Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • سنا میر کیلئے بڑا اعزاز، کینیڈا سپر 60 ویمنز ٹرافی ان کے نام سے منسوب
    • آبنائے ہرمز میں ٹینکر نامعلوم چیز سے ٹکرا گیا
    • اسلام آباد میں ڈینگی کے وار 21 کیسز سامنے آگئے
    • کیمرون گرین جنوبی افریقہ کے خلاف پہلے ٹیسٹ سے باہر
    • آزاد کشمیر میں بارش اور برفباری درجہ حرارت میں نمایاں کمی
    • جنگ سے تباہ حال ایران کا ایشین گیمز میں شاندار کارنامہ، 52 تمغے جیت لیے
    • پی ٹی آئی مارچ اور دھرنا ختم کرے، حکومت مذاکرات کیلئے تیار : وزیراعظم شہباز شریف
    • آئرلینڈ، اسرائیل فٹبال میچ میں تھوکنے کے واقعے کی یوئیفا تحقیقات کرے گا
    • یمن میں انسانی بحران سے نمٹنے کیلئے فرانس مزید 3.36 ملین ڈالر فراہم کرے گا
    • خلیجی ممالک میں تیل کی سپلائی بحال عالمی منڈی میں قیمتیں کریش کرگئیں
    • NCCIA نے پوچھ گچھ کے بعد بھی محمد رضوان کا موبائل فون واپس نہیں کیا
    • پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ پابندیاں 10 روز تک برقرار رہیں گی
    • فلائی دبئی کے واقعے میں ایران کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا، امریکی نائب صدر
    • جماعت نہم کا پرچہ ری چیکنگ عمل بارے طلبہ اور والدین کا شدید تحفظات کا اظہار
    • سرکاری محکموں میں بھرتیوں کے عمل کو شفاف بنانا حکومت کی اولین ترجیحات امجد حسین
    • بجلی چوروں کیخلاف کریک ڈان تیز، رورل سب ڈویژن تلہ گنگ میں 4 ڈائریکٹ کنڈے پکڑے گئے
    • موٹر سائیکل چوری و دیگر وارداتوں میں ملوث گینگ کا سرغنہ گرفتار،11 مسروقہ موٹر سائیکل اور رقم برآمد
    • وزارتِ مکانات و تعمیرات نے قومی ہاسنگ پالیسی 2025 کا اجرا کر دیا
    • تین مسلح ڈاکوں نے گن پوائنٹ پر20ہزارنقدی، موبائل چھین لیا
    • ANFکا منشیات اسمگلنگ کیخلاف کریک ڈائون،11ملزمان گرفتار
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    سنا جا رہا ہے کہ میثاق لندن کی طرح دونوں جماعتوں میں سیاسی اشتراک عمل کی کوششیں ہو رہی ہیں : ضیا شاہد ، زرداری کیخلاف کاروائی کا خاص مقصد ، معمول کی بات نہیں : قمر زمان کائرہ ، ممنوعہ علاقے میں گئے تو قانون حرکت میں آئیگا : نگران وزیر اطلاعات ، چینل ۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو

