جندول(نمائندہ خبریں )جندول سب ڈویژن سمیت ملاکنڈ ڈویژن میں لاکھوں این سی پی گاڑیوں کو قانونی حیثیت دینے کا مطالبہ، حکومت شفاف کسٹم پالیسی متعارف کرائیجائے۔ جندول سب ڈویژن سمیت ملاکنڈ ڈویژن میں نان کسٹم پیڈ (این
سی پی) گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ان کے مستقبل کے حوالے سے تاحال مستقل اور واضح قانون سازی نہ ہونے پر مقامی تاجروں اور شہریوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن میں موجود لاکھوں این سی پی اور کٹ گاڑیوں کو قانونی دائرے میں لانے کے لیے شفاف اور قابلِ عمل پالیسی مرتب کی جائے، تاکہ مناسب کسٹم فیس کی ادائیگی کے بعد ان گاڑیوں کو ملک بھر میں آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت دی جاسکے۔مقامی تاجروں کا کہنا ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن میں این سی پی گاڑیوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ گاڑیاں ایک طرف ہزاروں خاندانوں کے لیے روزگار اور کاروبار کا ذریعہ بنی ہوئی ہیں، جبکہ دوسری جانب ان کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث بازاروں اور اہم شاہراہوں پر ٹریفک کا دبا بھی بڑھ رہا ہے۔ خصوصا جندول، ثمرباغ، منڈا، تیمرگرہ ،سوات مینگورہ بٹخلہ،واڑء دیر بالا ،برول، چکدرہ اور دیگر تجارتی مراکز میں گاڑیوں کے رش کے باعث شہریوں اور تاجروں سمیت ہر شعبے کے لوگوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔مقامی لوگوں اورتاجروں کے مطابق این سی پی گاڑیوں کی خرید و فروخت سے مقامی سطح پر ایک بڑا کاروباری شعبہ وابستہ ہے، جس سے شو روم مالکان، مکینک، ڈینٹر، پینٹر، اسپیئر پارٹس فروش، ڈرائیورز اور دیگر محنت کشوں کو روزگار مل رہا ہے۔ تاہم واضح قانونی پالیسی اور ملک کے دیگر حصوں میں نقل و حرکت کی پابندیوں کے باعث اس کاروبار سے وابستہ افراد کو مسلسل غیر یقینی صورت حال کا سامنا ہے۔تاجروں کا کہنا ہے کہ اگر وفاقی اور صوبائی حکومتیں باہمی مشاورت سے تمام اقسام کی این سی پی اور کٹ گاڑیوں کے لیے ایک جامع اور شفاف کسٹم پالیسی متعارف کرائیں تو نہ صرف ان گاڑیوں کو قانونی حیثیت مل سکتی ہے بلکہ حکومت کو بھی ایک بڑی رقم قومی خزانے میں حاصل ہوسکتی ہے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے تجویز دی کہ بڑی گاڑیوں کے لیے دو لاکھ روپے اور چھوٹی گاڑیوں کے لیے ایک لاکھ اور کٹ گاڑیوں کے لیے پچاس ہزار روپے کی یکساں ابتدائی کسٹم فیس مقرر کرنے سمیت گاڑیوں کی نوعیت، ماڈل، انجن اور دیگر قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے قابلِ عمل نرخ طے کیے جائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت مناسب اور قابلِ برداشت فیس کے ذریعے گاڑیوں کو قانونی حیثیت دیتی ہے تو اس سے گاڑیوں کی خرید و فروخت کا کاروبار دستاویزی شکل اختیار کرسکتا ہے، قومی خزانے میں محصولات بڑھ سکتے ہیں، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں اور گاڑیوں کی ملک گیر نقل و حرکت کے حوالے سے موجود مشکلات بھی کم ہوسکتی ہیں۔مقامی تاجروں کے مطابق اس پالیسی سے صرف ملاکنڈ ڈویژن ہی نہیں بلکہ خیبر پختونخوا، پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے شہریوں کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ ان کے بقول گاڑیوں کی منڈی میں رسد بڑھنے اور قانونی کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملنے سے صارفین کو مناسب قیمتوں پر گاڑیاں دستیاب ہونے کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔تاجروں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے پر محض اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کیے جائیں، تمام موجودہ گاڑیوں کی رجسٹریشن، دستاویزات کی جانچ پڑتال، چیسز اور انجن نمبروں کی تصدیق، چوری شدہ یا غیر قانونی گاڑیوں کی چھان بین اور کسٹم ڈیوٹی کی ادائیگی کے لیے واضح طریقہ کار وضع کیا جائے، تاکہ کسی قسم کی بدعنوانی، غیر قانونی لین دین اور سرکاری محاصل کے ضیاع کی گنجائش باقی نہ رہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت ملاکنڈ ڈویژن کے منتخب نمائندوں، تاجر تنظیموں، ٹرانسپورٹ یونینز اور متعلقہ محکموں کے ساتھ مشاورتی اجلاس منعقد کرکے اس مسئلے کا مستقل حل نکالے، کیونکہ ہزاروں خاندانوں کا روزگار اس کاروبار سے وابستہ ہے۔مقامی تاجروں نے وزیراعظم پاکستان، وزیراعلی خیبر پختونخوا، وفاقی وزیر خزانہ، چیئرمین ایف بی آر اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ ملاکنڈ ڈویژن میں موجود این سی پی اور کٹ گاڑیوں کو قانونی دائرے میں لانے کے لیے خصوصی پالیسی تشکیل دی جائے اور مناسب کسٹم فیس کے عوض قانونی شرائط پوری کرنے والی گاڑیوں کو ملک بھر میں آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت دی جائے۔
