے۔رپورٹ کے مطابق اسی خدشے کے پیش نظر اسرائیلی فوج شمالی محاذ سے ممکنہ ڈرون اور میزائل حملوں کا بیک وقت سامنا کرنے کی تیاریوں کا جائزہ لے رہی ہے۔تاہم ایران پر کسی ممکنہ مشترکہ حملے کے حوالے سے امریکا یا اسرائیل کی جانب سے باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔ فی الحال یہ اطلاعات میڈیا رپورٹس اور متعلقہ ذرائع کے دعوئو ں پر مبنی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف بڑے فوجی آپریشن کی منظوری دینے کا امکان بڑھ سکتا ہے، اگر آئندہ وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو نقصان اٹھانا پڑا۔ امریکی نیوز ویب سائٹ ایکزیوس نے امریکی حکام کے حوالے سے یہ دعوی کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق ایک امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ اگر انتخابی نتائج کے باعث ٹرمپ خود کو سیاسی طور پر کمزور یا شرمندہ محسوس کریں تو وہ کوئی بڑا اور غیر معمولی قدم اٹھا سکتے ہیں۔ اسی پیغام کے ذریعے ایرانی حکام کو یہ باور کرانے کی کوشش بھی کی جارہی ہے کہ امریکا کے ساتھ معاہدے کا بہترین موقع موجودہ وقت ہے۔تاہم وائٹ ہائوس کے ایک عہدیدار نے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران سے متعلق ٹرمپ کے فیصلوں میں انتخابات کے نتائج کو بنیاد نہیں بنایا جائے گا۔دوسری جانب قطر کے ثالث امریکا اور ایران کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کیلئے سرگرم ہیں۔ قطری ثالثوں نے تہران میں 12 گھنٹے سے زیادہ بات چیت کی اور اس دوران وائٹ ہائوس سے مسلسل رابطے میں رہے۔رپورٹ کے مطابق مذاکرات میں مثبت پیش رفت کی بات کی گئی ہے، جبکہ بات چیت آگے بڑھانے کے لیے قطری دارالحکومت دوحہ میں بھی ملاقاتیں متوقع ہیں۔امریکا چاہتا ہے کہ کسی بھی نئے معاہدے میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملات شامل ہوں، جبکہ تہران کا مطالبہ ہے کہ امریکا پہلے اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرے، منجمد ایرانی اثاثے جاری کرے اور تیل کی فروخت پر عائد پابندیاں ختم کرے۔ایکسیوس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے اندر بھی ایران سے نمٹنے کے طریق کار پر اختلافات موجود ہیں۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو مبینہ طور پر ایران کے ساتھ کسی نئے معاہدے کے امکانات کے بارے میں شکوک رکھتے ہیں اور مزید فوجی دبا کے حامی ہیں۔اس کے برعکس نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور مشیر جیرڈ کشنر مذاکرات کی بحالی کی حمایت کر رہے ہیں۔ دوسری طرف ایران پر امریکہ کے ایک اور ممکنہ حملے کے حوالے سے ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا نے کہا ہے کہ اگر ایسا حملہ ہوا تو جنگ کا دائرہ وسیع ہو جائے گا۔ایرانی میڈیا کے مطابق ایکس پر اپنے بیان میں انھوں نے کہا کہ امریکی صدر کی جانب سے سفارت کاری سے دھوکہ کرنے کے سابقہ ریکارڈ کے پیشِ نظر، اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج دشمن کی کارروائیوں پر بھروسا کیے بغیر اور ان سے بے پروا رہتے ہوئے اپنی جنگی تیاریوں کو مسلسل بہتر بنا رہی ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ اگر امریکی صدر نے ایک بار پھر خطے میں دھمکیوں اور اسرائیل کو اکسانے کے ذریعے کوئی نئی مہم جوئی کی تو جنگ کی آگ یقینا وسیع علاقے تک پھیل جائے گی اور جنگ کب ختم ہو گی، اس کا فیصلہ ان کے ہاتھ میں نہیں ہو گا۔یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی ویب سائٹ ایگزیوس نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے معاہدے کے لیے قطری ثالثوں کی کوششیں دوحہ میں بھی جاری رہیں گی۔ ایک سینئر ایرانی سکیورٹی اور سیاسی عہدیدار نے بتایا ہے کہ ایران نے کسی بھی نئے حملے کا جواب دینے کے لیے اپنے تازہ فوجی منصوبے کو حتمی شکل دیدی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر عہدیدار نے بتایا کہ ایرانی مسلح افواج اس منصوبے پر عمل درآمد کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور تہران نے کسی بھی فوجی جارحیت کا جامع اور بڑے پیمانے پر جواب دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔عہدیدار نے خبردار کیا کہ ایران کے مخالفین اور خطے میں ان کے اتحادیوں کو ایرانی جوابی کارروائی کے پیمانے اور شدت پر حیرت ہوسکتی ہے۔