    By Daily Khabrainجولائی 12, 2018
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ سیاست دان زبان کا شہ سوار ہوتا ہے۔ نوازشریف بڑی کھل کر بات کرتے ہیں۔ ان پر سیریس الزامات تھے۔ عدالت کے الفاظ یہ تھے کہ ان پر کوئی براہ راست کرپشن کا الزام ثابت نہیں ہوا۔ اگر ان کے بچے نابالغ تھے اور ان کو دنیا کے سب سے مہنگے شہر میں شاندار پراپرٹی خرید کر دے دیں پھر یہ ثابت بھی نہ کر سکیں کہ یہ پیسے ان کو کہاں سے آئے تھے اس کا وبال یقینا والدین پر آئے گا لہٰذا نوازشریف کا یہ کہنا کہ میں بالکل معصوم ہوں درست نہیں ان کو جواب دینا پڑے گا کہ ان کے بچوں کے پاس اتنے پیسے کہاں سے آئے۔ پیسے وہاں کیسے گئے۔ شرم آنی چاہئے ان لوگوں کو جو فاطمہ جناح کی پراپرٹی کی بات کرتے ہیں اس دور کے لوگ جو تھے فاطمہ جناح کی بات تو آپ رہنے دیں۔ رعنا لیاقت علی خان کا بتایا تھا کہ انہوں نے ہالینڈ کی ملکہ سے شرط میں ان کا محل کارڈز کھیلتے ہوئے جیت لیا اور انہوں نے کہا کہ میں جواب میں کچھ نہیں دے سکتی میرے پاس کچھ نہیں ہے جب ملکہ نیدرلینڈ نے کہا کہ اب کس کے نام کرنا ہے تو انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نام کرنا ہے میں نے کتاب لکھنے سے پہلے فارن آفس سے تصدیق کی ہے کہ ہالینڈ میں پاکستان کا سفارتخانہ ہے۔ میری معلومات کے مطابق نوازشریف جو تاریخ دان ہیں۔ کچھ آپ کو بھی یاد ہے کہ فاطمہ جناح یا قائداعظم کی بہت ساری پراپرٹی دنیا میں مختلف جگہ پر پھیلی ہوئی ہو اس کی کوئی منی ٹریل فاطمہ جناح دی ہو نہ قائداعظم نے دی ہو۔
    احمد وقاص نے کہا ہے آج ہوم ڈیپارٹمنٹ اور متعلقہ محکموں کی اس بارے میٹنگ ہوئی ہے اس بارے میں اور پنجاب گورنمنٹ اس باتت پر کمٹڈ ہے کہ اگر کوئی پرامن لوگ ہوں گے ان کو تو نہیں چھیڑا جائے گا لیکن اگر ممنوعہ علاقے میں جانے کی کوشش کرے گا تو قانون پر عمل کیا جائے گا اور اس سلسلے میں جو کوڈ آف کنڈکٹ ہے اس پر عمل کیا جائے گا ممنوعہ علاقوں سے مراد یہ ہے کہ جن علاقوں میں انٹری منع کی جائے گی! جمعے کو سارا پلان سامنے آ جائے گا لیکن اس میں جو کوڈ آف کنڈکٹ پر سختی سے عمل کیا جائے گا۔ پنجاب کی نگران حکومت اس کو سمجھتی ہے اور توقع رکھتی ہے جو لوگ امن و امان کی صورتحال کو خراب کریں گے اور کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔ اور الیکشن کے حالات سازگار ہیں۔
    ضیا شاہد نے کہا کہ نوازشریف نے ان لوگوں کا ذکر کیا جن لوگوں نے اس ملک کا آین توڑا ان کے خلاف کوئی سزا نہیں ہوئی ان کا اشارہ غالباً جنرل پرویز مشرف کی طرف ہے اور لیکن جہاں تک میری معلومات کا تعلق ہے کہ انہوں نے الزام لگایا فاطمہ جناح کی جو پراپرٹی باہر تھی اس کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا میری معلومات کے مطابق فاطمہ جناح کی کوئی پراپرٹی دنیا میں کہیں نہیں تھی۔
    احمد وقاص نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ میری معلومات اس سلسلے میں زیادہ نہیں ہیں پراپرٹی وغیرہ دوسرے ملکوں میں ہیں یا نہیں تاہم ہماری جو نگران حکومت کا بہت محدود مینڈیٹ ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم بروقت الیکشن کروائیں۔ اس وقت ہمارا فوکس ہے کہ الیکشن شفاف اور وقت پر ہوں۔ لیکن میں سمجھتا ہو ںکہ اس سلسلے میں آپ جو کہہ رہے ہوں گے ٹھیک کہہ رہے ہوں گے۔
    ضیا شاہد نے کہا کہ آصف زرداری صاحب تو کافی دیر سے نہ صرف خاموش تھے بلکہ انہوں نے نوازشریف صاحب کے اس بیانیے کو کہ وہ خلائی مخلوق آ کر مداخلت کر رہی ہے اور دوسرا یہ کہا جا رہا ہے زبردستی طور پر کہ وہ ایک پارٹی چھوڑ کر دوسری پارٹی میں شامل ہو جائیں اس بارے میں جناب آصف زرداری نے کبھی اس بیانیے کی حمایت نہیں کی تھی لیکن گزشتہ چند روز کے اوپر نیچے ایسے واقعات ہوئے ہیں کہ جس میں بعض الزامات عائد کئے گئے ہیں آصف زرداری صاحب اور ان کی ہمشیرہ محترمہ کے حوالے سے اور اب پچھلے 24 گھنٹے سے یہ خبریں گرم ہیں کہ یہ کہا جا رہا ہے کہ پیپلزپارٹی بھی مسلم لیگ کے ساتھ مل کر براہ راست یا بالخصوص جو ہے اس کے ساتھ سیاسی اشتراک، الحاق یا کم از کم ایک ہی لائن پر متوازی خطوط پر چلنے کا فیصلہ کرے کیونکہ سوکالڈ اسٹیبلشمنٹ جو ہے اس نے پوری یلغار جو ہے آصف زرداری، محترمہ فریال تالپور جو ان کی ہمشیرہ ہیں اور جن کا پارٹی میں بھی بڑا مقام ہے ان کے خلاف ذاتی قسم کے الزامات سامنے لائے گئے۔ آپ کیا فرماتے ہیں تازہ ترین صورت حال کیا ہے اور کیا اس قسم کی آپس میں بیچ بچاﺅ شروع ہے کہا جاتا ہے کہ دبئی میں اس پر بات چیت بھی شروع ہو گئی ہے۔
