لاہور(کورٹ رپورٹر) لاہور ہائیکورٹ نے اراضی تنازع کے مقدمے میں دونوں اپیلیں مسترد کرتے ہوئے اپیل کنندگان پر دو لاکھ روپے مقدمے کے اخراجات بھی عائد کر دیے۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ ریونیو ریکارڈ میں تبدیلی کو چیلنج کرنے کے لیے قانون میں دستیاب اپیل اور نظرثانی کے فورمز سے رجوع کرنا ضروری ہے اور ریونیو حکام کے قانونی دائرہ اختیار میں کیے گئے فیصلوں کے خلاف متعلقہ اعلی ریونیو فورمز سے رجوع کیے بغیر براہِ راست سول عدالت سے رجوع نہیں کیا جا سکتا۔ جسٹس سلطان تنویر احمد اور جسٹس محمد ساجد محمود سیٹھی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے ماتحت عدالت کے 24 اکتوبر 2025 کے فیصلے اور ڈگری کو برقرار رکھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ متنازعہ اراضی کے معاملے میں اپیل کنندگان نے ریونیو محکمے کے اعلی فورمز سے رجوع کرنے کے بجائے مختلف عدالتوں میں مقدمات دائر کیے، جس سے طویل قانونی چارہ جوئی ہوئی، جبکہ ماتحت عدالت کے فیصلے میں مداخلت کی کوئی قانونی وجہ موجود نہیں۔ تحریری فیصلے کے مطابق سرکاری اہلکاروں پر بدنیتی، ملی بھگت اور دیگر الزامات عائد کرنے والے فریق پر انہیں قابلِ اعتماد شواہد سے ثابت کرنے کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ قانون کے مطابق کیے گئے سرکاری اقدامات کو محض بے بنیاد الزامات کی بنیاد پر مشکوک قرار نہیں دیا جا سکتا۔ عدالت نے قرار دیا کہ سول مقدمات میں جھوٹے الزامات کے ذریعے شہریوں کو بلیک میل کرنے کی حوصلہ شکنی ضروری ہے اور بغیر ثبوت سرکاری ملازمین پر الزامات ان کی حوصلہ شکنی اور فرض شناسی کو متاثر کر سکتے ہیں۔ عدالت نے مزید قرار دیا کہ اراضی کی ملکیت ثابت کرنے والے فریق کا حقِ قبضہ محض اس وجہ سے ختم نہیں ہوتا کہ دوسرا فریق زمین پر قابض ہے، جبکہ غیر منقولہ جائیداد پر قبضے کے حق کو وہی فریق چیلنج کر سکتا ہے جو اپنا حقِ ملکیت ثابت کرے۔ جائیداد کی قیمت کم ہونے کی بنیاد پر دوسرے فریق کے قانونی ملکیتی حقوق بھی ختم نہیں کیے جا سکتے۔ فیصلے کے مطابق اپیل کنندگان کے گواہ برکت اللہ نے متنازعہ مقام پر دکانوں کی موجودگی اور کرایہ وصول کرنے کا اعتراف کیا، جبکہ منظور احمد اور دیگر نے متنازعہ اراضی پر اپیل کنندگان کے برعکس حقِ ملکیت ثابت کیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ریونیو ریکارڈ کی درستگی کا معاملہ قانونی طریقہ کار کے مطابق طے کیا جانا چاہیے۔ متنازعہ اراضی سے متعلق سابقہ عدالتی فیصلوں میں اپیل کنندگان کو متاثرہ فریق تسلیم نہیں کیا گیا تھا۔ عدالت نے ماتحت عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے دونوں اپیلیں مسترد کر دیں۔