انہوںنے کہاکہ اگر ایران کو ایسی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا جسے تہران دہشت گردانہ قرار دیتا ہے تو اس کا جواب بھی اسی پیمانے پر یا اس سے زیادہ وسیع ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ممکنہ جوابی کارروائی میں مخالفین اور ان کے علاقائی اتحادیوں کی تنصیبات، مراکز اور ہیڈکوارٹرز کو بھی نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جرمن چانسلر فریڈرک مرز پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی مسلح افواج کو نقصان پہنچانے والوں کو بڑا دھچکا دیں گے،یورپ کا 100 ارب یورو کا معاشی نقصان کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران پر امریکا اور اسرائیل کی بمباری شروع ہوئی تو فریڈرک مرز نے اس کی حمایت کی، جرمن چانسلر منافقت سے بھرپور کام انجام دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایرانی نقصان کے سامنے یورپ کا 100 ارب یورو کا معاشی نقصان کوئی اہمیت نہیں رکھتا، ریڈ لائنز کا دور اب ماضی کا قصہ بن چکا ہے۔جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے ایران پر ممکنہ نئے امریکی حملوں سے متعلق قیاس آرائیوں کے درمیان جنگ کے سفارتی حل پر زور دیا اور کہا کہ میں صرف تمام فریقوں سے یہ درخواست کر سکتا ہوں کہ وہ اس بات کو تسلیم کریں کہ اس تنازع کا کوئی فوجی حل موجود نہیں۔جرمن چانسلر کا کہنا تھا کہ ان کا ملک معاشی طور پر جنگ کے جلد خاتمے میں دلچسپی رکھتا ہے، اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں پہلے ہی یورپ کو 100 ارب یورو سے زیادہ کا نقصان پہنچا چکی ہیں۔علاوہ ازیں جرمنی کے وزیر خارجہ یوہان واڈے فل نے کہا ہے کہ جی 20 کے بیشتر ممالک کا موقف ہے کہ ایران کو امریکا کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی میز پر آنا چاہئے۔ انہوں نے حوثیوں سے حملے بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے روس پر بھی زور دیا کہ وہ بحیرہ اسود میں حملوں سے عالمی غذائی تحفظ کو خطرے میں ڈالنے سے باز آئے۔ ایرانی رکنِ پارلیمنٹ سید محمود نباوین نے کہا ہے کہ ایران جوہری عدم پھیلا کے معاہدے سے علیحدگی اختیار کرے اور اپنی جوہری پالیسی میں تبدیلی لائے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے ایرانی رکنِ پارلیمنٹ نے جوہری عدم پھیلائو کے معاہدے سے علیحدگی اور جوہری پالیسی تبدیل کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایرانی قانون سازوں اور دیگر اہم شخصیات کی جانب سے بھی اسی نوعیت کے مطالبات کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے لکھا کہ اب جبکہ ہم جنگ اور پابندیوں کی بھاری قیمت ادا کر چکے ہیں، وقت آ گیا ہے کہ ایرانی قوم این پی ٹی معاہدے سے علیحدگی اختیار کرے اور اپنی جوہری پالیسی تبدیل کرے۔ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق پارلیمنٹ میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن ابراہیم رضائی نے بتایا کہ معاہدے سے علیحدگی سے متعلق 10 تجاویز رجسٹرڈ کرائی جا چکی ہیں اور اس معاملے پر غور جاری ہے۔دوسری جانب ایرانی سیاست داں اور مذہبی رہنما محمد جواد حاج علی اکبری نے بھی ایران کی جوہری پالیسی پر نظرِ ثانی کا مطالبہ کیا ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے مسلح افواج کے کمانڈروں سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ دشمن اثاثے ٹارگٹ پررکھیں۔ ملکی دفاع کیلئے ہرکاوش کی جائے۔ایرانی مسلح افواج کے سربراہ میجر جنرل علی عبداللہی نے امریکا اور اسرائیل کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے نئے اہداف اور تنصیبات کی فہرست تیار کرلی ہے۔