    قمرالزمان کائرہ نے کہا ہے کہ یہ ساری افواہیں ہیں۔ ہمارے پاس نہ کوئی اتحاد کی خبر ہے نہ کوئی اتحاد کا منصوبہ ہے میں اپنے تئیں اس کو مسترد کرتا ہوں۔ لیکن یہ بات بہرحال ایک قیافہ ہوتا ہے آپ ذہین ہیں
    اپنے اپنے بے وفاﺅں نے ہمیں یکجا کیا
    ورنہ تو میرا نہ تھا میں بھی تیرا نہ تھا
    ماضی میں ہوتا رہا ہے قیاس تو کیا جا سکتا ہے اس کے آثار نہیں ہیں اگر جماعتوں کو، سسٹم کو اسی طرح چلایا جائے جس طرح چلایا جا رہا ہے میڈیا والے تو سنجیدہ لوگ ہیں۔ سیاسی لوگ بھی بات کر رہے ہیں کہ آئین کے دائرے میں جو مینڈیٹ ہے اس میں رہ کر اپنا اپنا رول ہے کرنا چاہئے اب یہ پریکٹس بھی دنیا کی ہے کہ دنیا میں جمہوری نظام جہاں جہاں چلا وہاں پر اس کو اس کی روح کے مطابق چلایا جائے گا تو تب چلے گا ورنہ اس میں جتنے بھی تجربے کئے جائیں گے وہ خرابیوں کا باعث بنے جس کے شاخسانے ہم 70ءمیں دیکھ چکے ہیں اور تب سے مشکل حالات ہم پر پہلے بھی گزر چکے ہیں ہمیں سیاستدانوں، عدلیہ فوج کو بھی پکڑنا کو بھی ایگزیکٹو کو بھی ماضی کی غلطیوں سے سیکھنا چاہئے۔ اس پر ڈٹ جانا کہ جو میں کہہ رہا ہوں وہ زیادہ درست ہے، وہ میر وفاداری پاکستان سے زیادہ ہے ضیا صاحب کی نہیں ہے یہ شاید رویہ درست نہیں۔
    ضیا شاہد نے کہا کہ اس قسم کی صورت حال پیش آتی ہے کہ پیپلزپارٹی جو اب تک سموتھلی چل رہی تھی اور اپنے طور پر الیکشن میں حصہ لینے کی بھرپور تیاریاں کر رہی تھی۔ اگر آج اس کے دو بڑے لیڈروں کو طلب کیا جاتا ہے نیب میں تو آپ کیا اس صورتحال کو معمول کا حصہ سمجھتے ہوئے وہاں جا کر صفائی دیں گے یا آپ اسش پر ری ایکٹ کرتے ہوئے وہ جو نوازشریف صاحب کا بیانیہ ہے کہ وہ نیب کے اس سارے عمل کو نہیں مانتے ان کو ساتھ دیتے ہوئے ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے کہ ہم نیب کی ان کارروائیوں پر اعتماد نہیں کرتے۔
    قمرالزمان کائرہ نے کہا کہ پیپلزپارٹی کا موقف ہے اور ہم محسوس کرتے ہیں کہ یہ جو کارروائی شروع کی گئی ہے یہ 2014ءکی تحقیقات ہے اس کو الیکشن سے چند دن قبل نکالا گیا ہے اور اس کا کوئی مقصد ہے یہ سادہ اور عام بات نہیں ہے۔ ہمیں عدالت جانے اور تحقیقات سے اعتراض نہیں ہے ایک بات کا افسوس ہے میاں نوازشریف کے خلاف نیب کورٹ میں ریفرنس سپریم کورٹ بھیج رہی ہے سپریم کورٹ انہیں تسلی کے بعد ریفرنس بھیج رہی ہے مانیٹرنگ جج مقرر کر رہی ہے لیکن ان کے نام ای سی ایل میں شامل نہیں کئے جاتے آصف زرداری صاحب کو نہ سمن کیا جاتا ہے نہ سوال کیا جاتا ہے۔ نہ ان سے پوچھا جاتا ہے اور ان کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا جاتا ہے اور سیرا میڈیا تین دن اس کا ڈنڈھورا پیٹتا ہے اور پتہ نہیں کیا کیا کہتا ہے پیپلزپارٹی نے بیٹھ کر اپنا موقف دینا چاہتی ہے۔ کل ہم نے اپنی میٹنگ کے بعد پریس کانفرنس کر کے اپنا موقف دینا چاہتے تھے تو سارے میڈیا میں اسش کو مکمل طور پر آﺅٹ کر دیا جو بڑا افسوسناک ہے۔

     

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      سنا میر کیلئے بڑا اعزاز، کینیڈا سپر 60 ویمنز ٹرافی ان کے نام سے منسوب

      آبنائے ہرمز میں ٹینکر نامعلوم چیز سے ٹکرا گیا

      اسلام آباد میں ڈینگی کے وار 21 کیسز سامنے آگئے

      تازہ ترین

      سنا میر کیلئے بڑا اعزاز، کینیڈا سپر 60 ویمنز ٹرافی ان کے نام سے منسوب

      آبنائے ہرمز میں ٹینکر نامعلوم چیز سے ٹکرا گیا

      آزاد کشمیر میں بارش اور برفباری درجہ حرارت میں نمایاں کمی

      جنگ سے تباہ حال ایران کا ایشین گیمز میں شاندار کارنامہ، 52 تمغے جیت لیے

      پی ٹی آئی مارچ اور دھرنا ختم کرے، حکومت مذاکرات کیلئے تیار : وزیراعظم شہباز شریف

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.