میجر جنرل علی عبداللہی نے کہا کہ ایرانی افواج دشمن کی نقل و حرکت اور تیاریوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں، دشمن کی کسی بھی جارحانہ کارروائی کی صورت میں پہل کا انتظار نہیں کریں گے۔ایرانی مسلح افواج کے سربراہ نے مزید کہا کہ ایران کا ردعمل فوری، مثر اور جغرافیائی حدود سے آزاد ہوگا۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایران کے ساتھ بات چیت شروع کرنے کی کوشش ایک مثبت قدم ہے۔قطری نشریاتی ادارے ‘الجزیرہ’ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی نے بتایا کہ ایران نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے بھیجے گئے ایک خط کا اعلی سطح کے اجلاسوں میں بغور جائزہ لیا ہے۔انہوں نے الجزیرہ کو بتایا کہ امریکی فریق کی جانب سے وسیع تر سطح پر بات چیت اور مفاہمت کے دروازے کھولنے کی کوشش ایک مثبت پیشرفت ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار بھی کیا کہ اگر اس خط کو بھیجنے کا واشنگٹن کا مقصد کوئی انتشار یا غلط فہمی پیدا کرنا ہے تو یہ اس کی پچھلی غلطیوں میں ایک اور غلطی کا اضافہ ہوگا۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا کہ فی الحال امریکی حکام کے ساتھ براہِ راست ملاقاتوں کا کوئی منصوبہ زیرِ غور نہیں ہے۔ ہمیں فی الحال امریکیوں سے ملنے کی کوئی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ ہماری شرائط بالکل واضح ہیں اور ثالث ان شرائط کے حوالے سے اپنی مشاورت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کے ساتھ براہِ راست یا بالواسطہ مذاکرات کرنے کا فیصلہ ایرانی شرائط کے پورے ہونے پر منحصر ہے۔ایرانی وزیر خارجہ نے انکشاف کیا کہ ثالثوں نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق کچھ تجاویز پیش کی ہیں جن پر اس وقت غور کیا جا رہا ہے۔ عباس عراقچی نے یہ بھی بتایا کہ ایک اعلی سطح کا ایرانی وفد ثالثوں کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کے لیے قطر روانہ ہو گیا ہے۔امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ ختم کرانے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے سفارتی کوششیں تیز ہوگئی ہیں ایرانی مذاکرات کار قطری ثالثوں سے بات چیت کے لیے دوحہ پہنچ گئے۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مذاکرات سے باخبر ایک عہدیدار نے بتایا کہ ایرانی وفد کی دوحہ آمد سے قبل جمعے کو تہران میں 12 گھنٹے سے زائد طویل مذاکرات ہوئے، جن کا مقصد جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی قابل قبول راستہ تلاش کرنا تھا۔تاہم دونوں ممالک کے مطالبات میں اختلاف برقرار ہے۔ امریکا چاہتا ہے کہ مذاکرات کے آغاز ہی سے ایران کے جوہری پروگرام پر رعایتیں دی جائیں جبکہ تہران کا مطالبہ ہے کہ پہلے ایرانی بندرگاہوں کی امریکی بحری ناکہ بندی ختم کی جائے، منجمد اثاثے بحال کیے جائیں اور تیل کی برآمدات پر پابندیاں نرم کی جائیں۔ اس دوران پاکستان، ترکی، مصر، عراق اور سعودی عرب بھی سفارتی کوششوں کے ذریعے خطے میں جنگ کے خاتمے کے لیے سرگرم ہیں۔
    ایران/امریکہ

    Khabrain News

      Keep Reading

      افغانستان سے ہونے والی دہشتگردی قابل تشویش پاکستان کی حمایت کرتے ہیں مارکو روبیو

      امریکہ کی یوکرین کو 500پیٹریاٹ میزائلوں کی فروخت کی منظوری

      بھارتی تنقید مکہ دفاعی معاہدے کی اہمیت کم نہیں کر سکتی: ترک وزیر خارجہ

      تازہ ترین

      سعودیہ جانیوالے مسافروں کیلئے لازمی ویکسی نیشن کی مدت میں ایک ماہ کی توسیع

      پانی ہماری ریڈلائن، روکنے کی کوئی بھی کوشش جنگی اقدام تصور ہوگی: وزیراعظم شہباز شریف

      سعودی عرب پر حملہ پوری امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے، فضل الرحمان

      باجوڑ میں موبائل سروس و انٹرنیٹ بند شہریوں کو مشکلات کا سامنا

      گورنر راج اور ایمرجنسی مسئلے کا حل نہیں حکومت کا چراغ بجھنے والا ہے:حافظ نعیم

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.